حیراں ہوں دل کو روئوں کہ۔۔۔

ماسوائے ان یادگارلمحوں اور خوشگوار یادوں کے کہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان مغرب کی خوشحال زندگی وماحول کو چھوڑکراپنی اہلیہ کے صائب مشوروں کے بعد پاکستان کی دفاع و حفاظت کا خاطر خواہ انتظام کروانے تشریف لائے اورپھر چندپکے برسوں کے اندرہی چاغی کے پہاڑی سلسلے کو لرزا کر ہمارے بعض بدخواہوں کو لرزہ برانداز کیا ‘ وطن عزیز میں عوام کو بہت کوئی خوشی وا طمینان والی خبرسننے پڑھنے کو ملی ہے ۔”پاکستان بہت نازک حالات سے گزر رہا ہے” یہ جملہ میرے والدین کی عمر والی نسلوں نے متواتر سنا اور ہماری عمر کے لوگ بھی گزشتہ چالیس برسوں سے سن رہے ہیں۔ پاکستان قائم ہوا تو ابتدائی سال بہت ہی نازک تھے کہ کوئی مستحکم انفراسٹرکچر دستیاب نہ تھا اور نہ ہی مادی و معاشی وسائل تسلی بخش تھے ‘ لیکن بابائے قوم اور شہید ملت کی زبان سے کم ہی کسی نے سنا ہو گا کہ وطن عزیز نازک مراحل سے گز رہا ہے ‘ ان باطن کے صاف اورعقائد و اصولوں کے پکے لوگوں کے پاکستان کے مستحکم رہنے اور بہت جلد ترقی کے مراحل طے کرنے پر مضبوط یقین تھا۔ لیکن ان کے بعد جب حکومت و اقتدار کی بھاگیں اسکندر مرزا اور ایوب خانیوں کو ملی اوران سے ہوتے ہوئے یحییٰ خانیوں کو منتقل ہوئی توپاکستان کے دو لخت ہونے کی جانکاہ خبر دسمبرکی خون منجمد کرنے والی سردیوں میں ملی جوآج بھی ہرسال محب وطن اورحساس پاکستانیوں کے ز خم ہرے کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے ‘ بھارت ہر سال امت مسلمہ کے ماتھے پر کلنک کے ٹیکے کی طرح مرتسم ڈھاکہ کے پلٹن میدان کی وہ فلم ہمیں زچ کرنے کے لئے ضرور چلاتا ہے اور اب نوبت ایں جا رسید کہ امر اللہ صالح جیسے بزدل بھی اپنے ٹویٹ میں اس تصویر کوشیئر کرتے ہیں۔بہرحال یہ توتاریخ ہے اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے ۔ 2019ء میں ابھی نندن کی حراست اور 2021ء اگست میںفتح کابل کے واقعات حمد اللہ محب اور امر اللہ صالح جیسے لوگوں کے لئے کافی جواب ہے ‘ لیکن جب وطن عزیز کے اندرونی حالات پر غور کرتے ہیں تو حقیقتاً دل خون کے آنسورونے پرمجبور ہوتا ہے ‘ اور ”اونٹ رے اونٹ ‘ تیری کون سی کل سیدھی” حقیقتاً واقعتاً سامنے آجاتا ہے۔ ذرا دیکھئے نا کہ پی ٹی آئی کس شان و دبدبے اور بلند وبانگ وعدوں اورارادوں کے ساتھ آئی تھی ‘ لیکن اب حال یہ ہے کہ سر پیر کا پتہ نہیںچلتا ‘ ہم جیسے لوگوں نے جوفکری ونظری لحاظ سے اپنی ایک پہچان اور ماضی رکھتے ہیں ‘ لیکن عمران خان کے مدنی ریاست کے قیام اور ذاتی طور پر کرپشن سے دور ہونے کے سبب اس کے موئید بن گئے ‘ اور ہم کیا ‘ مولانا طارق جمیل جیسے لوگ اور دیگر بہت سارے اسی آس و امید پر ان کے لئے کلمہ خیر کہنے لگے تھے ‘اور اب بھی ذاتی طورپر ان سے عوام کا ایک معتدبہ حصہ مایوس اگر نہیں ہے تو حیران و پریشان ضرور ہے ۔ وزیر اعظم کے اخلاص میں اب بھی عوام کی اکثریت کوشاید شک نہ ہو ‘ لیکن اخلاص سے بہرحال غریبوں کا نہ پیٹ بھرتا ہے اور نہ ہی ان کے دیگر مسائل حل ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
