مشرقیات

اسلام دین فطرت اور دین انسانیت ہے۔اس کی تمام تعلیمات انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں۔ اسلام کو دیگر مذاہب میں اس لحاظ سے ایک امتیازی مقام حاصل ہے کہ اس کے سوا دنیا کے دیگر مذاہب اور تہذیبیں ایسا ضابطہ حیات پیش کرنے سے قاصر ہیں، جس میں فرد کی انفرادی زندگی سے پورے انسانی معاشرے کی اجتماعی زندگی تک، فرد اور معاشرے کی اصلاح کی ضمانت فراہم کی گئی ہو، جب کہ اسلام جو فلسفہ حیات اور مثالی شریعت عطا کرتا ہے، اس کی روشنی میں زندگی کے تمام شعبوں کی تعمیر اور صورت گری یقینی امر ہے۔اسلامی تہذیب و معاشرت اسلامی ضابطہ حیات کی ترجمان اور انسانی فطرت کی عکاسی کرتی نظر آتی ہے،جب کہ مغربی تہذیب،اسلامی تعلیمات سے بغاوت کادوسرا نام ہے، اگر دونوں تہذیبوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجائے گی۔ مغربی تہذیب مادر پدر آزادی کا دوسرا نام ہے،یہ دین فطرت ،اور دین انسانیت سے بغاوت کا نام ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ مغرب کا جدید معاشرہ والدین کے حقوق، بڑوں کا ادب واحترام، چھوٹوں پر شفقت ومحبت، رشتے داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھے برتاو کی تحسین سے عاری ہے۔اس کے برخلاف اسلامی تہذیب معاشرے کے ہر فرد سے بلا تمیز رنگ و نسل حسنِ سلوک اورحسن معاشرت سے عبارت ہے ۔ مغربی تہذیب میں خاندانی نظام ،بوڑھے والدین ،ایثار و ہمدردی معدوم نظر آتی ہے۔وہاں کا خاندانی اور معاشرتی نظام ٹوٹ پھوٹ سے عبارت ہے۔جب کہ اسلام حسن معاشرت اور حسن اخلاق کا دوسرا نام ہے۔اسلام معاشرے کے ہرفرد خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ،ہر ایک کے حقوق کا محافظ ہے۔ہر ایک سے حسن معاشرت کی تعلیم دیتا ہے۔اسلامی معاشرت میں والدین کے ساتھ نیک برتاو کی بڑی اہمیت ہے ،حتی کہ باری تعالی جو کائنات کا خالق و مالک ہے، اس کے حقوق کے بعد اگر کسی کا درجہ اور حق بنتا ہے تو والدین کا ہے اور کیوں نہ بنے جب کہ وہ اس کے دنیا میں آنے کے ظاہری اسباب ہیں۔پڑوسیوں اور محلے داروں کا خیال رکھنا اور ان کے ساتھ اچھا برتاو کرنا بھی قدیم معاشرے اور اسلامی تہذیب کی دین ہے۔اسلامی معاشرہ گناہوں اور جرائم کے سدباب کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے، لہٰذا سلف صالحین سے ورثے میں ملنے والا معاشرہ اور قرآن وسنت سے ماخوذ تہذیب میں بڑی اصولی راہیں ملتی ہیں، مثلا معاشرہ شرم وحیا سے آراستہ ہو۔افسوس صد افسوس، ان روشن خیال اور تہذیب جدید کے متوالوں پر کہ ہم دونوں تہذیبوں میں جب تقابل کرتے ہیں تو جدید تہذیب اور ماڈرن معاشرے کی تباہ کاریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کی نام نہاد خوبیوں کو اجاگر کرتے ہیں، جب کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی تہذیب کی بے شمار اچھائیوں اور خوبیوں کو نظر انداز کرتے ہیں، حالاں کہ ہر بابصیرت اور انصاف کی نگاہ رکھنے والا انسان جب دونوں تہذیبوں کا مطالعہ کرے گا تو مجبور ہوگا کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی تہذیب کی عظمت کا اعتراف کرے۔