اوئے منشی ! پھٹہ بچ گیا اے

یوں تو ہم سب سرکاری دفاتر میں بیٹھی اشرافیہ اور اہل اقتدار کی اس روش کے عادی ہو چکے ہیںکہ اپنا کوئی بھی مسئلہ لے کر جائیں تو ایسی باتیں اور منطق پیش کریں گے کہ اصل مسئلہ حل ہونے کی بجائے ایک نئی الجھن آڑے آجاتی ہے۔آئی ایم ایف کے ساتھ نئے معاہدے کے بعد وزیر خزانہ جس انداز سے ٹیلی ویژن پہ نئی ترجیحات اور اعداد وشمار پیش کر رہے تھے،اس سے یہی معلوم ہو رہا تھا کہ حکومت عوام کی معاشی مشکل اورعام آدمی کے مسائل سے لاتعلق ہو چکی ہے۔ روز افزوں مہنگائی اور پیٹرول کا نرخ بڑھنے سے ہر پاکستانی شدید متاثر ہے۔ ارباب اقتدار کو تو سرکاری آسائشیں میسر ہیں لیکن عوام کے لیے دو وقت کی روٹی’ صحت’تعلیم اور اب بجلی کے بلوںکی ادائیگی بھی مشکل ہو چکی ہے۔ جب عوام کے اصل مسئلہ کا کوئی ٹھو س حل نہیں نکلتا اور انہیں دیگر غیر متعلقہ مسائل میں دھکیل دیا جاتا ہے تو یہ صورتحال بڑی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ امر کس قدر افسوسناک ہے کہ حکومت اپنی ناکام معاشی پالیسیوں کو درست کرنے کی بجائے عوام کو باور کرایا جا رہا ہے کہ حکومت مہنگائی کی ذمہ دار نہیں بلکہ یہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کا نتیجہ ہے۔ وزراء صاحبان کم روٹی اور کم چینی استعمال کرنے کی تلقین کر رہے ہوتے ہیں اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باوجود عوام کو اپنی آمدن بڑھانے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ مہنگائی کا مقابلہ کیا جا سکے۔بیرون ملک بیٹھے چند پاکستانی حضرات کل یہ فرما رہے تھے کہ مہنگائی تو باہر کے ممالک میں بھی ہے لیکن کوئی واویلہ نہیں کر تا۔ پاکستان میں تو آسانی سے گزر بسر ہو جاتی ہے جبکہ باہر زندگی بہت مشکل ہے۔ مجھے وزیر اعظم ‘وفاقی وزیروں اور مشیروں کی یہ باتیں سن کر اپنے ایک کالم نگار دوست کی بات یاد آجاتی ہے جو انہوں نے کئی سال پہلے لاہور میں ذاتی گھر کی تعمیر کے حوالے سے بتائی تھی۔ گھر کی تعمیر کا کام ایک ٹھیکیدارکر رہا تھا۔ جب چھت ڈالنے کی نوبت آئی تو کسی نے مشورہ دیا کہ چھت کے کام پر خصوصی توجہ دیں کیونکہ ٹھیکیدار بچت اور کاہلی کی وجہ سے شٹرنگ مضبوط نہیں ڈالتے ۔ نتیجتاً جب لوہے کے جال میں ریت’بجری اور سیمنٹ کا مکسچر پڑتا ہے تو بوجھ زیادہ ہونے کی وجہ سے کمزور پھٹے نیچے کھسک جاتے ہیں اور چھت میں ٹیڑھ پید اہو جاتاہے جو ہمیشہ برا لگتا ہے۔اس لیے شٹرنگ مکمل کرنے کے بعد ٹھیکیدار سے کہیں کہ وہ کسی مزدور سے اس پر چھلانگیں لگوائے کہ تختوں کی مضبوطی معلوم ہو سکے۔ ہمارے دوست نے مشورہ پہ عمل کرتے ہوئے موقع پر ٹھیکیدار سے کہا کہ تختوں کی مضبوطی دیکھنے کووہ کسی مزدور سے چھلانگ لگوائے ۔ پہلے تو وہ قدرے سٹپٹایا پھر اپنے منشی کو آواز دی کہ ایک مزدور کو اوپر چھت پہ بھیجو کہ چھلانگ لگا کر شٹرنگ چیک کر سکے۔
