بلدیاتی انتخابات سے عوام کی لاتعلقی بلاوجہ نہیں

خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کیلئے امیدواروں کی تگ و دو کے باوجود تاہم شہریوں کی جانب سے تاحال سیاسی ماحول میں دلچسپی انتہائی کم ہے پشاور سمیت صوبے کے 17اضلاع میںبلدیاتی انتخابات کیلئے انتخابی مہم میں صرف 15روز باقی رہ جانے کے باوجود اب تک صوبے میں سیاسی ماحول کو نہیں گرمایا جا سکا ہے حسب معمول گلی کوچوں میں بلدیاتی انتخابات کیلئے اب تک کوئی سرگرمی سامنے نہیں آسکی ہے ۔بلدیاتی انتخابات میں عوام کی عدم دلچسپی باعث تعجب امر نہیں اس طرح کے رویے کا مظاہرہ عوام نے صوبے میں اور خاص طور پر صوبائی دارالحکومت میں مختلف جماعتوں کے جلسوں میں شرکت سے احتراز کرکے کیا ہے ۔دیکھا جائے تو کہ عوام کا یہ رویہ بلاوجہ نہیں بلکہ اس کی سب سے بڑی وجہ عوام کی سیاسی جماعتوں سے مایوسی ہے خود حکمران جماعت کو جس قسم کی مشکلات کا سامنا ہے اس کا ایک ثبوت ایک ممبر صوبائی اسمبلی کی اس حوالے سے ایک ویڈیو کلپ ہے جس میں موصوف پارٹی پر سخت وقت آنے اور امیدوار بننے سے کارکنوں کی بیزاری کا شکوہ کرتے نظر آرہے ہیںزیریں سطح تک سیاسی جماعتیں ایسے لوگوں کو امیدوار بنانے میں دلچسپی لے رہی ہیں جو منظور نظر ہوں یہ بھی سیاسی گہما گہمی میں کمی کی بڑی وجہ ہے جبکہ اہم عہدوں کے لئے ہیوی ویٹ سیاسی خانوادوں کے چشم چراغ میدان میں اتر چکے ہیں جن سے عوام پہلے ہی عاری ہیں اور ان کی جماعتوں یا خاندانوں کے دور اقتدار کا عوام کو بخوبی علم اورتجربہ ہے بلدیاتی انتخابات میں عوام کی مایوسی اور لاتعلقی انتخابی نظام اور جمہوری نظام دونوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے جس کے بعد صدارتی نظام کا غلغلہ کہیں سامنے نہ آجائے ۔ جمہوریت اور سیاست ناکام ہو جائیں اور نظام پر عوام کا اعتماد اٹھ جائے اور عوام لاتعلقی اختیار کرنے لگیں تو کیا ہوسکتا ہے اس کا بروقت ادراک ہونا چاہئے اور سیاسی جماعتوں کو خا ص طور پراس صورتحال میں چوکنا ہونے کی ضرورت ہے اس کا واحد حل سرگرم اور پرجوش مخلص کارکنوں کی قدردانی اور ہمت افزائی ہے۔
یوٹیلٹی سٹورز ‘تمت بالخیر
پبلک اکا ئونٹس کمیٹی کی جانب سے یوٹیلٹی سٹورز کو مکمل طور ختم کرنے کی تجویزبلاوجہ نہیں امر واقع یہ ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز پر غیرمعیاری اشیا فروخت نہ کرنے کی رپورٹ دے کر گھٹیا اشیا فروخت ہو رہی ہیں یوٹیلٹی سٹورز پر دنیا کا سب سے غیرمعیاری گھی فروخت ہو رہا ہے، یوٹیلٹی سٹورز اشیا کی خریدوفروخت میں اربوں روپے کی کرپشن کر رہی ہے اگرچہ اس کی پس پردہ وجہ آئی ایم ایف کی جانب سے سبسڈی کے خاتمے کے معاملات ہیں جس سے قطع نظر اگر دیکھا جائے تو یوٹیلٹی سٹورز اولاً ہر جگہ اور آبادی کے ہر حصے میں دستیاب نہیں جہاں سے مساوی بنیادوں پر لوگوں کو استفادے کی سہولت میسر آئے علاوہ ازیں یوٹیلٹی سٹورز کا خسارہ اور سبسڈی قومی خزانے پربوجھ رہا ہے مستزاد اس کے باوجود بھی ا گر عوام کومعیاری اشیاء کی فراہمی نہ ہو رہی ہوتوپھران کی بندش کا فیصلہ ہی باقی رہ جاتا ہے اس کے باوجود اس حوالے سے عوام کی رائے ضرورلی جائے اورکارپوریشن میں کام کرنے والے ملازمین کے مفادات کا خیال ر کھا جائے اگر یوٹیلٹی سٹورز وہاں پر کام کرنے والوں ہی کو فروخت ہوں تو زیادہ موزوں ہو گا تاکہ ان کی بندش سے ملازمیں بیروزگار نہ ہوں۔
لاروے کی تلفی میں اس بار تساہل کا مظاہرہ نہ ہو
ڈینگی مچھروں کی افزائش کی روک تھام کیلئے صوبہ بھر کے سرکاری سکولزا وردفاتروغیرہ پر پانی کے ٹینک صاف کرنے کی منصوبہ بندی تجویز تودی گئی ہے لیکن اس کے لئے وسائل کی فراہمی اصل بات ہے حساس اضلاع بشمول پشاور میں رواں مہینے کے اختتام پر لارو ے کی تلاش میں گھر گھر مہم چلانے کا فیصلہ احسن قدم ہو گا گزشتہ ڈینگی سیزن میں بھی فیصلہ کیا گیا تھا لیکن فنڈز جاری نہیں کئے گئے تھے جس کی وجہ سے صفائی کا منصوبہ ناکام ہوا تھافنڈز کے اجراء اور اس مہم پرعمل درآمد کے بعد ہی نتائج کا حصول ممکن ہو گا توقع کی جانی چاہئے کہ یہ منصوبہ ہدایت کے اجراء کی حد تک نہ رہے گااور نہ ہی اس کا حشر گزشتہ سال کی طرح کا ہو گا۔مشکل امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں اولاً بروقت کسی مسئلے کا جائزہ لینے کا رجحان نہیں اور اگر منصوبہ بندی کی نوبت آہی جائے تب بھی اس طرح کا خلاء باقی رہنے دیا جاتا ہے کہ منصوبے پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آتی۔ حکام کی سنجیدگی کا اندازہ اسی سے لگانا مشکل نہیں کہ گزشتہ سال ان کی کارکردگی اور منصوبہ بندی کیا رہی ڈینگی پر قابوپانے کے حوالے سے غفلت کے ارتکاب کے باعث صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت صوبہ بھر میں معلوم ہلاکتوں کی تعداد ہی کافی رہی نامعلوم اور رپورٹ نہ ہونے والے مریضوں کی کتنی تعداد جان ہار چکی ہو گی اس کا تو اندازہ ہی نہیں۔ ڈینگی لاروے کی بروقت تلفی اور اس کے انتظامات کے لئے بھاری رقم خرچ کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی اگر سالانہ بنیادوں پر سرکاری محکموں اور آبنوشی کے ذخیروں کی صفائی کی ذمہ داری نبھائی گئی ہوتی ایسا کرنا صرف ڈینگی کے لاروے کی تلفی کے لئے ہی ضروری نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر یہ صحت عامہ کے تحفظ کا مسئلہ ہے جس کا حکام کو شاید احساس اور ادراک ہی نہیں توقع کی جانی چاہئے کہ جس محولہ منصوبہ بندی کا عندیہ دیاگیا ہے اس پر عمل درآمد میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیاجائے گا اور روایتی غفلت وتساہل کا اعادہ نہ ہوگا۔