اوورسیز کو ووٹ کا حق ۔کئی اقدامات درکار

1994ء میں جب اُس وقت کے صدر پاکستان فاروق لغاری نے امریکہ کا دورہ کیا تھا تو انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے مطالبے پر غور کرنے کا وعدہ کیا، تب سے لے کر پاکستان میں آنے والی تقریباً ہر حکومت اس مطالبے کی حمایت توکرتے رہی ہے لیکن عملی طور پر اس ضمن میں کچھ نہیں کیا۔اب جب کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بیرون ملک مقیم لگ بھگ 90 لاکھ پاکستانیوںکو ووٹ کا حق دینے کا بل منظور کرایا ہے تو یقیناً اس پر وہ تحسین کی مستحق ہے۔ یہ بل بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں32 دیگر بلوں کے ساتھ پیش کیا گیا جو اُن کی خوبیوں یا خامیوں پر بحث کے بغیر کے بغیر ایک ہی دن منظور کئے گئے ہیں۔ اگرچہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اس نئے قانون کا خیرمقدم کیا ہے تاہم اس حوالے سے کئی ابہام بھی موجود ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ کے اندراج اور ڈالنے کا طریقہ کار کیا ہوگا، پاکستان اور پاکستانی قوانین کے دائرے سے باہر موجود ووٹر کی شناخت کیسے ہوگی، اسی طرح دھوکہ دہی کے کسی اقدام پر کارروائی کیسے کی جائے گی؟ تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود انٹرنیٹ کا نظام مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔ ہیکرز بعض امریکی کارپوریشنوں کے انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے ”سسٹمز” کو ہیک کر چکے ہیں۔ 2016 ء کے امریکی انتخابات کے دوران بعض بیرونی ممالک کی سائبر مداخلت کی باتیں بھی سامنے آئیں۔ یہ بھی ایک اہم نکتہ ہے کہ اگر پاکستانی سفارتخانوں اور قونصل خانوں کو پولنگ سٹیشن بنایا جائے تو بیرون ملک دور دراز کے قصبوں اور شہروں میں رہنے والے پاکستانی اپنا ووٹ کیسے ڈالیں گے؟ یوں ووٹرز کی اکثریت پولنگ سٹیشن سے دور ہونے کی وجہ سے ووٹ کے استعمال سے محروم رہ جائے گی۔ چونکہ پارلیمنٹ میں اوورسیز کے لئے کوئی الگ نشستیں بھی مختص نہیں ہیں اور واضح طور پر اُن ووٹرز کو پاکستان کے اندر کسی نہ کسی حلقے میں اور ایسے امیدوار کو ووٹ دینا پڑے گا جس کو ان کے مسائل سے نہ تو کوئی تعلق ہو گا اور نہ ہی ادراک نہ ہو گا۔ مزید یہ کہ بیرون ملک پاکستانی ووٹر کو اس کے ووٹ کے لئے پاکستان میں حلقہ کیسے تفویض کیا جائے گا؟ پاکستانیوں کی وہ نسل، جو نقل مکانی کر کے امریکہ اور کینیڈا جیسے ملکوں میں گئی ہے ان کا پاکستان اور یہاں مقیم اپنے رشتہ داروں سے لگائو اور رابطہ تو ہے لیکن بیرون ملک ہی پیدا ہونے والے پاکستانی نژاد اپنے والدین کے آبائی ممالک کی نسبت اپنی جائے پیدائش والے ملک کو ترجیح دیے رہے ہیں۔ یوں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور دیگر ملکوں میں مقیم پاکستانیوں کی پہلی نسل کی عمر بڑھنے کے ساتھ سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کے حقوق بھی واضح طور پر کم ہو جائیں گے۔ چونکہ یہ بل پارلیمنٹ میں کسی بھی نشست میں اضافہ کیے بغیر منظور کیا گیا ہے، اس لیے واضح ہے کہ بیرون ملک مقیم ووٹرزکو پاکستانی حدود میں موجودہ حلقوں میں سے کسی ایک میں ووٹ دینا ہوگا، یہاں کی تمام تر سیاست مقامی نوعیت کی ہے اور بیرون ملک پاکستانی ووٹر کا مقامی مسائل سے کوئی سرورکار نہیں تو اس صورت میں ان کا ووٹ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے پارلیمنٹ میں کچھ نشستیں مختص کی جائیں۔ ان نشستوں پر بیرون ملک مقیم پاکستانی منتخب ہوں اور وہیں ووٹ دیں۔ یقیناً ایسی نشستوں پر منتخب ہونے والوں کو بیرون ملک پاکستانیوں سے متعلق کمیٹیوں اور معاملات میں شامل ہونا چاہیے، جیسا کہ امیگریشن، کسٹم کے قوانین، سفر، غیر ملکی سرمایہ کاری، ترسیلات زر، خارجہ پالیسی اور دیگر متعلقہ امور ہیں، پارلیمنٹ میں نشستیں بڑھانے کے لئے آئینی ترمیم درکار ہوگی اور حکمران جماعت ایسی کوئی آئینی ترمیم لانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ حق رائے دہی کے اس بل میں موجود ابہام یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ اس بل کو لانے والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی خدمت کے بجائے صرف سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور اس کی جزئیات اور طریقہ کار پر کام کا بوجھ الیکشن کمیشن پر ڈال دیا گیا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کیا سمندر پار پاکستانی اگلے انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں گے یا نہیں کیونکہ اس کے لیے ایک تفصیلی لائحہ عمل اور انتظامات کی ضرورت ہے۔ اگرچہ مبہم قانون منظور کرانے والوں نے سمندر پار پاکستانیوں میں اپنی ساکھ بہتر کی ہے تاہم اس قانون پر عمل درآمد سے پہلے مختلف نقطہ نظر کو مدنظر رکھنے کے لیے ایک تفصیلی بحث کی ضرورت ہے، سیاسی جماعتوں کو قومی مفاد کو پارٹی مفادات اور تشہیر سے بالا تر سمجھنا چاہیے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی وہاں اچھے شہری کے طور پر اپنا تشخص قائم کریں، ایک ایسے وقت میں آبائی اور سکونتی ملک سے وفاداری کے حلف کے ساتھ دہری شہریت بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے مدد گار نہیں ہوگی جب بعض ممالک میں نسل پرستی، مذہبی تعصب اور نظریاتی تصادم عروج پر ہے، حقیقت یہ ہے کہ نائن الیون کے سانحے کے اثرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ہیں۔(بشکریہ، دی نیوز، ترجمہ: راشد عباسی)