ایک مزدور نے جیسے ہی پہلی چھلانگ لگائی تو پھٹہ فوراً ٹوٹا اور مزدور پھٹے سمیت چھت سے نیچے گر گیا۔ اب ٹھیکیدار نے باآواز بلند اپنے منشی کو گالی دیتے ہوئے پوچھا ۔۔” اوئے منشی ! پھٹہ بچ گیا اے” ۔ ہمارے دوست کو بڑا غصہ آیا اور ٹھیکیدار سے کہا کہ تم میں احساس ہی نہیں ،انسان کی بجائے لکڑی کے پھٹے کی فکر ہے۔ تمہیں شرم آنی چاہیے کہ مزدور کی خیریت معلوم نہیں کی اور منشی سے پھٹے کا پوچھ رہے ہو۔ اس پر ٹھیکیدار نے رازدارانہ انداز میں کہا کہ اگر گرنے والے مزدور سے پوچھتا کہ بچ گیا ہے تووہ فوراً اپنے جسم کا کوئی حصہ پکڑ کر ہائے ہائے کرتا۔ یوں مجھے مہینہ بیس دن کی دیہاڑی اس کو گھر بٹھا کر دینی پڑتی، لہذا مَیں نے اسے گرتے ہی پھٹے(تختے) کی فکر ڈال دی اور وہ اپنی چوٹ بھول گیا۔ یہ ہوتی ہے ہیومن سائیکالوجی اور کچھ یہی حال آج کل ہمارے حکمرانوں کا ہے کہ ہوشربا گرانی کر کے عوام کو پھٹے کے فکر میں ڈالا ہوا ہے۔کبھی ایک ہی دن میں پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس بلا کر عجلت میں33 بل منظور کروانا ، الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر الیکشن کمیشن سمیت تمام جماعتوں کو تحفظات کی بحث چھیڑناتو کبھی تجاوزات ختم کرنے کو گرینڈ آپریشن کے ذریعے عوام کی توجہ اصل مسّلہ سے ہٹائی جاتی ہے۔ عوام کے بجائے کل بھوشن کی فکر ستائے جارہی ہے جو کہ افسوسناک اور لمحہ فکریہ ہے۔محض بیان بازی اور کاغذی پالیسیوں سے حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے۔عجلت میں کی گئی متنازع قانون سازی کا مقصد سیاسی مفادات کا حصول ہے۔ہمارے ارباب بست و کشادکو عوام کی فلاح وبہبود کا کوئی خیال نہیں ہے۔مُلک کا مستقبل شفاف اور مضبوط جمہوریت سے جڑا ہے۔ماضی میں اور اب بھی محض سیاسی مخالفین کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایاجاتا رہا ہے مگر کسی سے قومی دولت کی ایک پائی بھی وصول نہیں کی جا سکی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی کسی شعبے پر بھی توجہ نہیں۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے عوام تاریخ کے سب سے مشکل معاشی وقت سے گزر رہے ہیں۔اِس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا کے باعث عالمی سطح پر ہونے والے لاک ڈائون کی وجہ سے عالمی طور پر قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن پاکستان میں مہنگائی کی بڑی وجہ ناقص پالیسیاں بھی ہیں۔ انقلاب فرانس سے قبل جب ملکہ فرانس کو کہا گیا کہ عوام کے پاس کھانے کے لئے روٹی نہیں ہے تو اُنہوں نے کہا کہ وہ کیک کیوں نہیں کھالیتے۔