قوم نے ہجوم کے فیصلے کو مسترد کر دیا

سیالکوٹ کے اندوہناک واقعہ نے پوری قوم کو نہ صرف سوگوار کر دیا بلکہ شرمندگی سے اس کا سر بھی جھکا دیا ہے، چند عاقبت نا اندیشوں نے اپنے ذاتی مقاصد کے لئے اس سازش کا تانا بانا تیار کیا لوگوں کے جذبات کو ابھارا اور ایک ایسے شخص پر توہین مذہب کا الزام لگا کر اسے سر عام جلا دیا جو سات برسوں سے پاکستان میں موجود تھا اور اس کے بارے میں کبھی کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی تھی۔ سات سال ایک ملک میں رہنے کے بعد کوئی بھی شخص باآسانی یہ سمجھ سکتا ہے، وہاں کے عوام کن باتوں کو اچھا سمجھتے ہیں اور کن پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں سری لنکا کا شہری پریانتھا کمارا ایک فیکٹری میں اہم منصب پر فائز تھا۔ کیا وہ ایسی حماقت یا غلطی کر سکتا تھا جو توہین مذہب کے زمرے میں آتی ہو؟ ظاہر ہے یہ صرف ایک کہانی گھڑی گئی تاکہ فیکٹری معاملات میں ایکسپورٹ مینجر کی حیثیت سے سری لنکن شہری کو راستے کی رکاوٹ سمجھ کر ہٹایا جائے، جس کے لئے یہ گھنانی سازش تیار کی گئی، جس کی وجہ سے پاکستان کی پوری دنیا میں بدنامی ہوئی اور خود پاکستانیوں کے سر دکھ اور شرم سے جھک گئے۔ اس واقعہ پر جس طرح پوری قوم نے اپنا شدید ردعمل دیا ہے، اس نے دوسری طرف دنیا کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ پاکستانی عوام بحیثیت مجموعی ہر ایسے واقعہ کی مذمت کرتے ہیں جس میں انسانیت کی تذلیل کی گئی ہو یا کسی بے گناہ کو ظلم کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ اچھی بات یہ ہے پوری ریاست اور اس کے عوام کا وزن پلڑے کے اس جانب ہے جو انسانیت، محبت، سلامتی اور انسانی جان کی حرمت سے تعلق رکھتا ہے حکومت اور آرمی نے بھی اس واقعہ پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے علماء نے بھی کھل کر اس کی مذمت کی ہے۔ ماضی میں ایسے واقعات پر آراء تقسیم ہو جاتی تھیں، مگر سری لنکا کے اس بے گناہ شہری نے ہمیں یک زبان کر دیا ہے۔ ہر طرف سے اس کی شدید مذمت کی گئی ہے۔سری لنکا ہمارا ایک ایسا برادر ملک ہے جس کے ساتھ تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں سری لنکن عوام کے بارے میں ہمارا تاثر یہ ہے وہ بہت فرینڈلی اور مخلص ہیں۔ وہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اور ایسے معاملات میں نہیں پڑتے جو کسی کی دل آزادی کا باعث بنتے ہوں۔ دنیا میں مین پاور کا ایک بڑا حصہ سری لنکا سے تعلق رکھتا ہے، خلیجی ممالک میں سری لنکا سے تعلق رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ پاکستان کو سری لنکا سے آنکھوں کے عطیات بھی سب سے زیادہ ملتے ہیں۔ کرکٹ کے میدان میں بھی سری لنکا نے ہمیشہ پاکستان کو ترجیح دی ہے۔ کولمبو یونیورسٹی میں پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد تعلیم حاصل کر رہی ہے، یہ سب باتیں اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں کہ سازش جہاں بھی تیار کی گئی، اس میں بنیادی حقیقتوں کا خیال نہیں رکھا گیا۔ یہی وجہ ہے اس سانحے پر پورے ملک میں غم و غصے اور دکھ کی لہر دوڑ گئی۔ یہ پہلا واقعہ ہے جس میں ایک غیر ملکی کو توہین مذہب کا الزام لگا کر زندگی سے محروم کیا گیا۔ بدقسمتی سے ماضی میں ہمارے ہاں اقلیتوں اور خود مسلمانوں کو اس الزام کے تحت اپنی عدالتیں لگا کر فیصلے دیئے گئے جو بعد میں ایک سازش اور ذاتی رنجش کا شاخسانہ قرار پائے۔
سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کے بارے میں ابھی تک جو تفصیلات سامنے آئی ہیں وہ اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں کہ وہ ایک پروفیشنل آدمی تھا۔ اس نے سات سال میں اپنی محنت اور ذہانت سے اپنی فیکٹری کو ترقی کے عروج پر پہنچا دیا۔ سیالکوٹ ایک ایسا شہر ہے جو برآمدات کے حوالے سے اپنی عالمگیر شہرت رکھتا ہے۔ پریانتھا کمارا اس فیکٹری کا ایکسپورٹ مینجر تھا اور اس منصب پر اس نے انتہائی دیانت داری اور مالکان سے وفاداری کے ساتھ اپنا فرض ادا کیا۔ ایسے لوگوں سے بعض اوقات حسد بھی شروع ہو جاتا ہے، مرکزی ملزم فرحان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک ایسا ہی کردار ہے جس نے اپنے مذموم مقصد کے لئے یہ سوچے بغیر کہ وہ کیا گھنانا کھیل، اپنے ہی ملک کے ساتھ کھیلنے جا رہا ہے، پریانتھا کمارا کو مارنے کی سازش تیار کی، اس پر پوسٹر پھاڑنے کا جھوٹا الزام لگایا۔ واقعات کے مطابق پہلے اسے چھت سے دھکا دے کر نیچے پھینکا، جس سے اس کا چہرہ لہولہان ہو گیا۔ پھر وہاں پہلے سے موجود ہجوم نے پریانتھا کمارا کو برہنہ کر کے اس کے زخمی جسم کو گھسیٹا، مارا، بعد ازاں نذر آتش کر دیا۔ سازشی عناصر کا خیال تھا مذہب کا عنصر شامل کر کے وہ قوم کو تقسیم کرنے میں کامیاب رہیں گے مگر اس حوالے سے انہیں مکمل طور پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ہر آنکھ اس واقعہ پر اشک بار ہوئی اور ہر دل پر گویا ایک چھری سی چل گئی پریانتھا کمارا گویا اس قوم کو متحد کر گیا۔ وہ ہمارا ہیرو بن گیا ہے جس نے اس وطن کی خدمت کی اور اسی جذبے کی وجہ سے وہ ظالموں کی درندگی کا شکار ہوا۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس واقعہ کو ایک ٹیسٹ کیس بنایا جائے، ریاست پوری قوت سے سامنے آئے اور کسی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر اس واقعہ میں ملوث تمام کرداروں کو فوری سماعت کی خصوصی عدالت کے ذریعے کڑی سے کڑی سزا دلوائے، یہ پولیس کا بھی امتحان ہے کہ وہ اس واقعہ کو روایتی طور پر اپنی کمائی کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ پوری محنت اور دلجمعی سے ان تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لائے جنہوں نے اس سانحے میں کوئی بھی کردار ادا کیا ہو۔