ٹٹیری سے آسما ن نہیں تھمتا

پی ٹی آئی کادور اس وجہ سے بھی منفر د قرار پائے گا کہ اس دور میں جس قدر گرم گر م خبریں ملتی ہیں وہ ماضی میں میسر نہ تھیں شاید مستقبل میں بھی نا یا ب رہیں ، کوئی دن ایسا نہیں گزر تا کہ جل بلتی خبر نظروں کے سامنے نہ آکھڑی ہو ، تاہم اس کا یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ تازہ خبر سے پہلے والی گرم ترین خبر ایسی غائب ہو تی ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ ، یہ کہاوت درست ہی تو ہے کہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ،پنڈورا بکس ایسا کھلا کہ سب کے ہو ش ہی اڑ گئے ، مگر یکا یک مجلس شوریٰ کے مشترکہ اجلاس کئی گرما گرمی نے اس پر ٹھنڈ ڈال دی اور وہ بھی جیسے برفانی سیلوں میں گم ہو گیا ، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلا س تپش ہنوز دگن نہ ہو پائی تھی کہ آڈیو ویڈیو کا موسم در آیا اب ایسے مو سم کو اور کیا نا م دیا جا سکتا ہے ، ہرسو اسی کے چرچے ہیں ، چلیں پہلے مجلس شوریٰ کے اجلا س کی بات کر لیں ، اس اجلا س میں کئے ایسے بل منظور ہوئے جس پر حزب اختلاف تحفظات رکھتی ہے اور اس بارے میں اس کا مدعا ہے کہ ان بلو ں سے آئین کی خلا ف ورزی ہو رہی ہے یہ انسانی حقوق کے خلاف ہیں وغیر ہ وغیر ہ ، وہ اس سلسلے میں عدالتو ں کا رخ کر نے چلے ہیں ،چنا نچہ سب سے پہلے وہ نیب آرڈی ننس کے خلا ف عدالت جا ئے گی اور اس سلسلہ میں درخواست دائر کر نے کا مسودہ تیا ر کرلیا گیا ہے ، درخواست آئندہ ہفتہ سپریم کو رٹ میںدائرکی جائے گی ، ٹھیک ہے کہ ہر پاکستانی کو یہ حق ہے کہ وہ حقوق کے لیے عدالت سے رجو ع کرے ، اسی طرح شنید ہے کہ اپو زیشن انتخابی اصلاحات کے بل کے خلاف بھی عدالت سے رجو ع کرنے کا ارادوہ لیے ہوئے ہے ، جس میں اپو زیشن کو یہ اعتراض ہے کہ ترمیمی بل کے ذریعے الیکشن کمیشن کے اختیا رات سلب ہوئے ہیں کیو ں کہ آئین کے تحت الیکشن کمیشن کے اختیارات کو کم نہیںکیا جا سکتا ، یہاں یہ بات قابل غو ر ہے کہ الیکشن کمیشن پہلے ہی ای وی ایم پر اعتراض اٹھا چکا ہے اور اس نے پارلیمانی کمیٹی کے سامنے غالباً33 اعتراضات رکھے تھے جس پر حکومتی وزراء نے ان اعتراضات کا جو اب دینے کی بجائے گردے لال پیلے کر ڈالے تھے ، اب ان کا معاملہ الیکشن کمیشن کے پا س ہے جس میں سے وفاقی وزیر فواد چودھری نے تحریری معذرت کرلی ہے تاہم اعظم سواتی کا معاملہ ابھی زیر سماعت ہے ، اس طرح ٹکر اؤ کی فضاء پیدا ہو کر رہ گئی ہے اب اگر اپو زیشن ای وی ایم کے خلاف عدالت جا تی ہے تو بھی اداروں کے مابین ٹکر اؤ کا ما حول پیدا ہو سکتا ہے ، جوملک کے مفاد میں بہتر نہیں ہے ، چاہیے تو یہ تھا کہ الیکشن کمیشن نے جن اند یشوں کا اظہا ر کیا تھا ان کا جائزہ لیا جا تا اور تاہم خدشات و اندیشوں کو دو ر کیا جا تا ،اب ایک کشمکش کی لہر آڈیو ویڈیو کی صورت میں آرہی ہے ، روز کسی نہ کسی حوالے سے آڈیو ویڈیو کا چرچا لگا رہتا ہے ،حیر ت کی بات یہ ہے کہ جن کے بارے میں آڈیو ویڈیو کی پرچیاں دیو اروں پر چسپاں ہو تی ہیں وہ تو راحت سے نظر آتے ہیں ، لیکن آڈیو اور ویڈیو جا ری کر نے والو ں کے خلاف اچھل کو د حکومتی وزراء اورارکا ن کی جانب سے کی جا تی ہیں ۔جس کی وجہ سے غیر محسوس طور پر وہ آڈیو اور ویڈیو کے گواہ بنتے لگ رہے ہو تے ہیں ، اسی ماحول کے جنم پذیر ہو نے سے بہت سے سوال بھی اٹھ جا تے ہیں یہ ہی کچھ مبینہ آڈیو اور ویڈیو کے بارے میں ہو رہا ہے ،اور ایسا محسو س ہو رہا ہے کہ مدعی سست اور گواہ چست ہے ، سابق چیف جج رانا شمیم نے بیا ن حلفی دیا ہے اس کے بعد اس بیان حلفی سے متعلق ایک آڈیو آگئی اور پھر ویڈیو بھی ، یہ معاملہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا ہے جن پر مبینہ طو ر پر الزام لگا یا گیا ہے ، اب وفاقی وزراء جسٹس ثاقب نثار کے حق اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، عوام یہ سمجھنے سے قاصر ہیںکہ حکومت کا ان مبینہ الزاما ت یا آڈیو اورویڈیو سے کیا علا قہ ہے وہ گردے چھیل رہے ہیں ۔اب سیا ست میں آڈیو ویڈیو کھیلا جا رہا ہے ، جبکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ گنجفہ میںتینوں کی ہا ر ہو ا کرتی ہے ، بہتریہ ہے کہ جس طرح بارکونسل نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اس پرتوجہ دی جائے پاکستان بار کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ ایک غیر جا نبدار تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے جو ایک ریٹائر ڈ چیف جسٹس ، ایک سینئروکیل اور ایک غالباً سیاست دان پر مشتمل ہو نی چاہیے ، پاکستان بار کو نسل کی یہ تجویز معقول نظر آتی ہے اس سے آڈیو اورویڈیو کے بحرانو ں سے نکلنے میں مدد حاصل ہو سکے گی اور دودھ کا دودھ پا نی کا پانی ہو جائے گا ، بس یہیں پر نہیں بلکہ گزشتہ روز بھی مریم نو از نے بعض قومی شخصیات کے بارے میں مبینہ باتین کیں اور ان پر الزاما ت بھی براہ راست لگائے ہیں بلکہ کچھ عرصہ سے وہ اس میں مصروف نظر آرہی ہیں ، چنا نچہ اس سلسلہ میں بھی یہ لازمی بنتا ہے کہ مریم نو از کی طرف سے عائد کر دہ شخصیا ت پر الزامات کی تحقیقات کی جائے ، اور غیر ذمہ داری کے مرتکب کا تعین کیا جا سکے ، کیو ں کہ مریم نو از کے عائد کر دہ الزامات معمولی نوعیت کے نہیں ہیں ، وہ قومی یکجہتی سے تعلق رکھتے ہیں ، آئینی پاسداری سے بھی متعلق ہیں ، یہ سب باتیں اپنی جگہ غیر اہم نہیں ہیں ، چنانچہ یہ سب غیر جا نبدار تحقیقات کے متقاضی ہیں ، ان کو سیاست باز ی کی نظر نہیں کر نا چاہیے ،آج ملک کی جو دگر گوں حالت ہے وہ ایسے اہم معاملا ت کو سیا سی کھیل کھیلنے کی بدولت ہے ، جس سے ملک کے مفاد میں اجتنا ب لازمی ہے ، خلفشار کے سد باب کا بھی تقاضا یہ ہے کہ بات شفا ف ہو جائے ، اور ملکی ما حول بھی پر اگندہ نہ رہے ہر چیزاپنے محور میںہوا۔