ہم کو اڑنے میں کیا قباحت تھی

طالبان حکومت سے تو خیر ہمیں کیا غرض یعنی انگار جانے لوہارجانے ‘ کہ یہ ٹھیکہ ویسے بھی امریکہ اور مغربی دنیا نے لے رکھا ہے کہ طالبان کی ہر بات ‘ ہر اقدام پراعتراضات کرکے ان کو دنیا میں تنہائی کا شکار کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا جاتا ‘ طالبان حکومت کوحیلے بہانوں سے تسلیم نہ کرتے ہوئے کابل حکومت کے ساتھ تجارتی روابط بحال کئے جاتے ہیں نہ ہی ان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کسی امداد کے قابل سمجھا جارہا ہے ‘ یہاں تک کہ ان کی اپنی دولت جو امریکی بینکوں میں محفوظ ہے’ انہیں دی جارہی ہے تاکہ وہ دنیا کے ساتھ اپنے معاملات چلانے کے قابل ہوسکیں ‘ البتہ یہ جوخبر کابل سے آئی ہے اس نے کئی برس پہلے کے خیبر پختونخوا میں ایم ایم اے دور کی یاد ضرور دلا دی ہے ‘یعنی امارات اسلامیہ نے افغانستان میں خواتین سے متعلق نئے قوانین کاا علان کرتے ہوئے ٹی وی چینلز کو آٹھ نکاتی ہدایات بھیجی ہیں ‘ نئے قوانین میں خواتین پر ٹی وی ڈراموں میں کام کرنے پر پابندی عاید کردی گئی ہے خواتین رپورٹرز اور اینکرز کوحجاب پہننا ہو گا ‘ غیر ملکی ثقافت کو فروغ دینے والی فلموں پر پابندی عاید کرنے کے ساتھ اسلامی قوانین اور افغان اقدار کے منافی فلموں پر بھی پابندی عاید ہوگی’ افغانستان میں صحافیوں کی تنظیم کے رکن محب اللہ مجددی نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے جاری کئے گئے اقدامات غیرمتوقع تھے ‘ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چند احکامات پرعمل کرنا ممکن نہیں ہے اور ایسا کرنا پڑاتو چینل کے پاس بند کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہو گا۔ یعنی بقول احمد مشتاق
یہ جو بھی ہو بہار نہیں ہے جناب من
کس وہم میں ہیں دیکھنے والے پڑے ہوئے
ابھی حال ہی میں افغانستان میں کسی چینل پر کام کرنے والی ایک خاتون صحافی اور اینکر کی ایک تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ سڑک کنارے بیٹھی اپنے استعمال شدہ لباس دیوار سے لٹکائے اور اپنے سامنے زمین پررکھ کر فروخت کرتے ہوئے نظر آئی ‘ یعنی وہاں اگر خواتین اینکرز اور صحافی خواتین کا یہ حشر ہو رہا ہے تو ڈراموں میں کام کرنے والی خواتین کی حالت کا اندازہ لگانے میں کیا مشکل پیش آسکتی ہے اور اب تو ان پر مکمل پابندی عاید کر دی گئی ہے ‘حالانکہ ایران میں امام خمینی کے لائے ہوئے انقلاب کے بعد ایرانی فلم انڈسٹری پر بھی بعض پابندیاں عاید کر دی گئی تھیں تاہم وہاں خواتین کوحجاب کی پابندیوں کے ساتھ فلموں میں کام سے نہیں روکا گیا ‘بلکہ ایسی کہانیوں پرمبنی فلمیں تخلیق کی گئیں جن میں روایتی عشق و محبت کی بجائے عورت کے کردار کوزیادہ بھر پور اورمضبوط انداز میں قربانی دینے والی ماں ‘محبت کرنے والی بہن ‘ مرمٹنے والی بہن اور بیٹی کے روپ میں پیش کرکے نئی جہتیں تلاش کی گئیں ‘ بہرحال ہر ملک کی اپنی پالیسی ہوتی ہے اور ہر معاشرہ اپنے اقدار کے مطابق آگے بڑھتا ہے ‘ اس لئے طالبان جانیں اور ان کے قوانین ‘ جن