آئی ایم ایف کی فلم ”چیخیں”

آئی ایم ایف کے قرض کی ایک اور قسط آگئی ہے یا آئی ایم ایف کی فلم” چیخیں ” کی ایک اور قسط ہے جو بھی نام دیا جائے اس کیفیت پر سجتا اور صادق آتا ہے ۔ کیونکہ آئی ایم ایف کے قرض کی ہر قسط عوام کی چیخیں نکالنے کا باعث بن رہی ہے ۔وزیر حکومت حماد اظہر اور مشیر خزانہ شوکت ترین نے قوم کو یہ مژدہ سنایا ہے کہ آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کے درمیان قرض کی اور قسط کے لئے جاری مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف نے قرض کی ایک اور قسط ریلیز کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد پاکستان کے قرض کی رقم تین ارب بیس لاکھ ستر کروڑ ڈالر ہوجائے گی۔ قرض کی بحالی پیشگی شرائط پر عمل درآمد سے مشروط ہے ۔کچھ شرائط پر عمل ہوگیا ہے اور کچھ پر قسط ملنے کے بعد عمل ہوگا ۔کچھ عرصہ سے قرض کی ایک اور قسط کی خاطر ٹوٹتے بنتے مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا ۔
ایک بار تو مشیر خزانہ شوکت ترین امریکہ سے پلو جھاڑ کرواپس آگئے تھے جو مذاکرات کے تعطل کا ہی اظہار اور اعلان تھا۔اس کے بعد بھی مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا اور آخر کار مذاکرات معاشی اصلاحات کی شرائط پر اتفاق کے بعد کامیاب ہوگئے ۔آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پہلے ہی عام پاکستانی کی چیخیں نکال رہی ہیں اور آنے والے دنوں میں اس چیخ وپکار میں کمی ہونے کا امکان کم ہی ہے ۔ ایک ارب ڈالر کی قسط دے کر تین چار ارب کے ٹیکسز لگوائے جاتے ہیں اور یہ ٹیکسز عوام سے مہنگائی کے ذریعے وصول کئے جاتے ہیں۔ موجود ہ قسط کے ساتھ ہی ایک منی بجٹ کی آمد آمد بھی ہے ۔یہ تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت کسی پیشگی معاشی تیاری کے بغیر ہی میدان میں اُتری گویاکہ اس حکومت نے پانی میں اترنے کے بعد ہی تیراکی سیکھنا شروع کی ۔عمران خان کی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے نمائندے ملکی معیشت کو براہ راست کنٹرول کرنے قافلہ در قافلہ پاکستان پہنچتے رہے ۔ورلڈ بینک کے چنیدہ اور پسندیدہ حفیظ شیخ کا بطور مشیر خزانہ تقرر اس عمل کا نقطہ آغاز بنا ۔ آئی ایم ایف کے ملازم رضا باقرسٹیٹ بینک کے سربراہ ہیں۔یہ” مہمان ٹیم ”اپنے ساتھ معاونین کا لائو لشکر بھی لائی ہوگی۔اس کے بعد آئی ایم ایف قرض کی قسط جاری کئے تھے۔ جس کے بعدآئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ساتھ ساتھ یورپی یونین بھی اپنے معاشی رضاکاروں کو پاکستان میں کھپانے کی کوشش کرتی ہوئی نظر آرہی تھی ۔جس سے ”ادھر بھی وہی اَدھر بھی وہی ”جیسی دلچسپ صورت حال پیدا ہو کر رہ گئی تھی کہ پاکستانی کی معاشی ٹیم کے نام پر آئی ایم ایف کے پاکستانی نمائندے اپنے ہیڈ آفس کے ساتھ ہی مذاکرات کر رہے تھے ۔پاکستانی نژاد نمائندے آئی ایم ایف سے عام پاکستانی کے لئے بڑا ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں رہے۔اب نئی قسط عوام کے لئے کیا پیغام لاتی ہے اس کا فیصلہ بھی جلد ہوجائے گا ۔معاشی ماہرین تسلیم کررہے ہیں کہ موجودہ حکومت کو زبوں حال معیشت ورثے میں ملی ۔تاریخ میں اس زبوں حالی کی مثال نہیں ملتی۔موجودہ حکومت کو جاری کھاتے کا انیس ارب ڈالر سے زیادہ خسارہ ملاجبکہ بجٹ خسارہ چھ فیصد تھا۔موجودہ حکومت سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور چین جیسے دوست ملکوں سے آٹھ ارب ڈالر جمع کرنے میں کامیاب ہو گئی مگر ملکی معیشت کا دیوالیہ غیر ملکی قرضوں کی قسطوں کے باعث نکل رہا ہے۔ماضی میں بڑے پروجیکٹس کے لئے حاصل کئے گئے قرضے قوم کی رگوں کا خون نچوڑ رہے ہیں ۔قرض کی ہر قسط کی ادائیگی زرمبادلہ کے ذخائر کو کم کر تی جا رہی ہے۔ ان حالات کا الزام اب کس پر دھرا جائے ؟خزانہ ایک طرف تھوڑا بھر جاتا ہے تو قرض کی قسط اسے واپس نیچے پہنچاتی ہے اور اس طرح معیشت مسلسل عدم استحکام کا شکار ہے ۔ ملکی معیشت پراپوزیشن کی تنقید بجا ہے او ر ہوتی رہنی چاہئے مگر حالات کا آئینہ بہت بے رحم اور سچا ہے ۔جب بھی اس میں جھانکا جائے گا تو کوئی اچھی صورت نظرنہیں آئے گی ۔
ماضی قریب کی حکومتوں نے پاکستان کی معیشت کو بگاڑنے اور ملک کومعاشی طور پر ان گورن ایبل بنانے میں دانستہ یا نادانستہ بھرپورکردار ادا کیا ہے ۔اس صورت حال نے آئی ایم ایف کو شیر بنا دیا ہے ۔آئی ایم ایف اپنی کڑی شرائط عائد کرکے پاکستانیوں کو ان کے ناکردہ گناہوں کی سزا دینا چاہتا ہے۔قرض کی ایک قسط کے بعد دوسری قسط کی عادت نے ہماری حالات اس نشئی کی سی بنا ڈالی ہے جسے ایک کے بعد دوسرے سگریٹ کی طلب ستانے لگتی ہے ۔آئی ایم ایف کی متوقع قسط کو اس منصوبہ بندی سے کام لایا جائے کہ دوبارہ اس ظالم جفا جو کے در کے طواف سے چھٹکارہ مل جائے یہ اس حکومت کا اصل امتحان ہے ۔اسد عمر تو آئی ایم ایف کا آخری بیل آئوٹ پیکیج کا دعویٰ کرتے رہے تھے مگر یہاں تو اس سلسلے کا کوئی اختتام نظر نہیں آتا۔قرض کی قسط آتی ہے تو معیشت میں بہتری کی بجائے مہنگائی کا ایک سیلاب ساتھ لاتی ہے اور عوام برا بھلا کہتے مگر سیلاب میں بہتے چلے جاتے ہیں۔