غلامی کا طوق

بارباڈوس نے برطانیہ کی غلامی کا طوق اتار پھینکا

ویب ڈیسک: بارباڈوس تین دہائیوں میںملکہ الزبتھ دوم کو سربراہ مملکت کے عہدے سے ہٹانے والا پہلا ملک بن گیا۔

برطانیہ کی غلامی کا طوق گلے سے اتار پھینکنے والے اس چھوٹے سے ملک کی کیریبین قوم نے باضابطہ طور پر اپنے آپ کو ایک جمہوریہ بنانے کا اعلان کردیا ہے ۔

یہ ایک ایسا اقدام ہے جسے گزشتہ سال بلیک لائیوز میٹر موومنٹ سے متاثر ایکٹیوزم کے جھنڈے میں دکھایا گیا تھا اور 20 سال قبل ایک سرکاری کمیشن نے اس کی سفارش کی تھی۔

یہ برطانوی بادشاہت کو ردکرنے کی ایک وسیع مہم کا حصہ ہے جس میں افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنا شامل ہے جہاں سے زیادہ تر بارباڈین افراد کا نسلی تعلق رہا ہے۔اس آزادی کے ساتھ ہی برطانیہ سے اپنے تاریخی جرائم کی تلافی کے مطالبات بھی کئے جا رہے ہیں۔

بارباڈوس کی آزادی کی ایک سرکاری تقریب جس میں برطانوی بادشاہت کےولی عہد پرنس چارلس نے بھی شرکت کی میں گورنر جنرل ڈیم سینڈرا میسن نے صدر کی حیثیت سے چار سال کی مدت کے لیے حلف اٹھایا۔

17ویں صدی کا ‘شوگر انقلاب’ جس نے انگلستان کو غیر معمولی طور پر امیر بنا دیا تھا یہ دولت برطانیہ نے غلام بنائے گئے افریقیوں کی محنت مشقت سے حاصل کی تھی جنہیں بارباڈوس اور دیگر کیریبین جزیروں میں باغات پر کام کرنے کے لیے لے افریقہ سے لایا گیا تھا۔ بقول بارباڈوس کے ایک سفیر کومشنگ کے "یہ بارباڈوس ہی تھا جہاں غلامی کے پودے لگانے کا پروڈکشن ماڈل ایجاد ہوا تھا -برطانوی قانون کے تحت بارباڈوس کے گنے کے کھیتوں میں کام کرنے والے مردوں، عورتوں اور بچوں کو ناقابل تصور سفاکیت کا نشانہ بنایا گیا۔ خواتین کی زندگیوں کو خاص طور پر خوفناک سمجھا جاتا تھا۔ کومشنگ کہتے ہیں”بارباڈوس ایک جہنم تھا،سیاہ فام لوگوں کے لیے، بارباڈوس ایک ظالمانہ، جہنمی معاشرہ تھا۔”