مشرقیات

ایک رات ہارون الرشیدملک میں قحط کے باعث شدید ٹینشن میں تھا اسے نیند نہیں آ رہی تھی ٹینشن کے اس عالم میں اس نے اپنے وزیراعظم یحییٰ بن خالد کو طلب کیا ہارون الرشید نے یحییٰ خالد سے کہا استادمحترم آپ مجھے کوئی ایسی کہانی کوئی ایسی داستان سنائیں جسے سن کر مجھے قرار آ جائے یحییٰ بن خالدمسکرایا اور عرض کیا بادشاہ سلامت میں نے اللہ کے کسی نبی کی حیات طیبہ میں ایک داستان پڑھی تھی یہ داستان مقدر قسمت اور اللہ کی رضا کی سب سے بڑی اور شاندار تشریح ہے۔ آپ اگر ۔۔اجازت دیں تو میں وہ داستان آپ کے سامنے دہرا دوں بادشاہ نے بے چینی سے فرمایا یا استاد فورا فرمائیے۔ میری جان حلق میں اٹک رہی ہے یحییٰ خالد نے عرض کیا کسی جنگل میں ایک بندریا سفر کیلئے روانہ ہونے لگی اس کا ایک بچہ تھا وہ بچے کو ساتھ نہیں لے جا سکتی تھی چنانچہ وہ شیر کے پاس گئی اور اس سے عرض کیا جناب آپ جنگل کے بادشاہ ہیں میں سفر پر روانہ ہونے لگی ہوں میری خواہش ہے آپ میرے بچے کی حفاظت اپنے ذمے لے لیں شیر نے حامی بھر لی بندریا نے اپنا بچہ شیر کے حوالے کر دیا شیر نے بچہ اپنے کندھے پر بٹھا لیا بندریا سفر پر روانہ ہوگئی اب شیر روزانہ بندر کے بچے کو کندھے پر بٹھاتا اور جنگل میں اپنے روزمرہ کے کام کرتا رہتا۔ ایک دن وہ جنگل میں گھوم رہا تھا کہ اچانک آسمان سے ایک چیل نے ڈائی لگائی شیر کے قریب پہنچی بندریا کا بچہ اٹھایا اور آسمان میں گم ہو گئی شیر جنگل میں بھاگا دوڑا لیکن وہ چیل کو نہ پکڑ سکا۔یحییٰ خالدرکا اس نے سانس لیا اور خلیفہ ہارون الرشید سے عرض کیا بادشاہ سلامت چند دن بعد بندریا واپس آئی اور شیر سے اپنے بچے کا مطالبہ کر دیا۔ شیر نے شرمندگی سے جواب دیاتمہارا بچہ تو چیل لے گئی ہے بندریا کو غصہ آگیا اور اس نے چلا کر کہا تم کیسے بادشاہ ہو تم ایک امانت کی حفاظت نہیں کر سکے تم اس سارے جنگل کا نظام کیسے چلا گے شیر نے افسوس سے سر ہلایا اور بولا میں زمین کا بادشاہ ہوںاگر زمین سے کوئی آفت تمہارے بچے کی طرف بڑھتی تو میں اسے روک لیتا لیکن یہ آفت آسمان سے اتری تھی اور آسمان کی آفتیں صرف اور صرف آسمان والا روک سکتا ہے۔ یہ کہانی سنانے کے بعد یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید سے عرض کیا بادشاہ سلامت قحط کی یہ آفت بھی اگر زمین سے نکلی ہوتی تو آپ اسے روک لیتے یہ آسمان کا عذاب ہے اسے صرف اللہ تعالی روک سکتا ہے چنانچہ آپ اسے رکوانے کیلئے بادشاہ نہ بنیں فقیر بنیں یہ آفت رک جائے گی۔دنیا میں آفتیں دو قسم کی ہوتی ہیں آسمانی مصیبتیں اور زمینی آفتیں۔ آسمانی آفت سے بچے کیلئے اللہ تعالیٰ کا راضی ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ زمینی آفت سے بچا کیلئے انسانوں کامتحد ہونا وسائل کا بھر پور استعمال اور حکمرانوں کا اخلاص درکار ہوتا ہے۔یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید کو کہا تھا بادشاہ سلامت آسمانی آفتیں اس وقت تک ختم نہیں ہوتیں جب تک انسان اپنے رب کو راضی نہیں کر لیتاآپ اس آفت کامقابلہ بادشاہ بن کر نہیں کر سکیں گے چنانچہ آپ فقیر بن جائیے۔ اللہ کے حضور گر جائیے اس سے توبہ کیجئے اس سے مدد مانگئے۔دنیا کے تمام مسائل اوران کے حل کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا ماتھے اور جائے نماز میں ہوتا ہے لیکن افسوس ہم اپنے مسائل کے حل کیلئے سات سمندر پار تو جا سکتے ہیں لیکن ماتھے اور جائے نماز کے درمیان موجود چند انچ کا فاصلہ طے نہیں کر سکتے۔