بڑے سائن بورڈز اخلاق خلاف ورزی

بڑے بڑے سائن بورڈز انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی

ویب ڈیسک(پشاور) بلدیاتی انتخابات میں امیدواروں نے ضابطہ اخلاق کی دھجیاں بکھیر دیں الیکشن کمیشن کی جانب سے پوسٹرز اور بینرز کے مقرر کئے گئے سائز سے بڑے بینرز اور پوسٹرز پر الیکشن کمیشن کے چپ سادھ لی ہے۔

خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کیلئے پولنگ 19 دسمبر کو ہوگی. اور امیدوار انتخابی مہم 17 دسمبر کی رات 12 بجے تک جاری رکھ سکیں گے اس وقت امیدواروں کی مہم زور اور شور سے جاری ہے. پشاور، مردان، ڈی آئی خان، کوہاٹ، بنوں اور ڈی آئی خان سمیت تمام 17 اضلاع کی گلیاں ، سڑکیں ، چوراہے اور دیواریں بینرز، پوسٹرز اور پینافلکس سے بھر گئے ہیں. تاہم ان پوسٹرز کو چسپاں کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کے جاری ضابطہ اخلاق کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے مطابق تحصیل و سٹی لوکل گورنمنٹ کے چیئرمین یا میئر کے امیدوار کیلئے 18×23انچ سائز کے پوسٹرز، ہینڈ بلز، پمفلٹس اور لیف لیٹ کیلئے 9×6انچ کا سائز، کپڑے کے بینرز کیلئے 3×9فٹ اور پوٹریٹ کیلئے 2×3فٹ سائز مقرر کیا گیا ہے اسی طرح ویلج و نیبر ہڈ کونسل کے انتخاب کیلئے امیدوار کے پوسٹرز کاسائز 18×23انچ

جبکہ کپڑے کے بنے ہوئے بینرز کا سائز 3×9فٹ سے زائد نہیں ہوگا الیکشن کمیشن نے ان سائز سے بڑے تشہری مواد کی چھپائی پر پابندی عائد کررکھی ہے اور تمام امیدواروں کو اس ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کا پابند بھی بنا دیا ہے تاہم صوبہ بھر میں اس ضابطہ کو مکمل طور پر نظر اندا زکردیا گیا ہے اور کسی جگہ ضلعی انتظامیہ یا الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی ایکشن اب تک نہیں لیا گیا ہے کئی عمارتوں کو دیوہیکل بینرز اور پینافلکس سے ڈھک دیا گیا ہے. اور سڑک کنارے دیوہیکل بورڈز بھی لگا دئے گئے ہیں۔