مشرقیات

یہ کبوتر نہیں امن چوک تھا اس سے بھی پہلے عالم زیب شہید کے نام سے اسے بسایاگیا تھا۔آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ عالم زیب شہید اے این پی کے قافلہ شہدا ء میں شامل ان اولین شہیدوںمیںسے تھے جو 2008کے انتخابات کے بعد صوبے میں بننے والی اے این پی کی حکومت کے خلاف شدت پسندوں کے حملوں کا نشانہ بنے تھے۔ان کی گاڑی کو اس وقت بم کا نشانہ بنایا گیا جب وہ گھر سے نکل رہے تھے۔
دلہ زاک اور رنگ روڈ کے عین کراسنگ پوائنٹ پر بنائے گئے اس چوک کو اب کبوتر چوک یہاں کبوتروں کے نصب مجسموں کے باعث کہا جاتا ہے یہ اور بات کہ اس مقام کو ہر سیاسی جماعت نے اپنے جلسوں کے لئے چن کر کبوتروں کے ان مجسموں کو توڑ پھوڑکے رکھ دیا ہے۔یہ ایک اور قسم کی شدت پسندی ہے جس نے صرف کبوتر چوک ہی نہیں پورے پشاور اور بڑی حد تک ملک کے دیگر شہروںکا بھی حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔اس قسم کی شدت پسندی کے کئی اور بھی سنگین پہلو ہیں اور ہماری سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لئے ہماری جان ومال کی پروا سے بے فکر ہوچکی ہیں۔
یہاں جلسہ ہو تو پشاور اور اس سے جڑے دیگر اضلاع سے آنے والی ٹریفک کا اژدھام باقی تمام شاہراہوں پر کئی گھنٹوںکی ٹریفک جام کا باعث بنتا ہے۔بچے ،خواتین،مزدور پیشہ لوگ میلوں کا سفر پیدل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں تو ہسپتالوں کو جانے والے مریض اپنی گاڑیوں یاایمبولینس میں پڑے پڑے عالم بالا کو سدھار جاتے ہیں۔اکتوبر میںجے یوآئی نے یہ مقام اپنے جلسے کے لئے بند کرکے ثواب کمایا تھا اس کے بعد حکمران جماعت نے اس سے جڑی سڑک پر ڈیرہ جماکر شہریوںکی دعائیں لی تھیں جس کے بعد پھر مولانا کے عقیدت مندوںنے ریلی یا ریلا نکالنے کے اعلان کو عملی جامہ پہنا کرہم سے قصیدے سنے تھے۔
اب گزرے کل یہاں پیپلز پارٹی نے پنڈال ڈالا تو ایک بار پھر آس پاس کے تعلیمی ادارے بند اور ہسپتالوںکو جانے والے راستے مسدود ہوگئے۔ہم عام لوگ بھی انسان نہ کبوتر ہوگئے جس کی جب مرضی اڑا کے رکھ دیا،اڑان بھی ایسی کہ بعض کبوتر لوٹ کر اپنی منڈیر پر آہی نہیں سکتے۔ایک شہید کے نام سے منسوب چوک میں یہ سرعام کبوتر بازی کوئی روک نہیں سکتا تو کم از کم سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں مارے جانے والے گمنام شہدا کی یا د میں ایک آدھ مزید یادگار ہی بنا لیں جہاں یہی جماعتیںان کے سینے پر مونگ دل سکیںزندہ لوگوں کی جان چھوڑیںجو راستے بند ہونے کی صورت ہسپتال پہنچنے کی بجائے قبرستان پہنچ جاتے ہیں۔