اب اس بات میں لگی لپٹی بغیر خدا لگتی بات یہی ہے کہ حکومت کی صفوں میں اہلیت ‘ منصوبہ بندی اور بروقت فیصلوں کی صلاحیت کا شدید فقدان ہے ۔ یہ بات اب ثابت ہو چکی ہے کہ گیس کا بحران محض حماد اظہر وزیر توانائی کی ناعاقبت اندیش فیصلوں کا مظہر ہے ‘ پٹرول کا بحران نواز دور حکومت ‘ 2015ء میں اس سے بھی زیادہ اور شدید تھا لیکن ان کے دعوئوں اور تحریک انصاف کے دعوئوں میں بہت فرق ہے ۔ عمران خان کے بہت سارے دعوے ان پر الٹ سے گئے ہیں ۔ جو انہوں نے اقتدار میں آنے سے قبل کیا تھا ‘ لوگ اور میڈیا بجا طور پراسے بطور مثال ‘طعنہ اور سند پیش کرتے ہیں۔ موجودہ حکومت سے قبل کی حکومتوں نے بھی آئی ایم ایف سے قرضے لئے تھے ۔ ترقیاتی منصوبے بنائے تھے ‘ فالودہ اور ریڑھی بانوں کے اکائونٹس میں بھی ڈلوائے تھے اور ابھی تک جواب نہیں دے پارہے اور بھگت رہے ہیں لیکن اس بات کا کیا جواز ہے کہ پچھلی دونوں”کرپٹ” حکومتوں میں جو قرضہ لیا گیا تھا ‘ اس سے زیادہ اکیلے صرف تین برسوں میں تحریک انصاف کی حکومت نے لیکر ملکی تاریخ میں قرضہ ساڑھے پچاس ٹریلین روپے تک پہنچا دیا گیا ہے ۔ اسی طرح گردشی قرضے روزبروز بڑھ رہے ہیں ‘ بجلی مہنگی سے مہنگی ترین اوراشیائے ضروریہ عوام کی رسائی سے دور سے دور ہوتی چلی جارہی ہیں۔
مشیرخزانہ شوکت ترین نے اپنے حالیہ انٹرویو میں پاکستان کی تلخ اور سخت معاشی حالات کا اعتراف کیا ہے اور منی بجٹ لانے کا اعلان بھی فرمایا ہے ۔ اس کے اثرات جب عوام پر پڑنا شروع ہوں گے تو خدشہ اس بات کا ہے کہ معاشرتی اقدار و اخلاقیات بری طرح متاثر ہونگی چوریاں ‘ ڈاکے ‘ مال ودولت کے لئے قریبی رشتوں میں قتل وغارت اور دھوکہ وفریب معمولات زندگی بن چکے ہیں ‘ کیا قرضستان ہونے کی صورت میں ملکی سلامتی اور بالخصوص ہماری دفاعی صلاحیتوں پر اثر نہیں پڑے گا؟ لہٰذا لمحہ حاضرمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ اپوزیشن ‘ ویڈیو آڈیو گیمز سے نکل کر اخلاص وسنجیدگی کے ساتھ حکومت کے ساتھ تعمیری اورملکی ترقی کے لئے ضروری معاملات میں تعاون کرے اور ملک کو قرضوں سے نجات دلانے کے لئے مل کر کام کریں۔ ورنہ ملک صحیح معنوں میں نازک حالات سے دو چار ہوسکتا ہے ‘ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک والوں کی یہی خواہش ہو سکتی ہے ۔ عمران خان کو سیرت النبیۖ کا یہ پہلو بھی مطالعہ کرنا چاہئے کہ وصال کے وقت آپۖ پر کسی کا کوئی قرض نہیں تھا ۔ حیات مبارکہ نہایت سادہ وکفایت شعارانہ ‘ پیٹ پر پتھر بھی باندھے گئے ‘ لیکن حجرہ مبارک کی دیواروںپر نوتلواریں(دفاعی صلاحیت) آویزاں تھیں۔ پاکستان میں بیورو کریسی ‘ عدلیہ اور دیگر افسروں کی فاقہ مستیاں اور خرخشے دیکھ کر بعض اوقات گھبرا جاتا ہوں کہ کہیں ہمارا حال بھی غالب جیسا نہ ہو جائے کہ پنشن بند ہوئی لیکن مے خوری ترک نہ کی اور نتیجتاً حوالات کی ہوا کھانی پڑی ‘ حالانکہ خود ہی اس کی پیشنگوئی بھی کی تھی
قرض کی پیتے تھے مئے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
ان حالات کے پیش نظر حساس لوگ پکار اٹھتے ہیں
حیراں ہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں