وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں

وزیراعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میںملک کی پسماندگی کے اسباب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ملک کی پسماندگی کی وجہ قومی وسائل پراشرافیہ کاقبضہ اور قانون کی حکمرانی کا فقدان ہے۔ملک کی پسماندگی کے اسباب کے ضمن میںوزیراعظم عمران خان کے خیالات سے اختلاف کرنے کی گنجائش نہیں بلاشبہ یہی وہ بڑے اسباب ہیں جو ملک کی مسائل کی جڑ ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بطورحکمران صرف مسائل کی نشاندہی کافی نہیں بلکہ اصل کام وہ اقدامات ہیں جو ان مسائل کے سدباب کے لئے ضروری ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے اب تک اس حوالے سے کیا اقدامات کئے ہیں اور اشرافیہ کے قومی وسائل پر دسترس میں کمی لانے یا ان کا قبضہ ختم کرانے میں کس حد تک کامیابی حاصل کی ہے اگر وزیر اعظم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اس ضمن میں کافی اقدامات کئے ہیں تو یہ ان کی آراء ہو گی وگر نہ حقیقت یہ ہے کہ قبضہ مافیا اور اشرافیہ کے خلاف زبانی ‘ کلامی بہت کچھ ہوتا ہے لیکن عملی طور پر یہی لوگ خود وزیر اعظم کے ارد گرد بھی موجود ہیں جن کے خلاف کارروائی بہت دل گردے کا کام ہے۔ قوم نے محولہ بالا مسائل کے غرض سے ہی وزیر اعظم کو حق حکمرانی سونپا ہے چنانچہ بحیثیت وزیر اعظم ان مسائل کے اسباب گنوانے کی بجائے انہیں ان اقدامات پر روشنی ڈالنی چاہئے جو انہوں نے ان مسائل کی غرض سے اپنے دور حکومت میں کئے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی کا طویل مدتی اسٹیس کوہی ان کے مسائل کااصل ذمہ دار ہے جسے توڑنے کے لئے ہی عوام نے حکمران جماعت کو کامیابی دلائی لیکن موجودہ حکومت کے عرصہ اقتدار کے تین سال گزرنے کے باوجود ان کے منشور کے ضمن میں کوئی قابل ذکر پیش رفت دکھائی نہیں دیتی حکمران جماعت نے تبدیلی کا جوایجنڈا پیش کیا ہے اس کو عملی شکل دینے کے لئے جس توجہ اور کوشش کی ضرورت تھی اس کا فقدان ہے۔ حکومتی سوچ میں مرکزی اور صوبائی دونوں سطحوں پر واضح طور پر غیر یقینی اور انتشار کی کیفیت ہے ایسے حالات میں مسائل میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوتا ہے ۔حکمرانوں کا منصب مافیاز کی چنگل ملکی وسائل کو چھڑانا ‘ عوام کو ان کے حقوق دلانا اور ملک میں قانون کی حکمرانی یقینی بنانا ہوتا ہے ۔اس مقصد میں حکومت نے کہاں تک کامیابی حاصل کی ہے اس کے اعادے کی ضرورت نہیںعوام کوبنیادی سہولتوں کی فراہمی میں کہاں تک کامیابی ہوئی ہے اس سے قطع نظر بدعنوانی کا جو سرطان ملکی نظام کو جس طرح مفلوج کر رہا ہے اس کے سدباب کے لئے کیا اقدامات کئے گئے اس پر اگر وزیراعظم ٹھنڈے دل سے غور کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔حکومتی کوششوں میں کہاں کمی رہ گئی اس کا تجزیہ ہونا چاہئے کوشش میں اگر ناکامی نظر آئے تو اس کا اعتراف کرکے چلنا ہی کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے سے اصلاح کے امکانات معدوم ہوجاتے ہیںملک کی سیاست میںاپنی ناکامیوں کا ذمہ داردوسروں کوٹھہرانے کا عمل اور کامیابی کا کریڈٹ خود لینے کا رویہ قابل غور ہے جس پر نظر ثانی ہونی چاہئے۔وزیراعظم عمران خان جن عزائم کا اظہار باربار کرتے رہتے ہیں وہ عمل کے متقاضی ہیں ان پرحقیقی معنوں میں عمل درآمد کروایا گیا تو اشرافیہ کے اثر ورسوخ میں کمی اور عوامی مفادات کے تحفظ و حصول میں کامیابی ہوسکتی ہے یہ عمل جس سنجیدگی کا متقاضی ہے اس کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے اسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں کی تعدادمیں اضافہ
