یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہو گا

پہلے تولوپھربولووالا محاورہ صدیوںسے رائج ہے مگر ہمارے حافظے اس قدر خراب ہیں کہ اس قسم کی باتیں ہمیں یاد نہیں رہتیں ‘ اور بولتے ہوئے ہماری مت ماری جاتی ہے ‘ بعدمیں جب اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے توہم ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں اور پھر گھگھیا کر معافیاں مانگتے ہوئے بھی ہمیں شرم نہیں آتی ‘ اس قسم کی صورتحال ہمارے ہاں عام ہے ‘خصوصاً سیاسی حلقوں میں بلا سوچے سمجھے ‘ بولنا ایک وتیرہ بن چکا ہے’ اوپر سے ”برسراقتدار” کا تڑکہ بھی لگا ہو تو”سرکاری طاقت” کے زعم میں غرور اور تکبر میںمبتلا ہو کربے خوف و خطر بولنا ایک عادت ثانیہ سی بن جاتی ہے ‘ تاہم یہاں ایک پشتو محاورہ بھی یاد آرہا ہے جس کا ترجمہ یوں ہے کہ ”تم نے اپنا کابلی مکا دیکھا ہے مگر مدمقابل کا قندھاری مکا نہیں دیکھا” یعنی ضرب لگاتے ہوئے تمہیں صرف اپنی قوت کا پتہ چلتا ہے اور جب سامنے والا اس سے بھی بھاری قوت سے مکا رسید کردیتا ہے تو تمہیں دن میں تارے نظر آسکتے ہیں ‘ بات صرف اتنی سی ہے کہ حالیہ ہفتوں میں حکومتی وزراء اورالیکشن کمیشن کے مابین الیکٹرانک ووٹنگ مشین پرتکرار سے بھی آگے بات چل کرتو تکار تک جا پہنچی ‘ ایک اجلاس میں ”سرکاری طاقت کے زعم میں”الیکشن کمیشن کے اہلکاروں کو مبینہ طور پر بے عزت کیا گیا ‘ اور اس کے بعد دو وفاقی وزراء نے پریس بریفنگ میں الیکشن کمیشن پرکک حملے کرکے ”بکائو” ہونے تک کے الزامات لگاتے ہوئے ‘ ایسے الیکشن کمیشن کو آگ لگانے کے ”فتوے” جاری کئے ‘ اس کا سخت نوٹس لیکر چیف الیکشن کمشنر نے دونوں وفاقی وزیروں کو توہین کے نوٹسز جاری کئے ‘ جس سے راہ فرار کی بڑی کوشش کی گئی مگربے سود ‘ بالآخر پہلے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے حاضرہوکرمعافی مانگی مگرزبانی کلامی معافی کوتسلیم نہ کرتے ہوئے انہوں نے مجبورہو کر تحریری معافی کی درخواست دی ‘ کیونکہ دوسری صورت میں یہ ”جرم” ناقابل معافی اور نتیجہ کم ازکم پانچ سال تک کی نااہلی پرمنتج ہو سکتا تھا ‘ اور اب تازہ خبر کے مطابق وزیر ریلوے اعظم سواتی نے بھی تحریری معافی طلب کر لی ہے ‘ اب فیصلہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں ہے کہ وہ ان تحریری معافی ناموں کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں اور ان کے ساتھ تاریخ کے صفحات میں محفوظ سکندراعظم اور راجہ یورس کے مبینہ ڈائیلاگ والا سلوک کرتا ہے یاپھرکچھ اور کہ راجہ یورس نے مبینہ شکست کے سکندر اعظم کے اس سوال پر کہ بتائو تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے راجہ یورس نے جواب دیا’ وہی جوبادشاہ بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ سکندر اعظم ”خوش ہو کر” نہ صرف اسے معاف کر دیا تھا بکہ اس کا مفتوحہ علاقہ بھی واپس کر دیا تھا ‘ بہرحال اب چونکہ بال الیکشن کمیشن کے کورٹ میں ہے سو دیکھتے ہیں بقول ا فتخار عارف کہ
کہانی اپنی الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے
یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہوگا
تاہم سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ آخر”طاقت کے زعم میں” بعض لوگوں کو کیا پڑی ہوئی ہے کہ ذرا سا ”طاقت کا نشہ” چڑھتا ہے اور وہ آپے سے باہر ہو کرآنکھوں میں انگارے بھر کر زبان سے شعلے اگلنا شروع کردیتے ہیں۔ یعنی
خودی کا نشہ بڑھا آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا!
