عالمی تقسیم اور پاکستان کا مخمصہ

دنیا میں دو بلاکس کے اُبھرنے اور ایک نئی تقسیم کا عمل نقطۂ عروج پر ہے ۔کچھ ملک امریکہ اور چین میں سے اپنا انتخاب واضح کرکے اپنی سمت اور مقام کا تعین کئے بیٹھے ہیں اور کچھ ابھی پنڈولم کی طرح جھول رہے ہیں ۔دونوں بڑے ملک کی اس زورا زوری میں کئی چھوٹے ملکوں کے بازو مروڑے جا رہے ہیں اور کئی کے کپڑے پھٹ رہے ہیں ۔ان ملکوں کی حالت قابل دیدہو کر رہ گئی ہے ۔ بدقسمتی سے مسلمان دنیا کے دو طاقتور ملک پاکستان اور ترکی بھی ان ملکوں میں شامل ہیں جو مستقبل میں اپنے مقام کا تعین کر چکے ہیں مگر اس کے باوجود انہیں مغربی بلاک اپنی طرف کھینچنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔اس کے لئے مغرب کے زیر اثر عالمی اداروں کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے ۔فیٹف سے آئی ایم ایف تک حالات کی یہ چیرہ دستیاں جاری ہیں ۔فیٹف میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلواتے نکلواتے ترکی خود گرے لسٹ میں جا چکا ہے اور آئی ایم ایف نے پاکستانیوں کی کلائی یوں مرو ڑ رکھی ہے کہ عوام کا برا حال ہوگیا ہے۔ ترکی اور پاکستان مسلمان دنیا کے دو ایسے ممالک تھے جنہوںنے مغربی نظام اور بلاک کوللکارنے کا سلسلہ جاری رکھا تھا اور یہی دوملک اب حالات کی دلدل میں کھڑے ہو کر رہ گئے ہیں کیونکہ بہر حال معیشت پر کنٹرول کے ذریعے عالمی طاقتیں دنیا کی شہ رگ پر پائوں رکھ کر سانس روکنے پر قادر ہیں ۔ترکی میں اس وقت کرنسی” لیرا ”کی قدر بری طرح گراوٹ کا شکارہے۔جس کی وجہ سے مہنگائی میں حد درجہ اضافہ ہو چکا ہے ۔ترک صدر رجب طیب اردووان عوام کو اس مشکل صورت حال سے نکلنے کی نوید سنارہے ہیں اور کہہ رہے ہیں اللہ تعالیٰ کی مدد اور عوام کی حمایت سے معیشت کی اس جنگ آزادی میں قوم فاتح بن کر اُبھرے گی ۔انہوںنے کچھ نہ کہتے ہوئے بہت کچھ کہہ دیا ہے ۔ترکی کو امریکی صدر بائیڈن کی آمد ہ جمہوریت کانفرنس میں مدعو نہ کرنا اس ملک اور قیادت کے معتوب ہونے پر دلالت کرتاہے ۔ترکی کے جمہوری کردار پر سوال کھڑا کرنا حقیقت میں اپنے اندر کئی اور وجوہات رکھتا ہے۔یوں بھی ترکی کی جمہوریت کا دھڑن تختہ گولن تحریک سے متاثر گروہ کے ذریعے کرانے کا پورا بندوبست کیا گیا تھا یہ تو بس ”مس فائر” ہوگیا اور اردوان زیادہ مضبوط بن کر اُبھرے۔ان کا کہنا تھا کہ ترکی کو اپنا معاشی زوال روکنے کے لئے جمہوریت کو بحال کرنا ہوگا ۔ترک معیشت کا زوال اسی دن شروع ہوا تھا جب طیب اردووا ن نے 2017میں صدارتی نظام نافذ کیا تھا۔ اس تجزیے سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ ترک کو ایک مخصوص نظام میں تبدیلی اور اس نظام میں اپنی راہ پانے کے امکانات مسدود اور محدود پانے کے بعد معاشی عتاب کا شکار کیا جارہاہے۔ ترکی کی معیشت کو سہار دینے کے لئے امریکہ اور مغرب کے پسندیدہ ملک متحدہ عرب امارات کا آگے آنا معنی خیز ہے ۔کچھ یہی حال پاکستان کا ہے جہاں معیشت بری طرح لڑکھڑا رہی ہے ۔ترک لیرا کی طرح پاکستانی روپیہ اپنی ناقدری کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے ۔ڈالر کی اُڑانیں جاری ہیں اور کبھی کبھار ڈالر کی پرواز نیچی ہوتی ہے مگر وہ بھی اتنی ہوتی ہے اس سے دیکھتے ہوئے عام آدمی کی کلاہ گرنے لگتی ہے ۔سٹاک مارکیٹ اکثر مندی کا شکار رہتی ہے اور ترکی کی طرح چہرے بدل بدل کربھی حالات بدلنے نہیں پائے۔یہاں تک کہ پنجاب کے گورنرچوہدری سرور کو بھی اس حقیقت کا اعتراف کرنے کے لئے برطانیہ جانا پڑ ا کہ چھ ارب ڈالر کے لئے آئی ایم ایف نے ہم سے سب کچھ لکھو الیا ہے ۔ترکی کی طرح پاکستان کی معیشت کو آکسیجن ٹینٹ فراہم کرنے کے لئے مغرب کے قریبی اتحادی سعودی عرب سے کڑی شرائط پر تین ارب ڈالر قرض کا ایک پیکیج آرہا ہے۔ایک عجب تماشا ہے ملکوں کی معیشتوں کو گراتا بھی خود ہے اور پھر انہیں وقتی سہار دینے کے لئے اپنے دوستوں کو بھی آگے کر دیتا ہے۔پاکستان کی معیشت کو وینٹی لیٹر پر لانے کے لئے ہی اس ملک سے منی لانڈرنگ کی اجازت دی گئی ۔پاکستان کا سرمایہ مغربی ملکوں میں پلازوں ،شاپنگ مالز اور محلات کی صورت نظر آتا ہے یا آف شور کمپنیوں کی تجوریوں میں دفن ملتا ہے ۔مغربی ملک اس سرمائے کی جی جان سے حفاظت بھی کرتے ہیں ۔تاریخ کے جس موڑ کے لئے پاکستان کی معیشت میں زوال کی منصوبہ بندی کی گئی تھی وہ سامنے آچکا ہے ۔پاکستان نے مغربی بلاک کا حصہ بننا ہے یا اسے چین اور روس کے ساتھ کھڑا ہونا ہے ؟۔پاکستان لمحہ موجود میں کھڑامیں زندہ رہ کرمعیشت کو دیکھتا ہے تو مغرب کی جانب جھکتا ہے آنے والے دنوں کی دوربین میں جھانکتا ہے تو ایشیائی بلاک کی طرف لپکتا ہے اوراس مخمصے کے ختم ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی کیونکہ لکیرایسی کھنچ چکی ہے کہ جس کی ایک سمت میں کھڑا ہونا کے سوا کوئی چارہ نہیں۔امریکہ کی جمہوریت کانفرنس اس لکیر کو گہرا اور گاڑھا بنانے کا ایک عمل ہے ۔