afghanistan schools closed

افغانستان میں50فیصد نجی تعلیمی ادارے بند

ویب ڈیسک:طالبان کی جانب سے ٹیک اوور کے بعد سے افغانستان بھر میں50فیصد نجی تعلیمی ادارے بند ہیں ان اداروں میں پڑھنے والے کچھ طلبہ کہنا ہے کہ تعلیم جاری رکھنے کے لیے ان کے حوصلے متاثر ہوئے ہیں۔
یونین آف پرائیویٹ ایجوکیشن کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ تین مہینوں میں 50 فیصد سے زیادہ نجی تعلیمی مراکز بند کر دیے گئے ہیں۔یونین نے کہا کہ خاندانوں کی بگڑتی ہوئی معاشی حالت ان تعلیمی مراکز کی بندش کی بڑی وجہ ہے۔
یونین کے سربراہ سنجر خالد کے مطابق ”افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ ہی بہت سے تعلیمی اداروںنے اپنی 50 فیصد خدمات یا سرگرمیاں روک دیں۔ اس کی وجہ تعلیمی مراکز میں طلبہ کی کم تعداد تھی،”
ایک طالبہ شبانہ حبیب یار نے کہا کہ "ہم ابھی تک تعلیم حاصل کرنے کے لیے پر امید ہیں تاکہ اپنے ملک کی خدمت کر سکیں۔”ایک اورطالبہ ناجیہ سروری نے کہا، "ہم نے حوصلہ کھو دیا کیونکہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ ہم اگلے سال اسکول جائیں گے یا نہیں۔”
مغربی کابل میں نجی تعلیمی مراکز میں سے ایک کے سربراہ محمد عارف جمال نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران طلبا کی تعداد میں پچھلے مہینوں کے مقابلے میں 60 فیصد کمی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ” غنی حکومت کے خاتمے اور امارت اسلامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد طلبہ کی تعداد میں کمی واقع ہوئی خاص کر طالبات کی تعد اد میں”۔