ماہر ذیابیطس نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے پانچ برسوں میں پاکستان کا تقریباً ہر فرد ذیابطیس میں مبتلا ہوگا جس کے بعد دنیا ہمیں بیمار قوم کے نام سے پکارا کرے گی۔دوسری جانب انسولین اور گولیوں کی بڑھتی قیمتوں نے خیبر پختونخوا میں شوگرمیں مبتلا ہزاروں مریضوں کو اپنی دوائی کی مقدار کم کرنے پر مجبور کردیا ہے اس وقت سرکاری سطح پر انسولین دستیاب نہیں جبکہ مارکیٹ میں بھی قیمتیں انتہاء پر پہنچ گئی ہیں ڈاکٹرز کے مطابق جو مریض دن میں تین مرتبہ انجکشن لے رہے تھے وہ اب مشکل سے دن میں ایک بار ہی انسولین لے رہے ہیں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ اور شوگر کے ادویات کی مہنگائی کے باعث مریضوں کااپنے علاج وبچائو کے حوالے سے کم دستی خوفناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے شوگر کے مرض کا بڑا تعلق ہماری طرز زندگی سے ہوتا ہے ہمارے ہاں صحت کے اکثر مسائل آگاہی نہ ہونے کے سبب سنگین ہوجاتے ہیں۔ذیابیطس کے حوالے سے ماہرین خوراک ‘ جسمانی کارکردگی اور طرز زندگی پر توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہیںاور بعض مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس مرض سے بچا جا سکتا ہے یا مرض کو شدت اختیار کرنے سے روکا جا سکتا ہے ضروری ہے کہ عوام کو اس حوالے سے آگاہ کیا جائے۔ صحت کے معاملے میں باشعور رویہ انفرادی سطح پر بھی بہت سے مسائل کا حل ثابت ہوسکتا ہے۔حکومت کو چاہئے کہ وہ اس حوالے سے ایک جامع پلان وضع کرکے اس پر تندہی سے عمل درآمد کی سعی کرے۔
وباء کا پھر خطرہ
کورونا وائرس کی نئی شکل رپورٹ ہونے کی اطلاعات پر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹرنے خیبرپختونخوامیں محکمہ صحت کو ایک مرتبہ پھر سے بھر پور انتظامات کے ساتھ تیاری کی ہدایت کردی ہے اس حوالے سے نئی گائیڈ لائنز بھی جاری کر نے کا فیصلہ کیا گیا ہے واضح رہے کہ کورونا وائرس کی یہ نئی قسم جنوبی افریقا کے ایک صوبے میں رپورٹ کی گئی ہے جس کے بعد نئی سفری پابندیاں لگانے کے ساتھ ساتھ ملک کے تمام صوبوں کو سخت حفاظتی تدابیر اپنانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ معمولات زندگی کو ایک مرتبہ پھر پابندیوں اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے معیشت روزگار اور کاروبار بھی فطری طور پر متاثر ہوں گے مشکل امر یہ رہا ہے کہ گزشتہ وباء کے دوران سوائے مساجد کے اور کہیں بھی پابندیاں اور احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی گئیں عوام کی بے احتیاطی اور حکام کی غفلت اور پابندی پر عملدرآمد میں ناکامی کوئی پوشیدہ امر نہیں ہر بار نئی اور زیادہ خطرناک قسم کی وائرس سے بچائو کا موثر ذریعہ اور ممکنہ حل احتیاطی تدابیر اختیارکرنے ہی میں ہے بدقسمتی سے کورونا فنڈ میں جس بڑے پیمانے پر خورد برد کی گئی اب دنیا سے بھی مدد کی زیادہ توقع نہیں اس ساری صورتحال میں اب واحد موثر طریقہ احتیاط کا ہی رہ گیا ہے جس پر عمل پیرا ہونے میں تساہل اور غفلت کی گنجائش نہیں۔