لازمی ویکسی نیشن زیرو ٹالرینس پالیسی

لازمی ویکسی نیشن مہم کے لئے زیرو ٹالرینس پالیسی نافذ

ویب ڈیسک: نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے تین کیٹیگریز کے لیے بوسٹر ڈوز لگانے کی منظوری دے دی جس کے تحت ہیلتھ کیئر ورکرز، 50 سال سے زائد عمر اور کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد (امیونو کمپرومائزڈ) بوسٹر شاٹ لگائے جائیں گے۔ این سی او سی کے اعلامیے کے مطابق تمام خوراک مفت دی جائیں گی اور بوسٹر ڈوز ویکسین کی آخری خوراک کے 6 ماہ بعد دی جاسکتی ہے۔

این سی او سی اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر نے کی جس میں نیشنل کوآرڈینیٹر میجر جنرل محمد ظفر اقبال اور معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے شرکت کی جبکہ صوبائی وزرائے صحت اور چیف سیکریٹریز اجلاس میں ورچوئلی شریک ہوئے۔

این سی او سی نے ویکسی نیشن کے لازمی نظام کے حوالے سے سخت اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔ اجلاس کے دوران اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ ویکسی نیشن ٹیموں کو مختلف عوامی مقامات پر تعینات کیا جائے تاکہ موقع پر موجود افراد کو ویکسین لگائی جاسکے۔ یکم دسمبر سے ‘لازمی ویکسینیشن مہم’ کے نفاذ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے، این سی او سی نے صوبوں اور متعلقہ حکام کو ویکسی نیشن کے لازمی نظام کے حوالے سے ‘زیرو ٹالرینس’ کی پالیسی کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی۔

تمام صوبے ویکسی نیشن کے اہداف حاصل کرنے کے لیے فوری طور پر ‘ویکسی نیشن آؤٹ ریچ مہم’ شروع کریں گے۔صوبائی نمائندوں نے کورونا وائرس کی نئی قسم پر توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور ویکسی نیشن کی صورتحال اور تارکین وطن کی جانچ کے لیے ہوائی اڈوں پر ضروری اقدامات کرنے کی تجویز دی۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ‘اومیکرون’ ویرینٹ پوری دنیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس سے ایس او پیز بشمول ماسک پہننا، سماجی دوری اور ہاتھ دھونے کو یقینی بنانے سے بچا جاسکتا ہے۔