عصری تعلیم کے بدلتے تقاضے اور ضروریات

صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز(IMS)حیات آباد میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ منظرنامے میں بین الاقوامی علاقائی اور مقامی مارکیٹوں نے آئی ٹی’ سائنس و ٹیکنالوجی اور عصری ورچوئل آن لائن تعلیم کے شعبوں میں تیز رفتار ترقی کی ضرورت مسلمہ امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنی ہے اور اپنے نوجوانوں کو مطلوبہ مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں کو تلاش کر سکیں۔آئی ٹی کی تعلیم کافروغ اور ٹیکنالوجی میں مہارت کے ذریعے بین الاقوامی مارکیٹ سے کام کا حصول جس طرح کی تعلیم و تربیت کا متقاضی ہے کوشش کے باوجود اس میں خاطر خواہ کامیابی کا نہ ہونا ہمارے عصری تعلیمی اداروں میں طالب علموں کواس کمال درجہ کی مہارت سکھانے میں ناکامی ہی بڑی وجہ ہے ۔امر واقع یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں اور جامعات میں آئی ٹی کی روایتی تعلیم اور غیر روایتی و ایڈوانس کورسز نہ کرانا المیہ ہے نجی تعلیمی اداروں کی صورتحال بھی سرکاری اداروں سے زیادہ مختلف نہیں بین الاقوامی جاب مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارتوں کا حصول ہی آئی ٹی کے شعبے میںکامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے ۔ خیبر پختونخوا میں بالخصوص یہ عمل ابتدائی مراحل میں ہے جوں جوں نوجوانوں کو اس شعبے میں تعلیم ملتی ہے مشکل یہ بن گئی ہے کہ اس دورانیے میں بین ا لاقوامی طور پر ٹیکنالوجی میں اتنی تیزی سے تبدیلی آرہی ہوتی ہے کہ اس میں مہارت مشکل بن جاتا ہے ملک میں آئی ٹی کی تعلیم حاصل کرنے والوں کے لئے روزگار کے مواقع اس قدر پرکشش نہیں جس کے پیش نظر سی ایس ایس ‘ پی ایم ایس اور دیگر پرکشش ملازمتوں میں اس کے لئے خصوصی نشستیں مقرر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کے لئے یہ شعبہ پرکشش نظر آئے اور جواہر قابل اس طرف متوجہ ہوں۔
تینوں تدریسی ہسپتالوںمیں سہولیات کا فقدان
صوبائی اسمبلی میں جمع کرائے گئے سوال کے جواب میں دی گئی معلومات کے مطابق لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں خواتین ملازمین کے شیر خوار اور کم سن بچوں کے لئے ڈے کیئر سنٹر موجود نہیں۔ ہسپتال میں نرسز کے لئے الگ واش رومز کی سہولت بھی نہیں۔ خیبر ٹیچنگ ہسپتال دونوں سہولیات دینے میں ناکام رہا ہے پشاور کے تیسرے بڑے سپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جگہ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ڈے کیئر سنٹر قائم نہیں کیا گیا ہے۔ صوبے کے تین بڑے تدریسی ہسپتالوں میں جہاں سینکڑوں خواتین کام کرتی ہیں وہاں پر بچوں کی نگہداشت کا کوئی مرکز نہ ہونا یہاں تک کہ نرسنگ سٹاف کے لئے علیحدہ واش رومز کی غیر موجودگی کا معاملہ اس دعوے کی سراسر نفی ہے جس میں خواتین کے مسائل کے حل کے حوالے سے آئے روز سامنے آتے ہیں یہ سہولیات بنیادی انسانی حقوق اورادارے کے لازمی ذمہ داری کے زمرے میں آتے ہیں جس سے احتراز لمحہ فکریہ ہے ۔ جتنا جلد ممکن ہوسکے ہر دو ضروری لوازمات کا بندوست یقینی بنایا جائے۔
شہری حکام کی توجہ درکار ہے
پشاور کا علاقہ سٹی ہوم صفائی کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث علاقہ گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہونے کے باعث مکینوں کی مشکلات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔مکینوں کے مطابق علاقہ میں ٹیوب ویل نہ ہونے سے وہاں رہائش پذیر ایک بڑی آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے علاقہ میں مچھروں اور چوہوں کی بھی بہتات ہے اور لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ علاقہ میں نکاسی آب کا مناسب انتظام نہ ہونے سے مکین دوہرے عذاب میں مبتلا ہیں، نالیاں بند ہونے سے آلودہ پانی کا گھروں میں داخل ہونا بھی مشکلات و پریشانی کا باعث ہے نجی ہائوسنگ سکیمز میں اس طرح کے مسائل انوکھی بات نہیں ناقص منصوبہ بندی اور محولہ قسم کے مسائل سے نمٹنے میں غفلت سے مکینوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ کرنے پر جس قدر جلد توجہ دی جائے بہتر ہو گا۔ سرکاری اداروں کو بھی اس طرح کے مسائل کا نوٹس لینا چاہئے اور نجی ہائوسنگ سکیمز کے مکینوں سے سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھنے کی بجائے متعلقہ ذمہ داروں کو نوٹس دے کر ان کو پابند بنانے کی ضرورت ہے جس کے باعث مکین مشکلات سے دو چار ہوں۔