قانون کی بالادستی کے تقاضے

چارسدہ کے علاقہ تنگی میں قرآن مجید کی مبینہ بے حرمتی کا واقعہ یقینا بہت افسوسناک اشتعال کا باعث اورجذبات کو بھڑکانے کا حامل واقعہ ہے لیکن یہ جوش کا نہیں ہوش کرنے کا وقت ہے یہ واقعہ کس طرح رونما ہوا اور اس کا مرتکب ملزم کون تھااور کن حالات میں کس طرح سے اور کیونکر یہ واقعہ رونما ہوا اس واقعے میں غلط فہمی و صداقت کی تصدیق کئے بغیر جس طرح کے جذبات کا اظہار کیا گیا اس کی از روئے شریعت اور اسلام میںکتنی گنجائش موجود ہے ایسا کرنا مناسب بھی تھا یا پھر معاملے کی مکمل تصدیق اور صورتحال سے آگاہی ضروری تھی علاوہ ازیں پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کے بعد تھانے پر حملے اور پولیس کی طرف سے تحقیقات اور واقعے کی تہہ تک جانے میںرکاوٹ توڑ پھوڑ اور نذر آتش کرنے کا عمل کتنا مناسب تھا اس حوالے سے ایک مرتبہ پھر غور کرنے کی ضرورت ہے اس طرح کے واقعات میں جذبات سے مغلوب ہونا اپنی جگہ لیکن قانون شکنی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے لئے مشکلات کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے یہ معاملہ نہایت حساس اور حددرجہ احتیاط کا متقاضی ہے جس کا تقاضا تھا کہ واقعہ کی تصدیق اور شواہد سامنے لانے میں پولیس کی معاونت کی جاتی اور کیس کو مضبوط اور ٹھوس بنیادوں پر اندراج میں مدد دی جاتی پولیس کی جانب سے کارروائی شروع کرنے کے بعد کیس میں مداخلت اور معاونت کی بجائے الٹا پولیس پرحملے کاکوئی جواز نہ تھا اس حوالے سے علمائے کرام سے رجوع کیا جاتا اور ان کی رہنمائی ومشاورت میں عوام اپنے جذبات کا موزوں طور پر اظہارکرتے توزیادہ مناسب ہوتا ۔ دینی معاملات میں خاص طور پر احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے کہ دین کے معاملات میں اطاعت دین و شریعت ہی باعث ثواب و اجر ہیں دینی امور میں جذبات کی نہیں شریعت کے بتائے ہوئے راستوں کواختیارکرنا ہی احسن اورمقبول قدم ٹھہرتا ہے محولہ بالا واقعے کو اس کسوٹی پر پرکھا جائے تو دستیاب معلومات کی روشنی میں ابھی واقعے کی حقیقی تصویر اور معلومات ہی سامنے نہیں آسکی ہیں جس کی ایک بڑی وجہ شاید وہ دبائو اور احتجاج ہے جس سے متعلقین کے متاثر ہونے کے باعث درست اور حقیقی معاملات تک رسائی ہی ممکن نہیں ہو سکی پولیس کو موقع ہی نہ دیا گیا اور نہ ہی میڈیا کو رسائی ملی جس کے باعث یہ معاملہ دم تحریر واضح نہیں موقع پرہجوم صرف احتجاج اور ملزم کے سخت سزا بارے اپنے جذبات کا ایک نظم کے تحت اظہار کرتا اور قانون کے مطابق معاملے سے نمٹنے کے ماحول میں مخل نہ ہوا جاتا تو فوری کارروائی ممکن تھی اس طرح کے حالات میں جذبات کی رو میں بہہ جانے کی بجائے یہ دیکھنے اور اس امر کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ نبی آخرالزمان حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم خلفائے راشدین اور اسلامی ادوار میں اس طرح کے واقعات پر کیا طریقہ کار رائج رہا ہے نیز آج کے دور میں اس حوالے سے قانون اس طرح کے واقعات سے کس طرح سے نمٹنے کی نظیر رکھتا ہے ۔ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹائون کے فتویٰ کے مطابق قرآن کی بے حرمتی کرنے والا انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے لیکن اگراس نے سچے دل سے توبہ کر لی تو اسے مسلمان ہی قرار دیا جائے گا ملکی قوانین کے تحت ملزم پردفعہ 295 B کے تحت مقدمہ درج کیا جاتا ہے اور جرم ثابت ہونے پر ملزم کو عمر قید با مشقت کی سزا دی جاتی ہے ۔چارسدہ میں پیش آنے والے واقعے کے ملزم کی گرفتاری کے بعد مناسب امر یہی ہے کہ پولیس کو تفتیش کرنے دی جائے اور قانون کے مطابق اس کے خلاف مقدمہ درج کرکے کیس کو آگے بڑھایا جائے ۔لوگوں کو اس امرکا علم ہونا چاہئے کہ ریاستی قوانین کی خلاف ورزی اور خاص طور پر بدامنی کی ازروئے شریعت کوئی گنجائش نہیں بہرحال اس حوالے سے علمائے کرام ہی لوگوں کی بہتر رہنمائی کرسکتے ہیں۔