خود مختار اور فعال عدلیہ

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ”انصاف کی فراہمی میں عدلیہ اور وکلاء کے کردار” کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی اور بنیادی حقوق کا تحفظ ہمارا کام ہے، عدالتیں آزاد ہیں اور آزاد رہیں گی، ان کا کہناتھا کہ جج صاحبان موسم گرما میں گرمی اور موسم سرما میں سردی والا فیصلہ نہیں دیتے، انہوں نے کہاکہ فیصلوں کو عدلیہ کا رجحان قرار دینا قطعی طور پر مناسب نہیں ، چیف جسٹس نے ججوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم انسانی حقوق کاتحفظ نہیںکر سکتے تو ہم جج رہنے کے قابل نہیں ۔ تاہم اسی سیمینار میں انہوں نے تسلیم کیا کہ ماتحت عدلیہ کا بہت برا حال ہے۔ چیف جسٹس نے حکومت اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی توجہ ماتحت عدلیہ کی ناقص کارکردگی کی جانب مبذول کراتے ہوئے زوردیا کہ اس حوالے سے اقدامات کیے جائیں۔
قانون و انصاف کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر کی عدالتوں میں 21 لاکھ سے زیادہ کیسز زیرِ التواء ہیں، سپریم کورٹ میں زیر التواء کیسز کی تعداد 51ہزار ، شرعی عدالت میں 178کیسز ، چاروں ہائی کورٹس میں زیر التواء کیسز 3لاکھ 39ہزار جب کہ ملک بھر کی ضلعی عدالتوں میں 17لاکھ 68ہزار سے زائد کیسز زیر التواء ہیں ، زیر التواء کیسز میں ہزاروں ایسے ہیں جنہیں دہائیوںکا عرصہ بیت چکا ہے مگر ان کا فیصلہ نہیں ہو پایا ہے، ان زیر التواء کیسز کی کوئی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں ہے، جج صاحبان یہ کہہ کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں کہ ججز کی کمی کے باعث کیسز التواء میں چلے جاتے ہیں، اگر حکومت ججزکی کمی پوری کر دے تو زیر التواء مقدمے کم ہو سکتے ہیں، حکومت نے ججز کی کمی کو دور کرنے کی کئی بار یقین دہانی کرائی مگر تاحال ججز کی ہزاروں آسامیاں خالی پڑی ہیں، ماتحت عدالتوں میں ایک ہزار سے زیادہ آسامیاں خالی ہیں، چاروں ہائی کورٹس میں ججز کی 27 سے زائد آسامیاںخالی ہیں جب کہ سپریم کورٹ میںبھی ججز کی دو نشستیں خالی ہیں۔ اسی طرح وقت کے ساتھ ساتھ ملک کی آبادی میں اضافہ ہوتارہا، مگر آبادی کو مدِنظررکھ کر ججز کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا۔
قانونی ماہرین فوری اور سستے انصاف کی راہ میں رکاوٹ محض ججز کی کمی کو تصورنہیں کرتے ، بلکہ کئی عوامل جمع ہو کر انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں ، سینکڑوں نئی عدالتیں بنا کر ہزاروں ججزتعینات کرنے سے انصاف کی فراہمی یقینی نہیں بنے گی ، نہ ہی پاکستان کی معیشت اس قدر بوجھ کی متحمل ہو سکتی ہے ۔ہاں خالی آسامیوں کو فوری پورا کیا جانا چاہیے ، جس کی طرف حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انصاف کی فراہمی صرف عدالتوں کی ذمہ داری نہیں ہے۔ عدالتیں فیصلہ سناتی ہیں، اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانا اور لاء اینڈ آرڈر کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے، کیونکہ نظام انصاف کی ابتداء تھانہ اور پولیس سے ہوتی ہے ، اسی لیے تھانہ کو انصاف کی پہلی سیڑھی بھی کہا جاتا ہے، اس لیے تھانہ میں پڑھے لکھے ، قابل ، باصلاحیت اور قانون سے واقفیت رکھنے والے اہلکاروں کو تعینات کیا جانا از حد ضروری ہے اور یہ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، تاہم جب ہم پاکستان کے تھانہ سسٹم کو دیکھتے ہیں تو وہ قانون و انصاف کے تقاضوں پر پورا اترتے دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ کسی بھی مقدمے کا آغاز اس ایف آئی آر سے ہوتا ہے جو نیم خواندہ محرر نے اپنی سمجھ کے مطابق دفعات لگائی ہوتی ہیں ، متعلقہ دفعہ ہی کیس کے اگلے مراحل اور فیصلے کا سبب بنتی ہے کیونکہ جج نے انہی دفعات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ تھانے کے مسائل اس قدر گمبھیر ہیں کہ اپنی مرضی کی دفعہ لگوانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ جعلی میڈیکل رپورٹس پیش کر کے اور جھوٹے گواہ ظاہر کر کے جو دفعہ لگوانا چاہیں وہ لگ سکتی ہے، یوں مقدمے کی بنیاد ہی غلط رکھی جاتی ہے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ محرر کے پاس قانون کی ڈگری ہو اور اس کا عہدہ ایس ایچ او کے برابر ہو تاکہ وہ کسی دبائو میں آئے بغیر متعلقہ دفعہ لگا سکے۔
زیرِ التواء مقدمات میں کمی اسی صورت ہو سکتی ہے جب فراہمی انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے والے تمام عوامل فعال ہو جائیں۔ وکلائ، پراسیکیوٹر اور تمام فریق مقدمے کے فیصلے کے لیے مقررہ تاریخ کی آخری حد تک پابندی کریں ، جب مقدمے کے تمام کردار موجود ہوں تو جج صاحبان فیصلہ کرنے میں تاخیر نہ کریں۔ جب چیف جسٹس آف پاکستان ماتحت عدلیہ میں برا حال ہونے کا اعتراف کر رہے ہوں تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ فراہمی انصاف کی راہ میں رکاوٹ کس درجہ تک بڑھ چکی ہے، کیونکہ ایک اندازے کے مطابق 80فیصد سے زائد دیوانی مقدمات ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت ہوتے ہیں ، یوں عام آدمی کو زیادہ تر ماتحت عدالتوں سے ہی واسطہ پڑتا ہے، سو ماتحت عدلیہ کی کارکردگی بہتر بنانے اور فوری و سستے انصاف کی فراہمی کے لیے توجہ دی جانی چاہیے۔ ماتحت عدلیہ بھی چونکہ چیف جسٹس گلزار احمد کے ماتحت ہیں تو امید کی جانی چاہیے کہ وہ انصاف کی فراہمی آسان بنانے کیلئے اپنے تئیں ہر وہ کوشش کریں گے جو اُن کے منصب کا تقاضا ہے تاکہ خود مختار اور فعال عدلیہ کا تاثر قائم ہو سکے۔