پاکستانی ہائی کمیشن برطانیہ سے شکایت

خزاں صرف ہر ے بھرے درختوں پر ہی نہیں اترتی یہ انسانی جسم میں بھی اتر جاتی ہے جس طرح درخت خزاں سے ٹنڈ منڈ ہو جا تے ہیں اسی طر ح انسان کا احسا س بھی ٹنڈ منڈ ہوجا یا کرتا ہے ، اللہ نے انسان کو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کر نے کے لیے پیدا کیا ہے لیکن انسان خزاں زدہ ہو کر مقصد زندگی ہی بھول جاتا ہے ، اور دروازہ تیغا کرنا شروع کر دیتا ہے ، یو ں تو پا کستان کے عوام اپنے سرکا ری اداروں سے کا فی شاکی ہی نہیں بلکہ تنگ زدہ ہیں کیو ں کہ یہ ادارے کسی طور اہل وطن کی آسانیوں کا سبب نہیں ثابت ہوئے بلکہ آزما ئش و مشکلا ت کا باعث ہی بنے رہتے ہیں پو لیس ، کچہری کیا ، عوامی معاملا ت سے متعلق ادارے سب کے سب ایک رنگ میں رنگے ہوئے ہیں ، حتیٰ کہ پاکستان کا دفتر خارجہ بھی مشکلا ت پیدا کر نے میں کسی سے پیچھے ثابت نہیں ہو رہا ہے ، بیرون ملک سفارت خانو ں کی اولین ذمہ داری ہو تی ہے کہ وہ بیر ون ملک اپنے ملک کے مفادات کا تحفظ کریں ملک کا مفاد عوام کا مفاد ہوتا ہے دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتاہے کہ اپنے ملک کے مفاد کا تحفظ کریں اور ان کے لیے آسانی کے اسباب پیدا کریں ،لیکن پا کستانی عوام کا مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ ان کے یہ نما ئندہ ادارے اپنے عوام کے لیے کٹھور ہی ثابت ہو تے ہیں ، اور بیرون ملک پاکستانیوںکو نفسیا تی الجھنو ں کا شکا ر کرتے ہیں گویا وہ یہ ثابت کر تے ہیں کہ وہ یہا ں بھی عوام کے خادم نہیں بلکہ حکمر ان مطلق ہیں ، ہو ا کچھ اس طرح ہے کہ بر طانیہ میں چار افرادپر مشتمل ایک ایسا خاندان آبادجس میں شوہر کی شہریت بھارت کی ہے جبکہ بیو ی کی شہر یت پاکستان کی ہے ، اس کے علا وہ اس جو ڑے کے دوبچے ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہیں جن کی بھی شہریت الگ الگ ہے وہ اس طرح کہ لڑکی جس کا نا م انعمتہ ہے وہ پاکستان کی شہر یت کی حامل ہے اور اس کا چھو ٹا بھائی موسیٰ خان بھارت کی شہریت رکھتا ہے ، اس خاندان کا کہنا ہے کہ ان کو کبھی بھی سکو ن سے پا کستان کے ہائی کمیشن کی جا نب سے نہ تو رہنمائی ملی اور نہ کوئی آسانی حاصل رہی اس خاتون کے والد ان دنوں شدید بیمار ہیں اور کئی سالو ں سے انھوں نے اپنی بیٹی اور نواسے کو نہیںدیکھا ، چنا نچہ اس خاندان نے فیصلہ کیا کہ وہ بچوں کے اسکول کی چھٹیو ں میں پاکستان جا کر والدین سے ملا قات بھی کر لیں اور وہا ں جو امو ر نمٹانے ہیںوہ بھی طے کر لیں چنانچہ پاکستانی خاتون کے شوہر اور بیٹے نے پا کستان کے ہائی کمیشن سے اپنے لیے ویز ا کا اجر اء کر ایا ، اسی طرح خاتون نے شوہر کے ساتھ جانے کے لیے اپنا اور اپنی بیٹی کا ویزا حاصل کیا ، چونکہ کووڈ19 کا زور تھا تو یہ خاندان لا ک ڈاؤن اور سفری پابندیوں کی وجہ سے سفر نہ کر سکا یو ں ان کے ویزے کی معیا د ضائع ہو گئی ، اب اللہ اللہ کر کے سفری پابندیا ں ختم ہوئیں تو انھو ں نے پاکستانی ہائی کمیشن اور بھارتی ہائی کمیشن کو اپنے اپنے ویزوں کی تجدید کی درخواست کی برطانیہ میں بھارتی ہائی کمیشن نے تو ایک ہی دن میں ویزوں کی تجدید کر دی ، ادھر اس خاندان کی پر یشانی یہ ہے کہ بھارت اور پا کستان میںان کے جو بزرگ ہیں وہ شدید علیل ہے اوراپنی اولادوں سے ملاقات کی امید میں ان کی آنکھیں پتھر ا گئی ہیں ، تقریباًایک ما ہ ہو چلا ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن کا برمنگھم قونصلر خانہ کوئی جوا ب نہیںدے رہا ہے ، جب کہ اس خاندان نے بچوں کی مو سم سرما کی چھٹیو ں کے ختم ہو نے سے قبل واپس پہنچنے کی غرض سے مہنگی ترین فضائی کمپنیو ں کے ٹکٹ بھی لاکھو ں روپے میں خرید رکھے ہیں ، اگر پاکستانی ہائی کمیشن بچوں کی چھٹیو ں کے بعد اپنے کسی فیصلے سے آگاہ کر تا ہے تو بھی اس خاندانی کو کوئی فائد ہ نہیں ہو گا ، یہا ں ایک حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن کی ایک آفیسر جنہو ں نے اس خاندان کے پانچ سالہ بیٹے کا ویز ہ جا ری کیا تھا وہ اب انکاری ہیں حالاں کہ انھوں نے خود چیک کیا کہ ویز ا کے اجراء پر ان کے ہی دستخط ثبت ہیں سب سے زیادہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ پہلے تو ویزہ جاری کر دیا اب کہا جا رہا ہے کہ بیٹے کے ویزہ کی تجدید نہیں کی جا ئے گی اب اس افسر خاتون سے کو ن استفسار کرے کہ بی بی یہ پانچ سال کا بچہ دیا ر غیر میں اکیلا کیسے رہ سکتا ہے ، اورجب آپ نے پہلے اپنے دستخطوں سے ویز ہ جاری کیا تھا اب اس کی تجدید میں کیا قباحت ہے ۔جبکہ اسی خاندان کی لڑکی کے لیے بھارت نے ایک ہی دن کے اندر ویزے کی تجد ید کر دی اور پاکستا نی ہا ئی کمیشن کی افسر کا کہنا ہے کہ بیٹے کی انکوائری کے لیے کا غذات گئے ہوئے ہیں جب آئیں گے تو مطلع کر دیا جائے گا ، عقل کا تقاضا یہ ہے کہ دشمن بر اتو ہو تا ہے مگر اس میں جو اچھے گن ہو ں اس کا اعتراف کرنا چاہیے ، جس طرح پاکستانی شہر یت حامل کی بیٹی کے ویزے کی فوری تجد ید کردی اسی طرح پا کستانی ہائی کمیشن کو چاہیے کہ بھارتی شہر یت کے حامل بیٹے کے ویز ے کی تجدید کردے پانچ سال کابچہ کا ہو تا ہے کہ اس کی انکو ائری کے حوالے سے اس خاندان کو ذہنی کوفت میں مبتلا ء کیا جا رہا ہے ، اور پاکستان وبھارت میں ان کے خاندانوں کو بھی ذہنی اذیت کا شکا ر کر دیا گیا ہے ، شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ پاکستان جو نر م دم گفتگو کا ملکہ رکھتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ اس کا نو ٹس لیں اور اپنے نرم دم گفتگو کی طرح برمنگھم میںاپنے سفارت کا روں کو بھی نرم لب ولہجہ کی تلقین کر یں اور لو گو ں میں آسانیاں بانٹنے کی ہدایت کر یں تاکہ عوام کا اپنے قومی اداروں پر اعتما د بحال ہو پائے ۔