بحران در بحران’ اندرون و بیرون کا احوال

ڈاکٹر صاحب کا مسئلہ ہے کہ وہ ہر حال میں مستقبل سے پرامید ہی رہتے ہیں۔ بات فون پر ہوئی لیکن مختصر گفتگو میں بھی ان کا ماننا تھا کہ حالات بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔ بس ایک دفعہ موجودہ سیٹ اپ ہٹ جائے تو حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ اب اسے کیسے بتاتا کہ یہ سیٹ اپ تو آپ کی ہی محبت کا نتیجہ ہے۔جو نسخوں پر دوا کے ساتھ لکھتے کہ ووٹ بلے کو دینا ہے۔ چونکہ حال ہی میں نوشہرہ تبادلہ ہوا ہے اس لیئے ملاقات کی ہدایت کی۔ موجودہ قیادت کے بارے میں یہی ڈاکٹر صاحب تھے جن کے ساتھیوں کا ماننا تھا کہ بس بہت ہو چکا اب ملک میں تبدیلی لانی ہو گی۔ جن ساتھیوں کے بارے میں پتا بھی تھا کہ وہ مخالف پارٹی کو ووٹ دیں گے ان کو بحث سے تحریک انصاف کی طرف لانے کی جدوجہد کرتے یہ کہہ کر کہ ملک مزید ان حالات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن شاید وہ یہ بھول گئے کہ صرف اچھا سوچنے سے حالات نہیں بدلتے۔ اب جو حالات بنے ہیں اور ن لیگ کے سوشل میڈیا کی جانب سے "جلد خوشخبری” "بڑی خوشخبری” والے پیغامات، اسٹیبلشمنٹ کے نواز شریف کے ساتھ رابطوں کے جو دعوی کیئے جا رہے ہیں اس سے ڈاکٹر صاحب کو لگتا ہے کہ بس تبدیلی آنے والی ہے۔ افغان جہاد کے بعد روسی جرنیل ریڈ سکوائر پر اپنے تمغہ بیچنے لگے تھے۔ اگلے سال تک تو قرضوں کی ادائیگی اور آئی ایم ایف کے احکامات پر عملدرآمد کے علاوہ تو کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ یہ بات اتنی آسان بھی نہیں جتنی ڈاکٹر صاحب سمجھتے ہیں۔ اگر میڈیا آزاد ہوتا تو انہیں معلوم ہوتا کہ اندرونی اور بیرونی محاذ پر ہم کھائی کے دہانے پر نہیں کھڑے گر چکے ہیں بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں دھنستے جا رہے ہیں۔ یہ جو تاثر دیا جا رہا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر نہیں رہی یہ وقت لینے کے علاوہ کچھ نہیں۔ آڈیو وڈیو کے کھیل سے صرف دن گزارے جا رہے ہیں۔ ٹوئیٹر پر خود ہی ٹرینڈ چلا کر خود ہی دیکھ کر خود ہی مطمئین ہو جاتے ہیں۔ ملک میں ابلاغی جنگ کے نام پر جو فارمولہ وضع کیا اس کا کسی دشمن کو نقصان پہنچا یا نہیں پہنچا لیکن آج وطن عزیز میں جو مایوسی ہے وہ اسی کی مرہون منت ہے۔گو کہ آئی ایس پی آر کی موجودہ قیادت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ کم از کم ادارے کی حد تک خود اس دلدل سے واپس نکالنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ لیکن زمینی حقائق بتا رہے ہیں کہ جون 2022 میں اندازہ ہوگا کہ کیا ہوا؟ کیا ہو رہا ہے؟ اور کیا ہونے جا رہا ہے؟ اس کہانی کا آغاز دراصل 9/11 سے ہی ہو چکا تھا۔ اس کے نتیجہ میں امریکہ نے اس خطہ میں "تبدیلی” کے ایجنڈے پر کام کا آغاز کیا۔ ایٹمی پاکستان، روس، چین اور ایٹمی راستے پر گامزن ایران کے بالکل بیچ میں بیٹھنے کے لیئے "دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے علاوہ کوئی بھی راستہ نہیں تھا۔ اس دوران ایف پاک کی اصطلاح شروع ہوئی گویا پیر افغانستان سے پاکستان پھیلانے کا آغاز ہوا۔ پاکستان میں جنرل مشرف کی موجودگی میں امریکی اثرورسوخ تاریخی بلندی پر تھا۔ پاکستان پر ڈبل گیم کا الزام ایک ڈھکوسلے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ن لیگ حکومت نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ چین کا اثرورسوخ بڑھنے لگا۔چین کے تعاون سے پنجاب روزافزوں ترقی کرنے لگا۔اداروں میں بھی تشویش پیدا ہونے لگی کہ وزیراعظم نوازشریف کیا سوچنے لگے تھے اور کس راستے پر گامزن ہونے لگے۔ہندوستانی وفد سے خطاب کے دوران آپ کا بھی وہی کلچرہے جو ہمارا کلچر ہے تو آپ کو یادہی ہوگا۔ مخالفین سی پیک تک کو چین پنجاب راہداری منصوبہ قرار دینے لگے۔ ایک بار چین کے دورے پر تو وزیر اعلی خیبر پختونخوا تک کو دورے سے ڈراپ کیا گیا۔ وزیر داخلہ چودھری نثار نے امریکی عہدیداروں اور ان کے منصوبوں پر روک ٹوک بڑھا دی۔امریکہ اور مغرب کی ناراضگیاں ریکارڈ سطح پر تھیں۔ پھر تحریک انصاف نے دھرنا دیا جس کے باعث چین کے صدر کو اپنا دورہ منسوخ کرنا پڑا۔ پاکستان میں ایک بار پھر ہوائوں نے اپنا رخ بدلنا شروع کیا۔ امریکہ اور مغرب میں وزیر اعظم عمران خان کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ ایک بار پھر تبدیلی ضروری ہے۔ چونکہ عمران خان مغرب میں مقبول ہیں اس لیئے ان کے باعث اقتصادی مسائل پیش نہیں آئیں گے۔ خیبرپختونخوا کے بعد پنجاب میں بھی ان کو حکومت دے کر ملک چلانے کی ذمہ داری ان کو سونپی گئی۔ لیکن مغرب کے ساتھ ن لیگ کے دور میں جو ہاتھ ہوا مغرب آج بھی اسے بھولا نہیں ہے۔ گو کہ میاں نوازشریف کو تو لندن میں پناہ مل گئی لیکن چودھری نثار کے نصیب میں تو پناہ لینے کی سعادت بھی نہیں آئی ۔ افغانستان میں آمد اور ان کے انخلا کے بعد ایک نیا کھیل شروع ہوچکا ہے ۔ اب مغرب نہ ہمیں مرنے دے رہا ہے اور نہ جینے دے گا۔ اس حکومت کے قیام کے بعد سی پیک کے حوالے سے جو بیانات دیئے گئے چین کے لیئے اشارہ نہیں واضح پیغام تھا اور چین کچھ بھی یو سکتا ہے بے وقوف ہر گز نہیں ہے۔چین آج بھی ہمارادوست ہے لیکن اب تعلقات میں وہ اعتبار نہیں رہا ۔ سعودی عرب بھی ہماری مدد کرتے وقت پہلے امریکہ سے اشارے کا انتظار کرتا ہے۔ فی الوقت تو گیس’ پٹرول’ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے جھٹکے لگنے والے ہیں۔معاشی بدحالی کے باعث نوجوانوں کی ایک اچھی خاصی بیروزگار آبادی ‘ پڑوس میں ایک بکھرتا افغانستان ‘ اندرون خانہ دہشت گردی کا عفریت، عالمی سطح پر بدنامی کے ساتھ تنہائی’پارلیمنٹ اور عدلیہ کی گرتی ساکھ اور ملک کے اندر سیاسی نظام کا دھیرے دھیرے خاتمہ ڈاکٹر صاحب کو بخوبی پتا ہے کہ جھٹکوں سے علاج کن کا کیا جاتا ہے۔ آئی ایم ایف’ سعودی عرب، چین، امریکہ کی امداد کی مثال درد کش دوا سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اس وقت قوم کو ایک بھرپور آپریشن کی ضرورت ہے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کے اپنے ہسپتالوں کی حالت یہ ہے کہ پہلے وہ خود ایک بھرپور اندرونی آپریشن کے محتاج ہیں۔ وہ خود عالمی ادادروں کے دبائو کے باعث ایم ٹی آئی ایکٹ کی شکل میں نجکاری کا شکار ہو چکے ہیں۔