ابھی ایک قضیہ فرو نہیں ہوا کہ فواد چوہدری نے ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا اور وفاقی کابینہ کے اجلاس سے باہر آکرپریس بریفنگ میں”تڑی لگائی” کہ اگرالیکشن کمیشن نے ایوی ایم پر الیکشن نہ کرائے تو اسے فنڈزنہیں دیئے جائیں گے”۔ اس دھمکی پرملک کے طول وعرض سے شدید اعتراضات سامنے آئے اور آئینی ماہرین نے اس کی”آئینی گرفت” کی کہ الیکشن کمیشن ایک خود مختارآئینی ادارہ ہے جس کے فنڈز روکنے کی کارروائی غیر آئینی ہے اور کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس ادارے کے فنڈز روکے ‘اس کے بعدایک اوروفاقی وزیرشبلی فراز
نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں اصل”حقائق”سے پردہ اٹھاتے ہوئے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کے حوالے سے فنڈز فراہمی کی بات کابینہ کے باقاعدہ اجلاس کی کارروائی کاحصہ نہیں تھا بلکہ بات اتنی سی تھی کہ دوران اجلاس وزیر اعظم عمران خان نماز کے لئے گئے تو اس دوران میں ”گپ شپ” کے دوران اس نظریئے پر تبادلہ خیال کیا گیااور یہ کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں تھا ‘ مگر باہرآکر فواد چوہدری نے اسے پریس کے ساتھ شیئر کیا اب اگرشبلی فراز کی وضاحت کو دیکھا جائے توبھی اس کے دو پہلونکلتے ہیں ‘ اور بعض تجزیہ کاراسی”سازشی تھیوری ” پرتبصرے کر رہے ہیں کہ یہ دراصل وہی اردو محاورے کی شکل ہے کہ ”دبکے تو دبائو ‘ نہ دے تو خود دبک جائو” یعنی محولہ فیصلہ اجلاس کا باقاعدہ حصہ تونہیں تھا مگر بطورتڑی یادھمکی استعمال کرنے کی حکمت عملی کے طور پرآزمانے کی کوشش کی گئی کہ اگراس سے خائف ہوکر الیکشن کمیشن پیچھے ہٹنے پرآمادہ ہوگئی تو کام بن جائے گا اور اگر اس نے مزاحمت کی تواسے بقول شبلی فراز نیا رخ دے کر حکومت خود پسپائی اختیارکر لے گی ‘ اور ہوا بھی یہی کہ جہاں آئینی اور قانونی ماہرین’ سیاسی رہنماء ‘ تجزیہ نگار فواد چوہدری کے بیانئے پر برس رہے ہیں اور اب انہیں پناہ ڈھنڈنے کے لئے کوئی راہ کوئی جائے پناہ نظر نہیں آرہی ہے ‘ وہاں خود اٹارنی جنرل نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں واضح کر دیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی فنڈنگ مشروط نہیں کی جا سکتی’ یوں اس معاملے پر بھی وہی محاورہ پہلے تو لو ‘ پھر بولو کا اطلاق آسانی سے کیا جاسکتا ہے’ جبکہ کہیں کوئی دورکی کوڑی لاتے ہوئے اسے بھی”توہین الیکشن کمیشن”کے زمرے میں شامل کرتے ہوئے ایک اور درخواست اسی نوعیت کی نہ داغ دے اور موصوف کوایک بار پھر تحریری معافی مانگنے پر مجبور نہ ہونا پڑے کہ بقول حسن عباس رضا
بدن میں ذرہ ذرہ زہراتارا جارہا ہے
کہ ہم کوآجکل قسطوں میں مارا جارہا ہے
بظاہر تو بہت ہی دور ہیں گرداب سے ہم
مگر لگتا ہے ہاتھوں سے کنارہ جارہا ہے