محکمہ جنگلات اہلکاروں کی بازیابی

محکمہ جنگلات کے 3 اہلکاروں کی بازیابی کیلئے 5 کروڑ تاوان طلب

ویب ڈیسک: بنوں اور شمالی وزیرستان کے درمیانی علاقے سے محکمہ جنگلات کے اغوا ہونے والے تین ملازمین کی رہائی کیلئے اغوا کاروں نے5 کروڑ روپے کا تاوان مانگ لیا ہے۔ اس سلسلے میں سپیکر صوبائی اسمبلی نے محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کے اغوا سمیت تمام معاملات پر حکومت کو سنجیدہ اقدامات لینے کی رولنگ جاری کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

واضح رہے کہ محکمہ جنگلات کے چار ملازمین کی ٹیم ایک خاتون مانیٹرنگ آفیسر کی سربراہی میں بنوں اور شمالی وزیرستان کے درمیانی علاقہ میں بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے تحت لگے پودوں کا معائنہ کر رہی تھی اس دوران نامعلوم افراد نے انہیں اغوا کرلیا ۔ واقعہ کے چند روز بعد خاتون افسر کو اغوا کاروں نے بے ہوشی کی حالت میں چھوڑ دیا تھا جبکہ ٹیم کے تین مرد اہلکاروں کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا جن کا تاحال پولیس سراغ لگانے میں ناکام رہی ہے ۔ جمعہ کے روز صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں ایم پی اے میر کلام وزیر نے انکشاف کیا کہ اغوا ہونے والے اہلکار انور اللہ، معین اللہ اور گل ایاز کے خاندان کے افراد کے ساتھ اغوا کارگروپ کی طرف سے رابطے ہورہے ہیں جس میں اہلکاروں کی رہائی کے بدلے پانچ کروڑ روپے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔

اغوا کاروں نے متاثرہ خاندانوں پر واضح کیا ہے کہ سرکاری ملازمین ہونے کی وجہ سے انہیں اغوا کیا گیا ہے اس لئے 5کروڑ روپے کا تاوان بھی حکومت سے لیا جائے گا لیکن دوسری طرف حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی ہے جبکہ سرکاری سطح پر اغوا ہونے والے اہلکاروں کے اہل خانہ سے بھی کوئی رابطہ نہیں کیا جارہا ہے۔ قبائلی ایم پی اے کی طرف سے مذکورہ اطلاعات پر سپیکر مشتاق احمد غنی نے صوبائی وزیر محنت شوکت علی یوسفزئی کو اس معاملے کے حل کرنے کی ذمہ داری حوالہ کی جس کی تفصیلی رپورٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