اسلامی ریاست کا قیام ‘ مگر کیسے؟

مدنی ریاست کا قیام اور خلفائے راشدین کی خدمت کا بے نظیر اور عمدہ دور حکومت یقینا مسلمانان عالم کے لئے آج تک قابل تقلید رہا ہے ۔ لیکن تقریباً چالیس برس کے بعد جب خلافت ملوکیت میں بدل گئی ‘ تو عملی طور پر اسلامی ریاست مفقود ہوتی چلی گئی ۔ لیکن نظر یاتی طور پر بہرحال ہر زمانے میں خلافت راشدہ کی گونج و باز گشت ہماری تحریروں اور تقریروں میں برابر چلی آتی رہی اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے ۔ہمارے علماء و فقہاء نے قرآن کریم اور احادیث مبارکہ اور خلافت راشدہ کی تعلیمات سے اخذ و استنباط کرتے ہوئے اسلامی ریاست کے خدوخال واضح کئے ہیں اگرچہ زمانی لحاظ سے فقہی اجتہادات کی رو سے اسلامی ریاست کے قیام کے حوالے سے اختلافات تب بھی رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔ اسلامی ملکوں پر ایک دور ایسا بھی گزرا ہے کہ اموی اور عباسی خلافتوں کے ساتھ عقیدت اور روحانیت وتبرک کے حصول کے لئے جڑے ر ہے لیکن اندرونی نظام حکومت اپنے علاقے ‘ تہذیبی و ثقافتی روایات کے مطابق چلاتے رہے حکمران بھی خالص آمریت ہی کے طرز پر حکمرانی کرتے ہوئے بھی اپنے آپ کو سلطان ‘ بادشاہ اور دیگر بہت سارے خطابات والقابات سے نوازتے رہے یہاں تک کہ عثمانی خلافت قائم ہوئی تو خلافت کے باوجود ترک حکمران سلطان و بادشاہ ہی رہے ۔1924ء میں خلافت عثمانی کے خاتمے کے بعد ‘ مسلمان ممالک عجیب افراتفری و انتشار کے شکار ہوئے ۔ ایک آدھ ملک کے آزاد رہنے کے علاوہ پورا عالم اسلام یورپ کے مختلف ممالک کا غلام بن گیا۔ مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہندوستان بھی مسلمانوں کی ایک ہزار سال کی حکمرانی کے بعد برطانیہ کا غلام بن گیا ۔ اس کے ساتھ ہی اسلامی ریاست ایک خواب و خواہش کے طور پر تو مسلمانوں کے ہاں زندہ رہا ‘ لیکن عملی طور پر اس وسیع و عریض دنیا اور پچاس پچپن مسلمانوں کے اکثریتی علاقے اسلامی ریاست کے نام و اصطلاح سے محروم ہو گئے ۔البتہ مدارس میں علماء و طلباء کے درمیان درس و تدریس کے دوران اسلامی ریاست کے تصور ‘ ماضی اور مستقل پر بحث و مباحثے ہوتے رہے ‘ ہندوستان میں مدرسہ دیوبند اور دیگر مدارس میں اسی قسم کی علمی بحثوں سے دارالاسلام ‘ دارالحرب ‘ دارالکفر’ دارالہجرت اور اس سے منسلک و ملحق فقہ وجود میں آیا۔ یہی وجہ تھی کہ اس دور میں جب انگریزی استعمار اسلامی ملکوں سے رخصت ہو رہا تھا عرب ممالک قومیتوں اور قومی ریاستوں میں تقسیم ہو کر بادشاہت و آمریت کے زیر نگین ہو گئے اور ترکی ‘ ترقی وجدیدیت کے نام پر سیکولر ازم کی راہ پر گامزن ہوا ۔ لیکن ہندوستان کے اندر سے مسلمانوں نے آواز بلند کی کہ ہم الگ ملک بنائیں گے ‘ اور اس کی بنیاد اسلام پر ہوگی یہ کہ اسلامی ریاست ہو گی۔ لیکن وہ دن ‘ اور آج کا دن ‘ اسلامی دنیا کے مختلف ادواراور خطوں میں اسلامی ریاست کے قیام کی بھر پور کوششیں ہوئیں’ مگر نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔ ہندوستان میں شاہ ولی اللہی تحریک سے لیکر صومالیہ ‘ سوڈان اور افغانستان میں بھی مختلف تحریکوں کے ذریعے اپنی دانست اور زعم میں یہ سلسلہ جاری ہے ۔ لیکن مغرب کی معاش اور ٹیکنو لاجیکل بالادستی نے ایسی گنجائش بہت کم چھوڑی ہے کہ کہیں حقیقی معنوں میں اسلامی ریاست وجود میں آسکے ۔ ہاں خاہش اور کوشش پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی ۔ ایران میں شیعہ اسلامی انقلاب ضرور کامیاب ہوا اور آج تک جاری ہے ‘ لیکن پٹرول پیدا کرنے کے باوجود امریکہ اور یورپ کی طرف سے مختلف قسم کی پابندیوں نے ان کے انقلاب کے نیش کو اس حد تک کند کر دیا ہے کہ کسی زمانے میں انقلاب کی برآمدگی کا نشہ تھا اوراب بقا کی کوششیں ہیں۔ عراق ‘ ایران دس سالہ جنگ سے لے کر لبنان ‘ شام اور یمن تک سب یہی تگ و دو ہے ۔
افغانستان میں طالبان نے حکومت تو حاصل کر لی ‘ لیکن اب عوام کو قحط سالی اور انسانی بحران سے بچانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ملک کے ایئرپورٹوں اور دیگر تیکنیکی امور کی انجام دہی کے لئے درکار افراد کا فقدان ہے۔ معیشت ‘ تجارت اور زرمبادلہ کے معاملات دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔پاکستان میں گزشتہ ستر برسوں سے مختلف ناموں اور تحریکوں کے ساتھ یہ دل لگی جاری ہے ۔ پاکستان کا مطلب کیا؟ لاالہ الاللہ لیکن نتیجہ سب کو معلوم ‘ تحریک نفاذ مصطفیۖ اور جنرل ضیاء الحق کی اسلامائزیشن ‘ طاہر القادری اور تحریک لبیک سبھی اسی غم کے غمخوار رہے یں۔ یار لوگوں نے تو یہاں تک بھی حالیہ لبیک کی سرگرمیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ایران میں شیعہ انقلاب ‘ افغانستان میں دیوبندی اور پاکستان میں ٹی ایل پی کے ذریعے بریلوی انقلاب کے ذریعے اسلامی ریاست کے قیام کے دعوے ہو رہے ہیں۔ ان سب پر مستزاد وطن عزیز کی موجودہ پی ٹی آئی حکومت ریاست مدینہ کے قیام کی دعویدار ہے حالانکہ یہ سب باتیں ہی باتیں ہیں۔ مدینہ کی ریاست بس وہی تھی جو خاتم النبینۖ کے مبارک ہاتھوں سے قائم ہوئی اور خلفائے راشدین نے قرآن وسنت کے مطابق من و عن ‘ روح و جان کے ساتھ چلائی ۔ لہٰذا اس کے بعد کہیں مخلصانہ کوششیں ہوئی ہیں تو اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے گا۔ لیکن ریاست مدینہ کے قیام کے لئے جن صادق و امین افراد کی ضرورت ہوتی ہے وہ کم از کم اس وقت عالم اسلام میں دور دور تک نظر نہیں آتے ۔ اس لئے فی الحال اچھی جمہوریت کے ثمرات عوام کو دینے کے انتظامات ہونے چاہئیں ‘ اور امت کی توانائیاں خواہ مخواہ ایسے کاموں میں ضائع کرنے سے گریز کرنا چاہئے جس سے افراتفری اور انتشار پھیلنے کے امکانات پیدا ہوں۔ دین و دنیا کی بہترین تعلیم و تربیت کے بغیر ریاست مدینہ کی باتیں اور خواہش غالب کے اس خیال کی مانند ہونے کے سوا کیا ہوسکتا ہے جس سے صرف دل خوش ہو جاتا ہے ۔
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے