گیس بحران ‘وزیر اعلیٰ کا نوٹس

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبہ بھر میں باالخصو ص پشاورمیں گیس کے کم پریشر اور لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ صوبے اور باالخصوص پشاور میں گیس کے کم پریشر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ، گھریلو صارفین کو درپیش یہ مسئلہ جلد سے جلد حل کیا جائے ۔انہوںنے کہاہے کہ صوبے میں گیس کی ترسیل کے نظام کی بہتری کے منصوبوں کو جلد سے جلد مکمل کیا جائے تاکہ رواں موسم سرما میں گھریلو صارفین کو سوئی گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے ۔ جنرل منیجر ایس این جی پی ایل نے وزیراعلیٰ کو یقین دہانی کرائی کہ صوبے خصوصاً پشاور میں گیس کے کم پریشر کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور ایس این جی پی ایل اس مقصد کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہا ہے جن علاقوں میں گیس کے کم پریشر کا مسئلہ درپیش ہے ان علاقوں میں بڑے قطر کے پائپ بچھانے کے منصوبے پر کام جاری ہے ۔ انہوںنے یقین دہانی کرائی کہ اگلے دو تین دنوں میں گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئے گی اور اُنہیں گیس کے کم پریشر کا درپیش مسئلہ ختم ہو جائے گا۔دریںاثناء سیکرٹری پٹرولیم کا کہنا ہے کہ گھریلو استعمال کے لئے سلنڈرگیس کی طرف جانا ہوگا۔سیکرٹری پٹرولیم کا کہنا تھا کہ دنیا میں پائپ لائن کے ذریعے گیس فراہمی کا تصور ختم ہو رہا ہے۔ بھارت میں بھی پائپ لائن گیس کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔سیکرٹری پٹرولیم کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں گھریلو استعمال کیلئے سلنڈر گیس کی طرف جانا ہو گا۔امر واقع یہ ہے کہ پاکستان میں28فیصد آبادی کو پائپ گیس ملتی ہے جبکہ 72فیصد آبادی سیلنڈرسمیت متبادل ذرائع استعمال کرتی ہے۔ہر سال سردیوں میں اس طرح کی صورتحال پیش آتی ہے مسئلے کا نوٹس بھی لیا جاتا ہے اور اقدامات کی سختی سے ہدایت اور تاکید بھی ہوتی ہے حکام یقین دہانی کراتے ہیں کہ صارفین کا مسئلہ حل ہو گا اور مختلف اقدامات کا تذکرہ بھی ہوتا ہے مگر عملی طور پر بحران موسم کی شدت میں کمی اور صارفین کے استعمال اور ضرورت میں کمی آنے تک جاری رہتا ہے گیس کی کمی کا نوٹس لیا جانا بطور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ان کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو اس مشکل سے نکالا جائے جبکہ سوئی نادرن کے حکام کے لئے بھی یقیناً یہ پریشان کن مسئلہ ہے مگر یہ اس سطح کے اقدامات سے اور عین وقت پر اٹھائے گئے اقدامات سے حل ہونے والا مسئلہ نہیں بلکہ وفاقی حکومت کو اس حوالے سے قبل از وقت اقدامات اور فیصلے کرنے ہوتے ہیں پیشگی تیاری نہ ہو تو بحران سر پرآنے کے بعد کے اقدامات لاحاصل ہوتے ہیں گیس کی قلت کے حوالے سے اعداد و شمار پریشان کن ہیں۔رواں سال دسمبر میں 592ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی قلت کا تخمینہ ہے جو جنوری 2022 میں بڑھ کر772ایم ایم سی ایف ڈی ہوجائے گا۔ سوئی ناردرن کی3ماہ کے لئے92ارب روپے سے زائد کی ایل این جی اور دسمبر میں361ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی گھریلو اور کمرشل شعبے کو منتقل کی جائے گی۔ اسی طرح جنوری میں575ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی اور فروری میں332ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی گھریلو اور کمرشل شعبے کو منتقل کی جائے گی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وزارت توانائی کی سستی کی وجہ سے اس سال بھی گیس کا بحران آیا ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایل این جی ٹینڈر کرنے میں تاخیر کی گئی۔ حکومت کے پاس موقع تھا کہ وہ6سے8ڈالر میں ایل این جی لے سکتی تھی، مگر فیصلوں میں تاخیر کی وجہ سے6سے8ڈالر میں ملنے والی گیس30ڈالر تک میں خریدنی پڑی۔حقیقت یہ ہے کہ2019 سے مسلسل دعوئوں کے باوجود حکومت اب تک کوئی ایک نیا ایل این جی ٹرمینل نہیں لگا سکی جہاں گیس کی عدم دستیابی اہم معاملہ ہے وہاں اس کی قیمت میں روز بروز اضافے سے بھی لوگ پریشان ہیں۔ابھی سردی پوری طرح آئی بھی نہیں ہے اور گیس کے بحران نے عوام کو گھیر لیا ہے اور وہ اس خوف اور پریشانی میں مبتلا ہیں کہ سردیاں کیسے گزاریں گے؟ مہنگائی نے پہلے ہی عوام کی زندگی اجیرن بنائی ہوئی ہے، سی این جی کی قیمتوں میں کیا جانے والا حالیہ اور بہت زیادہ اضافہ صارفین کے لئے کسی صورت میں بھی قابلِ برداشت نہیں ہو گا۔مشکل امر یہ ہے کہ حکومت کے تاخیری فیصلوں کے باعث اب عین وقت پر مسئلے کے حل کا کوئی دوسرا متبادل بھی نہیں حکومت بجلی کے استعمال کی طرف لوگوں کو رعایت دے کر متوجہ کر رہی ہے لیکن سردیوں میں پاور سیکٹر کو گیس نہیں دی جا سکتی اور پانی کی بھی کمی ہو جاتی ہے بجلی کی پیداوار ہی معمول کی ضرورت سے کم ہو تو اسے بطور ایندھن استعمال کیسے کیا جاسکے گا۔نیزفرنس آئل سے بجلی پیدا کرنا بھی مسئلے کا حل نہیں۔محولہ بالا عوامل کے باوجود توقع کی جانی چاہئے کہ وزیر اعلیٰ نے مسئلے کا بروقت نوٹس لیکر جس طرح کے سنجیدہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے اس سے گیس کی سپلائی کا انتظام کم ازکم اس حد تک تو بہتر بنایا جائے گا کہ گھریلو صارفین کو پروگرام کے مطابق تین اوقات میں گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی اور ان کو کھانے پکانے میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔حکومت اور عوام دونوں کو اس صورتحال میں اپنی مدد آپ کے تحت متبادل ایندھن کے استعمال و حصول پر توجہ دینے کی ضرورت ہے شمسی توانائی پر انحصار کے انتظامات جتنا جلد ممکن ہو سکے حکومت اور عوام و انفرادی سطح پر اس حوالے سے اقدامات اب ناگزیر ہیں۔
مشیر خزانہ کی حیران کن کسوٹی
مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے سے متعلق غلط فہمیاں پھیلائی گئیں۔مشیر خزانہ نے اس امر کا دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایسے اقدامات کر رہے ہیں کہ روپے کی قدر بہتر ہو، آئی ایم ایف معاہدہ کے بعد ٹیکسز میں اضافہ نہیں ہوگا بلکہ چھوٹ ختم
ہوں گی، ہم ٹیکس نہیں بڑھانے دیں گے، افواہیں تھیں لاکرز سیل ہو جائیں گے، کوئی ایسی چیز نہیں ہوگی، جو پہلے سے ٹیکس دے رہے ہیں ان پر مزید ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔مشر خزانہ نے مزید کہا کہ ہمارے ہاں غربت کا نہیں بلکہ افراط زرکا مسئلہ ہے، لوئر مڈل کلاس پس رہا ہے، ریسٹورنٹس میں جائیں کھانا کھانے کیلئے لوگوں کی لائنیں لگی ہوتی ہیں، گاڑیاں بھی اسی طرح فروخت ہو رہی ہیں۔مشیر خزانہ آئی ایم ایف سے معاہدے سے قبل جس قسم کی حقیقت بیانی کرتے آرہے ہیں قرض کی یقین دہانی وقسط کی وصولی کے ساتھ ان کا موقف بھی بدل گیا ہے روپے کی قدر میں بہتری درکنار روپیہ مزید تنزلی کا شکار ہے مشیر خزانہ کا یہ دعویٰ حیران کن ہے کہ ملک میں غربت کا مسئلہ نہیں ہمارے تئیں تو غربت اور بیروزگاری ہی ملک کے بڑے مسائل ہیں جس کے باعث یہ طبقہ مہنگائی سے بطور خاص متاثر ہوتا ہے افراط زر کا مسئلہ کیوں ہے اس کی وجہ روپے کی قدر میں کمی ہے عام آدمی اور لوئر مڈل کلاس سخت مشکلات سے دوچار ہے صرف اس کا لفظی اعتراف کافی نہیں عام آدمی کی مشکلات میں کمی لانے کے لئے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں وہ اہم ہیں لیکن دیکھا جائے توچند سطحی اقدامات کے علاوہ عوام کی ریلیف کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں یہی وجہ ہے کہ کمزور معاشی حالات کا شکار لوگ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ بیروزگاری اور خراب معاشی حالات کے باعث خود کشی کے بڑھتے واقعات تشویشناک ہیں مشیر خزانہ کا یہ استدلال تو عوام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے ریسٹورنٹس میں کھانا کھانے اور گاڑیوں کی فروخت کا پیمانہ ایک محدودطبقے کے حالات کو پورے ملک پر منطبق کرنے کی غلطی ہے جس سے دنیا کا کوئی بھی معیشت دان اتفاق نہیں کر سکتا۔ مہنگائی میں روز بروز اضافہ کیوں ہو رہا ہے اور اس کی روک تھام کے لئے کیا اقدامات کئے جائیں بجائے اس پرتوجہ دینے کے ریسٹورنٹس پر رش اور گاڑیوں کی فروخت کو فارمولہ بنانا عوام کے زخموں پر نمک پاشی اور ان سے مذاق کے مترادف ہے ۔ مشیر خزانہ سڑکوں کنارے بیٹھے دیہاڑی داروں ‘ بے روزگار نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد فی کس آمدنی و اخراجات جیسے حقیقی پیمانے اور کسوٹی پر صورتحال کو پررکھ کر دیکھیں تو حقیقت حال واضح ہو گی اس طرح کے مصحکہ خیز بیانات دینے سے عوام میں حکومت کی ساکھ مزید متاثر ہو گی۔