جذبات سے مغلوب ہونے کا نامناسب رویہ

قرآن کریم کی مبینہ بے حرمتی کے ملزم کی گرفتاری کے باوجود اس واقعے کے خلاف چارسدہ میں دوسرے روز بھی کشیدگی اس واقعے کی آڑ میں کسی منظم گروہ اور عناصر کے ملوث ہونے کا شبہ ہوتا ہے جواس واقعے کی آڑ میں قانون شکنی اور حکومت کے لئے مشکلات کھڑی کرنے کی سعی میں ہے اگر ایسا نہیں تو پھر علمائے کرام اور عوامی نمائندوں کی کوششوں اور یقین دہانیوں کے باوجود اشتعال میں کمی کیوں نہیں آئی بہرحال عوامی جذبات کے اشتعال بارے کلی طور پر کچھ کہنا مشکل امر ہے البتہ احتجاج پر آمادہ افراد کو اپنی صفوں میں ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جو ان کے دینی جذبات کو ابھار کردرپردہ بعض مقاصد کے حصول کے لئے ممکنہ طور پر سرگرم ہوں اس طرح کے واقعات میںملوث عناصر کے خلاف کارروائی نہ ہونا اور ملزمان کا بچ نکلنا روایت رہی ہے اگرچہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے حکومتی رٹ چیلنج کرنے والوں کے خلاف بھی سخت سے سخت ایکشن لینے اور ان سے آ ہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ہدایت اور عزم کا اظہار کیا ہے۔لیکن اس کے باوجود بھی اس حوالے سے یقین سے راست کارروائی کیتوقع نہیں کی جاسکتی بہرحال وزیراعلیٰ نے پولیس حکام کو ہدایت کی ہے کہ پولیس فورس حکومتی عمل داری اور قانون کی بالا دستی کو ہر صورت یقینی بنائے’ امن و امان کو برقرار رکھنا اور سرکاری املاک کا تحفظ حکو مت کی ذمہ داری ہے جس پر کسی صورت کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے مزید ہدا یت کی کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے بھی لائحہ عمل تیار کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہیں قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والے کے خلاف شہریوں کے جذبات کا احساس ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن رہیں اور قانون کو اپنا راستہ اپنانے دیں ۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا ہے کہ شہری اطمینان رکھیں’ قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والے شخص کو قانون کے مطابق سزا دلائی جائے گی ۔ اس وقت حکومت کے پیش نظر حالات کو معمول پر لانا ہے ایسے میں گزشتہ روز کے واقعات میں ملوث عناصر کی گرفتاری اور ان کے خلاف کارروائی مشکل امر ہے ابھی سے گرفتار شدگان کی رہائی کے مطالبات ہو رہے ہیں انتظامیہ بالآخر اس حوالے سے نرمی اختیارکرنے پر مجبور ہو گی اور مصلحت کے تقاضے غالب آئیں گے جبکہ عدالتوں سے ملزمان کی ضمانت بھی ہو گی یوں یہ صورتحال معمول پر آئے گی اور فساد گردی کے ملزمان کو سزا نہیں مل پائے گی اور اگر اس واقعے میں ملوث عناصر خاص طور پر گرفتار شدگان کے حوالے سے حکومت اور انتظامیہ نہ تومصلحت کا شکار ہو اور نہ ہی دبائو میں آئے تبھی ان عناصر کو سزا دلانے کی راہ ہموار ہو گی اس طرح کے واقعات جہاں عوام کی ایک بڑی تعداد کسی حساس معاملے پرمشتعل ہوجائے ان کا مقصد توڑ پھوڑ اور گھیرائو جلائو نہیں ہوتا وقتی اشتعال پر کم سطح کے تشدد پر مبنی واقعات اور توڑ پھوڑ بھی ممکن ہے مگرجس منظم طریقے سے پورے علاقے میں تھانے ‘ چوکیوں کونشانہ بنایا گیا ہے اس میں ملوث عناصر کے خلاف تحقیقات اور ان کی بہرحال نشاندہی کے بعد ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے اس طرح کے واقعات کوخود حکومت کی جانب سے جلد سے جلد نمٹانے اور صورتحال کو معمول پر لانے کی ترجیح سخت اقدامات اٹھانے سے مانع امرہے حکومت اور انتظامیہ کا طریقہ کارہی یہ ہوتا ہے کہ وہ معاملات کی تہہ تک پہنچ کر پوری طرح تحقیقات کے بعد معاملے کو طشت ازبام کرکے ذمہ داروں کو کڑی سزا دلوائیں۔ آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کا تقاضا ہے کہ حال ہی میں ملاکنڈ میں ایک نوجوان کے قتل کے پس پردہ عناصر اور واقعہ ہو یا پھر چارسدہ کا تازہ واقعہ اس طرح کے واقعات کے پس پردہ عناصر کے مقاصد کو سمجھنے اور ان کو سامنے لانے میں مصلحت سے کام نہ لیا جائے عوام کی جانب سے بھی کسی واقعے پر جلد بازی اور وقتی اشتعال کے بعد فراموش کردینے کا رویہ بھی مناسب نہیں کسی مسئلے پر احتجاج کا راستہ اختیار کرنا اورتوڑ پھوڑ پہلا قدم نہیں ہونا چاہئے بلکہ پرامن طور پرحکومت کو اس امر پر سنجیدہ کارروائی کرنے پر مجبور کرنے کے لئے دبائو ڈالنا ہی بہتر اورمصلحت کا تقاضا ہے اس کے بعد کسی واقعے کو سرد خانے کی نذر نہ ہونے دینا اور پیش رفت پرمسلسل نظررکھنا اور بالآخر اسے انجام تک پہنچانے تک چوکنا رہنا ہی موزوں امر ہے ایسا کرنے کی بجائے وقتی جذبات کا نامناسب اظہارکرکے فراموش کر دینے کا رویہ احسن امر نہیں حکومت اور عوام ہر دونوں اپنے طرزعمل پر نظرثانی کریں تو زیادہ موزوں ہوگا۔
پشاور کوصاف پانی کی فراہمی کا اہم منصوبہ
پشاور کو صاف پانی کی فراہمی کیلئے ابتدائی تخمینہ کے مطابق 78ارب 9کروڑ50لاکھ روپے درکار ہونگے جس سے مہمند ڈیم سے صاف پینے کا پانی پشاور کے شہریوں کو میسر ہوگا تخمینہ لاگت انتہائی زیادہ ہونے کے باعث صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت سے درخواست کی جائیگی کہ وہ پشاور کے شہریوں کو صاف پینے کا پانی فراہم کرنے کیلئے اس منصوبے میں تعاون کرے مہمند ڈیم کی تکمیل سے پشاور کے شہریوں کو صاف پینے کا پانی میسر آسکے گا واضح رہے کہ ماہرین نے 2025میں پشاور میںپینے کے صاف پانی کی قلت کا خدشہ ظاہر کیا ہے جس کے باعث اب صوبائی حکومت پشاور میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے۔امر واقع یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں ماحولیاتی تبدیلی اور پانی کے بے تحاشا استعمال کی دوبڑی وجوہات کی بناء پر زیرزمین پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے صوبائی دارالحکومت میں آبنوشی کا انحصار زیرزمین پانی پر ہونے کے باعث اس کے متبادل کی ضرورت کافی عرصے سے محسوس کی جارہی ہے آبادی میں
بے تحاشہ اضافہ بھی پانی کی ضروریات میں اضافہ اور فوری متبادل انتظام کا متقاضی ہے صوبائی دارالحکومت پشاور کے شہریوں کوپانی کے متبادل بندوبست کا مژدہ جنرل مشرف کے دور سے سنانے کا سلسلہ جاری ہے ورسک اور باڑہ ڈیم سے پانی لانے کے منصوبے پیش ہوتے رہے اور اب مہمند ڈیم سے پانی کی فراہمی کے بڑے منصوبے پرکام کاعندیہ دیا جارہا ہے جس پر آنے والی لاگت صوبائی حکومت کے وسائل سے بڑھ کر ہے 2025ء تک پشاور میں پانی کی قلت کا عمومی اندازہ جو بھی ہو جس بڑے پیمانے پر شہرائو کا عمل جاری ہے اور فلک بوس کئی کئی منزلہ عمارتیں بننے لگی ہیں وہاں کے مکینوں کے پانی کی ضروریات کا ہنگامی بنیادوں پر انتظام ضروری ہے جوکسی بڑے ڈیم سے ہی پانی کے حصول کی صورت ہی میں پوری ہو سکتی ہے جہاں ایک جانب وفاق کی اعانت سے اس طرح کے منصوبے پر جلد سے جلد کام شروع کرنے کی ضرورت ہے وہاں اس امر کو بھی نظر انداز نہیں کیاجائے کہ صوبائی حکومت فور طور پر پانی کے ضیاع کی روک تھام پر توجہ دے ۔ گلیوں میں لگے نلکوں اور گھروں میں بے تحاشا پانی کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے بہتر تو یہی ہو گا کہ میٹر لگائے جائیں اور پانی کے ضیاع کی روک تھام کے لئے شہری اداروں پی ڈی اے اور بلدیہ کے اہلکاروں کو دفتروں سے نکال کرفیلڈ میںبھیجا جائے اور گلیوں میں بہتے پانی کے ذمہ داروں کوموقع پر جرمانہ کیا جائے ۔ سروس سٹیشنز پرپانی کے بے تحاشہ استعمال اور ضیاع کی روک تھام کی جائے شہروں میں پانی کے کم استعمال کے لئے شعور وآگہی مہم شروع کی جائے ۔