پر ہمیں تو حق نہیں حاصل کہ اعتراض اٹھائیں اور اسی وجہ سے ہمیں ایم ایم اے کا دور یاد آگیا جب انہوں نے پشاور میں ڈراموں پر توکوئی پابندی عاید نہیں کی ‘ البتہ موسیقی کے پروگراموں اور ان سے وابستہ فنکاروں پر عرصہ حیات تنگ کرتے ہوئے ڈبگری اور نمک منڈی میں قائم ان کے بالاخانوں میں مقیم خصوصاً لختئی(ناچنے والے لڑکوں) کو صوبہ بدر کرنے کے اقدامات اٹھائے جبکہ اس صورتحال سے پشتو زبان کے کئی نامور گلوکاروں نے نہ صرف صوبہ بدری بلکہ بعض نے تو ملک بدری اختیار کی اور مختلف ملکوں میں پناہ ڈھونڈنے ہی میں عافیت سمجھی ‘ یہاں تک کہ اس صورتحال سے بعض فنکاروں (اداکاروں) نے بلی کے بھاگوں چھیکا ٹوٹا کے مصداق فائدہ بھی اٹھایا کہ انہوں نے امریکہ ‘ برطانیہ اور دیگر مغربی ملکوں میں پناہ حاصل کرکے وہاں مستقل سکونت بھی اختیارکرلی’ ایسے کئی اداکار آج بھی وہاں مقیم ہیں کیونکہ یہاں ان کی آمدنی کے ذرائع انتہائی مسدود ہونے کی وجہ سے انہیں روٹی کے لالے پڑ گئے تھے ‘ جیسا کہ آج کل لاتعداد صحافی ‘اینکر اور اخباری کارکن بے چارے بے روزگاری کے عفریت سے لڑ رہے ہیں ‘ جنہیں مختلف وجوہات کی بناء پران کے اداروں سے نکال دیاگیا ہے ‘ یعنی بقول صاحب شاہ صابر مرحوم
خبرہ دا نہ وا چہ نہ الوتُو
خبرہ دا وہ چہ وزرے نہ وی
اس کو راقم نے اردو کے قالب میں یوں ڈھالنے کی کوشش کی ہے کہ
ہم کو اڑنے میں کیا قباحت تھی
بات اتنی کہ بال وپر ہی نہ تھے
اس ساری صورتحال میں ہمیں برصغیر میں تھیٹر اور ڈرامے کی روایات یاد آگئی ہیں ‘ جب اسی طرح تھیٹر پر ابتداء میں خواتین کے کرداربھی مرد ہی ادا کرتے تھے ‘ کیونکہ معاشرتی روایات خواتین کو سٹیج ڈراموں اور تھیٹروں میں کام کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتے تھے ‘ یوں خوبصورت مرد زنانہ لباس میں اور وضع قطع کے ساتھ ان تھیٹروں پرلڑکیوں کے کردارادا کرتے نظر آتے تھے ‘ بہت بعد میں کچھ پارسی خاندانوں کی خواتین نے جرأت کرتے ہوئے ان تھیٹروں پر اداکاری شروع کردی تھی یہ روایت یعنی مردوں کا خواتین کے کرداروں میں سٹیج ڈراموں میں جلوہ گر ہونا ایک عرصے تک جاری رہا ‘ ہمیں اپنے کالج کا زمانہ یاد آرہا ہے جب گورنمنٹ کالج پشاور میں ہرسال ڈرامہ سٹیج کیا جاتا تھا تو احمد ندیم قاسمی کے تحریر کردہ ڈرامے میں(بعد میں ٹی وی کے مشہور فنکار) پروفیسرمحمد رفیق نے شہزادی بلقیس کا کردارادا کرکے بہت داد سمیٹی تھی ‘ اسی نے ان کے شوق کو جلا بخشی اور وہ ٹی وی ڈراموں سے وابستہ ہوئے۔ اس لئے ہم سوچتے ہیں کہ یہ جوطالبان نے خواتین صحافیوں اور اینکرز کو حجاب کا پابند کر دیا ہے اس پر تو کسی نہ کسی طریقے سے عمل درآمد ممکن ہو ہی جائے گا تاہم ڈراموں میں خواتین پرپابندی کے بعد کیا وہاں خواتین کے کرداروں کے لئے بھی مرد ہی بھیس بدل کر اداکاری کرتے نظر آئیں گے؟اور اگرایسا ہوا توپھرخواتین اداکارائوں کو سڑک کنارے اپنے استعمال شدہ لباس فروخت کرکے زندگی گزارنے کے لئے ابھی سے تیار ہو جانا چاہئے ‘ بقول فیض
حضور یار ہوئی دفتر جنوں کی طلب
گرہ میں لے کے گریباںکا تارتار چلے