سیزن کے باوجود سٹہ کم مقدار میں

سیزن کے باوجود منڈیوں میں سٹہ کم مقدار میں پہنچنے پر تاجر پریشان

ویب ڈِس: پشاور کی منڈیوں میں رواں سال سیزن میں سٹے کم مقدار میں پہنچنے کی وجہ سے تاجر پریشان ہوگئے جس کی وجہ سے اس کاروبار سے وابستہ ہزاروں کی تعداد افراد کا روزگار خطرے میں پڑ گیا ۔

لاہوری گیٹ میں قائم پشاور کی سب سے بڑی اور تاریخی سٹہ منڈی جہاں پر ہر سال صوبے کے دوسرے اضلاع سے سٹے بڑی تعداد میں پہنچتے ہیں امسال پیداوار کم ہونے کی وجہ سے بہت کم مال آیا ہے جبکہ پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے نرخ میں بھی حد درجہ اضافہ ہوا ہے ۔ لاہوری سٹہ منڈی میں سالوں سے کام کرنے والے تاجروں کا کہنا ہے کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ پیداوار میں کمی آرہی ہے جس کی بڑی وجہ زرعی زمینوں کا تیزی کے ساتھ خاتمہ ہے ۔

ان کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع جن میں مردان، صوابی ، چارسدہ شامل ہیں سے سٹے پشاور کی منڈی کو سپلائی ہوتے ہیں لیکن اب چونکہ ان اضلاع میں زرعی زمینوں پر تعمیرات کا کام ہورہا ہے اس کی وجہ سے سپلائی میں حد درجہ کمی آئی ہے اور اس کی وجہ سے کاروبار پر تقریباً 75فیصد منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اس کاروبار سے وابستہ کئی افراد فاقوں پر آگئے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب پشاور کی تاریخی منڈی مکمل طور پر بند ہوجائیگی۔ تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زرعی زمینوں کے خاتمہ اور سٹہ کی مقامی پیداوار میں کمی کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائے تاکہ صوبہ سٹوں کی پیداوار میں خودکفیل رہے۔