دو عملی کیوں؟

وزیراطلاات فواد چوہدری بعض تنظیموں کے حوالے سے واضح موقف اورحکمران جماعت ہی کی بعض شخصیات کا ان عناصر سے رازونیازاور درپردہ حمایت اور گلدستہ پیش کرنے کے عمل سے سیاسی مصلحت کی بو آتی ہے جو مناسب امرنہیں تشدد میں ملوث عناصر سے راہ و رسم اور ان کے بیانیہ کو تقویت پہنچانے کی کسی کوشش جو دانستہ ہو یا نادانستہ قابل قبول امر نہیں سیالکوٹ کے واقعے کے بعد تو وزیر اطلاعات کے بیان کی اصابت واضح ہو کر سامنے آئی ہے اب وقت آگیا ہے کہ تشدد پر آمادہ اور اندھا دھند و بلاسوچے سمجھے حرکت میں آنے والے عناصر کا نعرہ خواہ جو بھی ہو اب وہ ناقابل برداشت ہو گئے ہیں ان کے اس عمل کی جید علمائے کرام نے متفقہ طور پر مذمت کی ہے جس کے بعد بھی اگر محتاط رویہ اختیار نہ کیا گیا اور ان عناصر کوقابو میں لانے کی سنجیدہ سعی نہ کی گئی اور حکومت حسب سابق دبائویا کسی مصلحت کا شکار ہو جائے تو پھر پلوں کے نیچے مزید پانی کے بہنے کی گنجائش نہیں بہتر ہو گا کہ سیاسی جماعتیںووٹ بینک کو محفوظ بنانے یا پھر کسی اور مصلحت اور دبائو میں آنے کی بجائے واضح موقف اور لائحہ عمل اختیار کریں جہاں جتھے کے سامنے کھڑے ہونے پر نوجوان کو اعزاز دیا جاتا ہے وہاں حکمرانوں کی جانب سے بھی اس طرح کے کردارو عمل کا بھی مظاہرہ کرنے کی عملی سعی ہونی چاہئے دو عملی سے مسائل سنگین ہو سکتے ہیں جس سے اجتناب کرکے واضح حکمت عملی اختیار کی جائے ۔توقع کی جانی چاہئے کہ اس ضمن میں واضح پالیسی اپنائی جائے گی اور قومی مفاد کو سیاسی مفادات کی نذر کرنے سے گریز کیا جائے گا۔
دو ملائوں میں مرغی حرام
پلاننگ اینڈڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی پالیسی اور کنسلٹنسی مسائل کی وجہ سے جاری مالی سال کا ترقیاتی بجٹ سرکاری محکموں کیلئے خرچ کرنے میں مشکلات کے باعث ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت مشکل ہونا تشویش کا باعث امر ہے بتایا گیا ہے کہ بیشتر محکموں نے ترقیاتی بجٹ کا معمولی حصہ خرچ کیا ہے کیونکہ زیادہ تر منصوبے کنسلٹنٹ کیوجہ سے تاخیر کا شکار ہورہے ہیں محکمہ منصوبہ بندی وترقیات کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ہر مالی سال کے دوران دسمبر کے مہینے تک50فیصد تک فنڈز خرچ کئے جاتے ہیں لیکن رواں مالی سال کے ابتدائی چھ مہینوں میں تقریبا تمام سرکاری محکموں کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں مختص فنڈ مذکورہ تناسب کے ساتھ خرچ نہیں ہوسکے جس کی وجہ سے ترقیاتی پروگرام سست روی سے دوچار ہے۔ پی اینڈ ڈی کے ذرائع کے مطابق گزشتہ مالی سال کورونا کی وجہ سے پابندیوں کے نتیجے میں ترقیاتی فنڈز خرچ نہیں ہوسکے تھے اور جاری مالی سال مبہم ترقیاتی پالیسی وجہ سے فنڈز خرچ نہیں ہورہے ہیں۔جس طرح کی صورتحال درپیش ہے یہ ایسا نہیں کہ اس کا حل نہ نکالا جاسکے اور مسلسل دوسرا سال بھی لاحاصل گزرنے دیا جائے وسائل اور فنڈز کی کمی اور فنڈز مختص نہ ہونا اپنی جگہ ایک مسئلہ رہا ہے اس صورتحال کی ذمہ داری حکومت اور فیصلہ سازوں پر عائد ہوتی ہے جہاں فنڈز مختص ہو چکے ہوں اس کے بعد عمل درآمد اور کاموں کی بروقت اور احسن طریقے سے تکمیل محکموں کی ذمہ داری ہے جس سے اختیارات اور طریقہ کار میں الجھا کر احتراز کی کوئی گنجائش نہیں بروقت فیصلہ اور اقدامات کی ذمہ داری جس سطح پر اور جس طریقہ کار کے تحت جسے سونپی گئی ہے اس میں لیت و لعل نہیں ہونی چاہئے اور کاموں کے بروقت آغازو تکمیل بلاتاخیر یقینی بنائی جائے تاخیر کی جو بھی وجوہات ہوں ان کا فوری جائزہ لیکر ان کو دور کیا جائے اور کام بروقت شروع و مکمل کئے جائیں۔
بستوں کا بوجھ ہنوز کم نہ ہو سکا
عدالتی احکامات کے باوجود سکول کے بچے بھاری بھر کم بستہ اٹھانے پر تاحال مجبور ہیں۔طلبہ کے سکول بیگز کی ساخت اور وزن سے متعلق قانون پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے نئے تعلیمی سال پر بھی نجی سکولز نے طلبہ کو بھاری بھر کم کتابیں ‘ کاپیاں اور دیگر لوازمات ڈھونے پر مجبور ہیں ان غیر ضروری لوازمات کے باعث بستے کا وزن بدستور ناقابل برداشت ہے پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کو اہداف تو حوالے کئے گئے ہیں جس میں اتھارٹی کو قانون کی خلاف ورزی کرنیوالے سکول انتظامیہ کیخلاف کارروائی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے لیکن رولز موجود نہ ہونے کی وجہ سے اس قانون کا اطلاق ہنوز نہیں ہو سکا کسی بھی سکول میں یا سرکاری ادارے کے پاس بستے کا وزن کرنے والا آلہ موجود نہیں۔بیان شدہ صورتحال میں ساری تپیسا رائیگاں اور لاحاصل ٹھہرتی ہے جس کا نوٹس لینے اور بچوں کے بستے کا وزن کم کرانے کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے جب تک عملی طور پر سختی کا مظاہرہ نہیں ہو گا سکولوں کی جانب سے غیر ضروری کتابوں ‘ کاپیوں اور دیگر لوازمات کے بوجھ میں کمی تو درکنار طالب علموں کو ٹائم ٹیبل کے مطابق کتابیں اور کاپیاں لانے تک کی ہدایت نہیں کی جاتی اس امر کا جلد سے جلد نوٹس لیا جانا چاہئے اور حکومت نے اس حوالے سے جو مہم چلا کر طالب علموں اور والدین کو دلاسہ دیا تھا اسے ضائع اور بیکار نہ جانے دیا جائے۔