ٹکٹوں کا جھگڑا

جمہوریت مساوات میرٹ اور کارکنوں کی رائے کو اہمیت دینے کی دعویدار سیاسی جماعتوں میں بلدیاتی انتخابات کے لئے ٹکٹوں کی تقسیم مشکلات و اختلافات اور کارکنوں کی جانب سے ا ظہارناراضگی اور عدم اعتماد وشکایات کسی ایک جماعت کے حوالے سے ہی سامنے نہیں آئیں بلکہ تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار اور احتجاج ہو رہا ہے بعض کارکنوں کی جانب سے آزادانہ انتخاب لڑنے کا بھی عندیہ دیا جارہا ہے سیاسی جماعتیں امیدواروں کا میرٹ پر فیصلہ کیوں نہیں کر سکتیں سالوں سے سیاست سیاست کھیلنے والوں اور انتخابات کے معلوم دنوں کے باوجود بھی تیاری و مشاورت کیوں نہیں ہوتی دیرینہ کارکنوں کوعین وقت پر نظرانداز کیوں کیا جاتا ہے اور ٹکٹ کن کو اور کس بناء پر جاری کئے جانے کا معمول ہے یہ سارے سوالات ایک ہی جواب سے جڑے اور پیوست نظر آتے ہیں وہ یہ کہ پارٹی کے بااثراور مقتدر عناصر جماعتی نمائندگی اور ٹکٹوں کے اجراء کو اپنے اہل خاندان اور عزیز و اقارب تک محدود رکھنا چاہتے ہیں دوستی کا لحاظ رکھا جاتا ہے’ گروپ بندی میں اپنے گروپ کے کسی فرد کو آگے لانے کے لئے لابنگ کی جاتی ہے اور رقم خرچ کرنے والے ہیوی ویٹ کوٹکٹ مل جاتا ہے اس سارے عمل میں وہ کارکن جنہوں نے وقت دیا ہوتا ہے ‘جدوجہد کی ہوتی ہے ‘ان کی سیاسی تربیت ہوئی ہوتی ہے ‘گرم سرد چشیدہ ہونے کے ناطے سیاسی سوجھ بوجھ عوامی مفاد سیاسی دائو پیچ سے واقف اور برداشت و تحمل اور رواداری سے آشنا اور روبہ عمل ہونے کے قابل ہوا ہوتا ہے اسے سراسر نظر انداز کرکے نوواردوں اور نو دولتیوں یا با اثر خاندانوںاورافراد کی جھولی میں پارٹی ٹکٹ ڈال دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں کارکنوں میں بددلی و اشتعال فطری امر ہوتا ہے سیاسی جماعتیں اگر ٹکٹ کے اجراء کے لئے بھی پارٹی عہدیداروں اور ورکروں کی خفیہ رائے شماری سے فیصلہ کرنے کا طرز عمل اپنائیں تو شکوہ شکایات اور پارٹی میں انتشار کے موقع سے ہی محفوظ نہیں رہیں گی بلکہ میرٹ پرانتخابی امیدوار اگرعوام سے بھی ووٹ لیکر منتخب ہو جائے تو ان سے عوام کی خدمت اور حق نمائندگی ادا کرنے کی توقع وابستہ ہوسکتی ہے کامل اتفاق سے ٹکٹوں کی تقسیم سے جماعتی توڑ پھوڑ کا خطرہ بھی نہ ہونے کے برابر رہے گا اور پارٹی مضبوط ہو گی اور وفادار کارکنوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا لیکن جہاں ابتداء ہی میں اینٹ ٹیڑھی رکھی جائے اس پر کھڑی ہونے والی عمارت کی کجی فطری امر ہوگا۔محولہ قسم کی بدعت کی عادی کوئی ایک جماعت نہیں لے دے کے جماعت اسلامی ہی ایسی جماعت نظر آتی ہے جس میں انتخاب اور انتخابات کے حوالے سے ہوم ورک سے لیکر نمائندگی کے لئے ممکنہ بہتر امیدواروں کے انتخاب کا رواج چلا آرہا ہے باقی ساری جماعتیں اس حمام میں یکساں طور پر بے لباس دکھائی دے رہی ہیں۔ ہمارے نامہ نگارکی تفصیلی رپورٹ کے مطابق بلدیاتی انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کے مسئلے پر تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی
کو کارکنوں کی ناراضگی کا سامنا ہے پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات کے باعث عہدیدار مستعفی ہونے لگے ہیں۔مشرق ٹی وی کے پروگرام سنٹر پوائنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران خان بنگش نے کہا کہ پی ٹی آئی میں کوئی غلام نہیں ہے پارٹی کارکنان اپنی رائے رکھتے ہیں دیگر جماعتوں میں پارٹی ورکرز کو بولنے کی بھی اجازت نہیں ہے پی ٹی آئی کا حسن ہے کہ ورکر ناراض ہو کر بھی عمران خان اور محمود خان کے ساتھ کھڑا ہے۔ کامران بنگش نے بتایا کہ بلدیاتی انتخابات کیلئے جاری ٹکٹ کے معاملہ پر جہاں جہاں سنگین نوعیت کے اختلافات ہیں وہاں کے کارکنوں کو وزیر اعلیٰ محمود خان خود بلا کر ان کے گلے شکوے سنیں گے اور انہیں اعداد و شمار کی مدد سے بتایا جائے گا کہ پارٹی ٹکٹ کس بنیاد پر جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ تین سے چار روز مشکل ہوںگے لیکن پارٹی کو متحد کرتے ہوئے میدان میں اتارا جائے گا اور جیت پی ٹی آئی کی ہوگی۔ پشاورکے میئر کے لئے ٹکٹ کے معاملہ پر پاکستان پیپلز پارٹی میں بھی اختلافات سامنے آگئے ہیں، ایک روزقبل جاری کیا گیا ٹکٹ پارٹی قیادت نے کینسل کرتے ہوئے سیاسی خاندان کے امیدوار کو پارٹی ٹکٹ جاری کردیا ہے ۔بعض دیگر جماعتوں میں ا ختلافات کی بلی تھیلے سے باہر نہیں آئی لیکن وہاں پربھی اقرباء پروری نمایاں ہے وہاں پر اندھے کی طرح ہی ریوڑیاں بانٹی گئی ہیں۔ مشکل امر یہ ہے کہ بلدیاتی ادارے بااثر سیاسی خاندانوں کے اکھاڑے بن چکے ہیں یہ ادارے بنیادی جمہوریتوں اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کا مقصد پورا کرتے نظرنہیں آتے بلکہ سیاست دانوں کے بیٹے’ بھتیجوں کی تربیت گاہیں ہیں پہلے وہ بلدیاتی سیاست میں آتے ہیں اور پھر صوبائی اور قومی سیاست میں کود پڑتے ہیں ۔ان کا یکساں طریقہ کار یہ چلا آرہا ہے کہ یہ سیاسی بڑے اپنے ہی گھرانے کے کسی فرد کو سینٹ’ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں لانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں ۔ خود ایم پی اے بنتے ہیں اور اگلے الیکشن میں اپنے ہی بیٹے بھتیجے کو اس صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر کھڑاکرکے خود قومی اسمبلی کی نشست کے امیدوار ہوجاتے ہیں اور یوں اس سے اگلے الیکشن میں اپنے عزیزوں کو صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں پر کھڑا کرکے پھر انہی کے زور پر خود سینٹ میں کنگ میکر بن کر بیٹھ جاتے ہیںجب تک یہ سلسلہ جاری ہے اس وقت تک بلدیاتی انتخابات کے انعقاد اور بلدیاتی اداروں کا حقیقی مقصد حاصل نہیں ہوسکتا بلدیاتی اداروں کو قبل از انتخابات ہی یرغمال بنایا جائے تو بعد ازانتخاب ان اداروں کی کارکردگی کی توقع ہی عبث ہے سیاسی قیادت کو بلدیاتی اداروں میں عوام کی نمائندگی اور ان کے مسائل کے حل کے لئے اپنے ان کارکنوں کو آگے لانا چاہئے جوحقیقی معنوں میںسیاسی کارکن اور خود ان کی جماعتوں کااثاثہ ہیں بصورت دیگر پارٹی میں انتشار ‘ بغاوت اور عوام کی جانب سے عدم اعتماد اوربیزاری کا سامنا فطری امر ہوگا اس ساری صورتحال میں عوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خود اپنے اپنے علاقے اور شہر کے مفاد میں میرٹ پرووٹ دے کر فعال بلدیاتی قیادت کا انتخاب کریں عوام کو خود اپنے مفاد میں تعصب اور گروہی مفادات و وابستگی سے بالاتر ہوکرایسے نمائندوں کا انتخاب کرنا چاہئے جو ان کی نظر میں بہترین نہ بھی ہوں تو کم تر برائی کے معیار پر ہی پورا اترتا ہو تاکہ کل وہ اس سے رابطہ و استفسار میں زیادہ مشکل محسوس نہ کریں۔