سگریٹ نوشی

سگریٹ پینے والے 95 فیصد افراد نقصان دہ عادت چھوڑنے کے خواہشمند

ویب ڈیسک: ملک کے بڑے شہروں میں ایک سروے کیا گیا جس میں انکشاف ہوا کہ سگریٹ نوشی کرنے والے کم و بیش 86فیصد پاکستانی اس سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں لیکن بارہا کوششوں کے باوجود بھی ناکام ہیں۔

ان میں سے 95 فیصد پاکستانیوں نے بتایا کہ وہ یہ نقصاندہ نشہ چھوڑنے کے لیے متبادل کی طرف جارہے ہیں۔ اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں ایسوسی ایشن فار اسموکنگ الٹرنیٹیوز پاکستان (اے ایس اے پی) کے بانی و سی ای او نے میڈیا سے تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ماننا ہے سگریٹ پینے والوں کے لیے سگریٹ چھوڑنا ہی بہترین انتخاب ہے لیکن بے شمار اسموکرز سگریٹ نہیں چھوڑ پاتے۔

انہوں نے کہا کہ وہ افراد جو سگریٹ نہیں چھوڑ سکتے انہیں چاہیے کہ ای-سگریٹ یا گرم تمباکو جیسے محفوظ متبادل کی طرف بڑھیں۔ اے ایس اے پی کی جانب سے کیے گئے سروے میں 600 سگریٹ نوشی کرنے والوں اور متبادل استعمال کرنے والوں کو شامل کیا گیا تاکہ ملک میں سگریٹ کے متبادل کے بارے میں لوگوں کے تصور سے متعلق آگاہی حاصل کی جاسکے۔

یہ تحقیق نومبر کے آغازمیں شروع ہونے والی مہم کا جز ہے جس کا مقصد 10 لاکھ پاکستانیوں کو سگریٹ کے نشے سے آزاد کروانا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس سے سگریٹ کا نشہ کرنے والے افراد کی تعداد کم کرنے میں مدد ملے گی۔ سروے میں شرکا سے سگریٹ چھوڑنے کی وجوہات پوچھی گئیں اور ان تمام نے کہا کہ بہتر صحت اس کی اہم وجہ ہے اور 98 فیصد شرکا کا کہنا تھا کہ سگریٹ چھوڑنے سے ان کی صحت بہتر ہوئی ہے۔

یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق الفا اور ڈیلٹا یا الفا اور بیٹا کے ساتھ مخلوط انفیکشن نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ اس مطالعے کے سربراہ مصنف پروفیسرکن چاوشانگ نے ایک بیان میں کہا کہ”ہمارے نئے مطالعے نے ہمیں ڈیلٹا متغیّرکے غلبے کے بارے میں بہتر بصیرت دی ہے۔ اگرچہ ہم نے یہ ظاہر کیا ہے کہ یہ قسم واضح طور پر سب سے زیادہ متعدی ہے

اور شریک انفیکشن میں دیگراقسام کی پیداوار کو فروغ دیتی ہے، ہمیں یہ ظاہر کرتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ ٹی جی ان سب کے خلاف اتنا ہی مؤثر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نتائج مل کر ٹی جی کی اینٹی وائرل صلاحیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ایک پوسٹ ایکسپوزر پروفیلیکٹک اور ایک فعال تھراپیوٹک ایجنٹ ہے۔ ڈیلٹا کو ابھی تک سب سے خطرناک قسم کے طور پر دیکھا گیا ہے۔