مشرقیات

اللہ کے فضل سے ہم مسلمان ہیں اس میں ہمارا اپنا کوئی کمال نہیں البتہ کسب کمال میں ہم لوگوں نے جو نام کمایا ہے اس زور بازو سے کمائی گئی بدنامی کاتعلق بھی اللہ کے فضل وکرم سے نہیں ہے یہ اور بات کہ یا رلوگوں میں سے بہت سوں نے اسے بھی اللہ کے فضل میںشمار کرکے گھروں پر” ھذا من فضل ربی”کی نیم پلیٹس لگائی ہوئی ہیں۔کوئی ایک شعبہ ہوتو بتائیں کہ کس طرح ہم آپس میں ایک دوسرے کا جسمانی اور مالی نقصان کر رہے ہیں۔اب ہر شخص کی انفرادی کوششوںنے یکجا ہو کر ہمار ابیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے اس پر بھی ہم نے ساری صلوٰاتیںبس حکومت اور سرکاری اداروںکو ہی سنانی ہیں۔کوئی پوچھے بندہ خدا سے کہ دودھ میں پانی ڈالنے کے لئے حکومت مجبور کر رہی ہے؟یہ جو واپڈا کی لائن پر ڈائریکٹ کنڈا ڈالا ہو ا ہے اس کی تلقین بھی حکومت نے کی ہے؟دو نمبر کی ادویات بناکر بندے کو قبل ازوقت عالم بالا کو سدھارنے کا بندوبست کرنے پر بھی ریاست نے آپ کو معمورکیا ہواہے؟چوری چکاری ،رہزنی،منشیات فروشی کا دھندا کون سے قانون کے تحت جاری ہے؟ایسے ہی آپ کوئی بھی کام دھندا کر تے ہوں اس میںڈنڈا مارنے کی تمام تر ترکیبیںحکومت آپ کو نہیں پڑھاتی،استاد کی مثال لیں بچوںکو پڑھانے کی ذمہ داری اسے سونپی گئی ہے اب آگے سے وہ اسکول آتے ہی دھوپ میںکرسی ڈلوا کے موبائل پر ٹوٹے دیکھنے لگے تو تنخواہ میںملی رقم کو فضل ربی توقرار نہیںدیا جا سکتا۔ہمارے ایک دوست کے بقول زیادہ تر اساتذہ نے ”استادی” کے علاوہ اضافی کمائی کے لئے ذاتی کاروبار بھی شروع کئے ہوئے ہیںخاص کر پراپر ٹی کے گورکھ دھندوں میں یہ ایسے پڑے ہوئے ہیںکہ صبح حاضری لگا کر نو دو گیارہ ہو جاتے ہیں۔ایسے ہی دیگر محکموں کے بابو حضرات بھی اپنے اپنے فرائض کو بھول کر موبائل ٹیکنالوجی کی بدولت دفتر بیٹھے بیٹھے کاروبار حیات چلا رہے ہیں۔اس کے لئے انہیں دفتر کے وسائل استعمال کرتے ہوئے بھی شرم نہیں آتی ،اس سے قبل صر ف دفتر کی گاڑیاں ہی بال بچوں اور عزیز ورشتہ داروںکے کام آرہی تھیںاب کمپیوٹر،پرنٹر،انٹرنیٹ کی سہولت وغیرہ وغیرہ کو بھی اپنے کاروبار حیات کے لئے استعمال کیا جانے لگا ہے۔تو جناب یہ کسب کما ل ہے جس میںہم طاق ہیں اور اسی کی وجہ سے لوگوںکے مسائل حل نہیں ہو رہے ان میں اضافہ ہورہا ہے۔کیایہ فضل ربی ہے؟