عالمی تشویش اور افغان حکومت کے معاملات

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے طالبان کو متنبہ کیا ہے کہ افغانستان میں سکیورٹی فورسز کے سابق اہلکاروںکی ٹارگٹ کلنگ بند کی جائے۔ ایک مشترکہ بیان میں 22ممالک کے اتحاد نے طالبان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سابقہ حکومت یا سکیورٹی اہلکاروں کے احترام کا وعدہ پورا کریں۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے کہ جب ایسے واقعات پر متعدد رپورٹس جاری کی گئی ہیںطالبان نے اقتدار سنبھالنے کے وقت یہ وعدہ کیا تھا کہ سابقہ حکومت کے اہلکاروں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔لیکن واقعات کی روک تھام میں کامیاب نہیں ہو سکے جس پر سوال اٹھنا فطری امر ہے دوسری جانب طالبان نے ایک بار پھر ان الزامات کی تردید کی ہے۔ طالبان نے بی بی سی کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ایسے کوئی شواہد نہیں جو اس بات کی گواہی دیں کہ ایسا کچھ ہوا ہے۔ ہم ان الزامات پر آزاد تحقیقات کی اجازت دیں گے اور اس میں مکمل تعاون فراہم کریں گے۔بیان میں طالبان نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے عالمی برداری ان الزامات کی بنیاد پر افغانستان سے متعلق فیصلے نہیں کرے گی۔طالبان کا بیان صورتحال پر الزامات کا جواب تو ہے لیکن یہ کافی نہیں اور نہ ہی دنیا اس پر صاد کرے گی طالبان کو ہرحال میں اقدامات کرنا ہو گی۔ امر واقع یہ ہے کہ دہائیوں جاری جنگ کا شکار ملک میں اس طرح کے واقعات کے نہ ہونے کی امید نہیں کی جا سکتی لیکن ضروری نہیں کہ ان واقعات میں طالبان کا ہاتھ ہو افغانستان کے روایتی قبائلی معاشرے میں اس طرح کے واقعات کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جس میں دشمنی ‘ خاندانی تنازعات اور ان عناصر کی سابق دور کی بعض سرگرمیاں جیسے امور کی پوری طرح گنجائش ہے بہرحال حکمران ہونے کے ناطے ان واقعات کی روک تھام اور اپنے شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری طالبان پرعاید ہوتی ہے جس کی روک تھام کی ذمہ داری انہیں نبھانی چاہئے اس بارے میں عالمی ممالک کا مطالبہ قابل فہم ہے جن کے جواب میں طالبان کی جانب سے معاملات کی آزادانہ تحقیقات کی پیشکش اور تعاون کاعندیہ سنجیدہ قدم ہے جسے یا تو ان ممالک کی جانب سے قبول کیا جانا چاہئے یا پھر زیادہ مناسب امر یہ ہے کہ ان الزامات کی مشترکہ تحقیقات کی جائیں تاکہ الزامات کی حقیقت اور واقعات کی نوعیت سامنے آسکے محولہ تمام امور سے قطع نظر افغانستان کو اس وقت جس قسم کی صورتحال اور حالات کا سامنا ہے اگرچہ یہ قتل اور لاقانونیت کے واقعات کا جواز تو نہیں بن سکتے لیکن متشدد معاشرے کی وجوہات اور اسباب وعلل کو یکسر نظر انداز کرنا بھی صورتحال سے نظریں چرانے کے مترادف امر ہو گا ان حالات سے افغانستان کو نکالنے اور افغان عوام کی امداد پر اب عالمی برادری کوسنجیدگی سے توجہ دینا چاہئے ایسا کرکے ہی افغانستان میں انسانی المیہ کو روکا جا سکتا ہے عالمی برادری رسمی طور پر افغان حکومت کو قبول کرتی ہے یا نہیں اس سے قطع نظر افغانستان میں حالات کو معمول پرلانے اور دنیا سے اس کے روابط کی بحالی کا تقاضا ہے کہ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر دنیا کے ساتھ افغانستان کے روابط بحال ہوں جن کے ذریعے تمام معاملات پر جس میں محولہ قسم کے واقعات بھی شامل ہیں ان پر بات چیت ہوسکے اور ایک دوسرے کے موقف اور معروضات سے آگاہی حاصل ہو سکے۔یہ امر اس لئے بھی ضروری ہو گیا ہے کہ عالمی برادری خود کو اب مزید افغانستان کے مسائل اور معاملات سے الگ نہیں رکھ سکے گی امر واقع یہ ہے کہ بین الاقوامی امداد کی بندش نے افغان معیشت کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ افغانستان کی معیشت پہلے ہی دو دہائیوں کے جنگی حالات اور داخلی انتشار کی وجہ سے کمزور تھی۔ افغانستان کی معیشت کی بحالی ایک انتہائی مشکل امر بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کا یقینی امکان ہے کہ یہ رواں برس بیس فیصد مزید سکڑے گی۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان کی مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی سن 2021-2022کے دوران بیس فیصد سکڑے گا اور یہ پہلے سے لڑکھڑاتی معیشت کو مزید لاچار کر دے گی۔ اقوام متحدہ کی اہلکار کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطی کے ملک شام کی اقتصادیات میں شدید تنزلی کا عمل پانچ برسوں کی جنگی صورت حال کے بعد رونما ہونا شروع ہوا تھا لیکن افغانستان میں یہ گھمبیر معاشی حالات صرف پانچ مہینوں میں ابھرے ہیں۔پریشان کن امر یہ ہے کہ افغانستان کی آبادی کی ضروریات اور قریب قریب سبھی حکومتی اداروں کی فعالیت میں شدید تنزلی سے جو حالات پیدا ہو گئے ہیں، ایسے تو یمن، شام اور وینزویلا میں ظاہر نہیں ہوئے ہیں۔یہ امر اہم ہے کہ امریکی اور نیٹو کی افواج کے انخلا کے بعد بین الاقوامی امداد کا ملنا بھی بند ہو گیا ہے۔ یہ بین الاقوامی امداد افغانستان کے جی ڈی پی کا چالیس فیصد اور سالانہ بجٹ کا اسی فیصد تھا۔عالمی برادری جہاں طالبان حکومت سے توقعات رکھتی ہے وہاں اسے انسانی المیہ سے دوچار ہونے کے خطرات سے بچانے کی بھی ذمہ داری پر توجہ دی جائے۔ امداد کا عمل بحال ہونے کے بعد بیمار اور مفلوج اداروں کا فعال ہونا بھی ازحد اہم ہو گا کیونکہ اسی سے معیشت کی بحالی کا عمل شروع ہو گا۔ یہی بحالی بیروزگار افراد کے لئے روزگار کا سبب بنے گی اور افغان عوام میں کمائی کرنے کا عمل ان کے ذاتی وقار اور سلامتی کا باعث بھی ہو گا۔