غذائی عدم تحفظ نیا سنگین چیلنج

ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے پاکستان کو کورونا وائرس کی وباء کے بعد ایک طرح کے نئے طاعون کا سامنا ہے جو غذائی عدم تحفظ کا ہے۔ پاکستان اس وباء سے پہلے بھی اپنے طور پر غذائیت کے مسئلے سے نبردآزما تھا تاہم کورونا کی وباء اور پھر اس کے ساتھ پاکستانی روپے کی قدر میں گراوٹ نے ملک کو غذائیت کے حوالے سے ہنگامی صورتحال سے دوچار کردیا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان دنیا میں زیادہ آبادی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر ہے اور اس کی آبادی میں مسلسل اضافہ بھی ہو رہا ہے ۔ ملک میں غربت کی سطح بڑھنے اور غذائی پیدوار میں کمی نے ہمارے لئے شدید غذائی عدم تحفظ کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔ پاکستان میں آبادی بڑھنے کی شرح دو اعشاریہ چار فیصد ہے جو جنوبی ایشیاء میں سب سے زیاد ہ شرح ہے ۔ ملک میں تقریباً چالیس فیصد آبادی غربت کی لیکر سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے۔ امریکی محکمہ زراعت کی جانب سے کیے گئے عالمی غذائی تحفظ جائزے2021-31ء میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کی آبادی کا 38 فیصد حصہ غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے اور حیرت انگیز طور پر یہ شرح بھی پورے جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ 90 ملین سے زائد پاکستانی خوراک جیسی زندگی کی بنیادی ضرورت بھی پوری نہیں کر پا رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو جرمنی سے بڑی آبادی پاکستان کے اندر شدید کثیر جہتی غربت میں زندگی گزار رہی ہے۔ یہ بات بھی حیران کن ہے کہ پاکستان کے تمام ہمسایہ ملکوں میں غذائی عدم تحفظ کی سطح اس کے مقابلے بہت کم ہے۔ بنگلہ دیش میں یہ شرح 25.7 فیصد، سری لنکا19.4 فیصد، نیپال 13.6 فیصد اور بھارت میں25.8 فیصد ہے۔ پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کی اس تشویشناک شرح کی ایک اور وجہ اشیاء خورد نوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ بھی ہے۔ اشیاء خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے قوت خرید میں 18.5 فیصد کمی واقع ہوچکی ہے۔ غذائی تحفظ کا ملکی آمدن سے بھی گہرا تعلق ہے اور کورونا وائرس کی وباء کے دوران آمدن میں کمی نے بھی غذائی عدم تحفظ کو مزید بڑھا یا ہے۔ اگرچہ آبادی میں تیزی سے ہونے والے اضافے کو روکنے کے لئے گزشتہ حکومتوں نے زیادہ سنجیدگی کا مظاہر ہ نہیں کیا تھا تاہم موجودہ حکومت چین جیسے متعدد ممالک کی تقلید کرتے ہوئے اس مسئلے سے بہتر طور پر نمٹ سکتی ہے۔ اس ضمن میں موجودہ قوانین کو بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔ آبادی کی روک تھام کے سخت قوانین کے نفاذ سے بھی غذائی تحفظ کی بڑھتی شرح کو روکا جاسکتا ہے۔ اعداد و شمار کی بنیاد پر پاکستان کو ہمیشہ ایک زرعی ملک تصور کیا جاتا رہا ہے لیکن خوراک کی غیر یقینی صورتحال ہماری زرعی پیداوار کے برعکس نقشہ پیش کرتی ہے۔ ہم پاکستان کو ایک مضبوط زرعی شعبے کا حامل ملک اسی صور ت میں کہہ سکتے ہیں جب ہم مناسب خوراک کی دستیابی یقینی بنا ئیں اور زراعت کے شعبے کو ترقی دے کر ہی بھوک کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری ( سی پیک) کے دوسرے مرحلے میں حکومت کی جانب سے زراعت کو اولین ترجیح کے طور پر شامل کرنا ایک حوصلہ افزاء پہلو ہے تاہم اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت اس مقصد کے لیے چین کی طرف سے فراہم کردہ فنڈز کو کس طرح استعمال کرتی ہے؟۔ سپلائی چین میں سرمایہ کاری اور نیا انفراسٹرکچر، بہتر ٹرانسپورٹ سسٹم اور آلات متعارف کروا کر حکومت خوراک کی کٹائی میں ہونے والے نقصانات کو روکنے میں مدد کر سکتی ہے۔ بعض اوقات مقامی سیاست دانوں اور زمینداروں کی اجارہ داری پاکستان کے کئی غذائی قلت کے شکار دیہی علاقوں میں بھوک اور خوراک کے عدم تحفظ کو فروغ دیتی ہے۔ نیشنل فوڈ سکیورٹی پالیسی 2018 ء اور ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان2021 ء کے تحت غذائی عدم تحفظ کو ختم کرنا پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے میں اولین ترجیح کے طور پر شامل ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس ہدف کے حصول کے لئے کسانوں کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کرے اور اُن کسانوں کو انشورنس پیکج بھی فراہم کرے جن کی فصلوں پر کیڑوں کا حملہ ہوتا ہے۔ سال2018ء میں حکومت نے 2030ء تک تمام عالمی اہداف کو پورا کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا اور ان میں سے ایک ہدف بھوک کا مکمل خاتمہ بھی ہے۔ مکمل بھوک کاخاتمہ یقینی بنانے کے لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس ملک سے غذائی عدم تحفظ کا خاتمہ کرے۔ اگر وزیراعظم عمران خان پائیدار ترقی کے تمام اہداف کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو بھوک اور غذائی عدم تحفظ کو ختم کرنا ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔چونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہیں اس لئے اگر ہم درست سمت میں بروقت اقدامات کریں تو بھوک کا مکمل خاتمے یا زیرو ہنگر کا ہدف آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ (بشکریہ، بلوچستان ٹائمز، ترجمہ: راشد عباسی)