پہلا آئینی بحران اور ایک عبوری آئینی آرڈر

قیامِ پاکستان کے بعد جو دستور ساز اسمبلی موجود تھی ،وہ 1946ء کے عام انتخابات کے تحت وجود میں آئی تھی۔ اس اسمبلی کے پہلے صدر قائد اعظم تھے،جن کی رحلت کے بعد مولوی تمیز الدین خان اسمبلی کے صدر منتخب ہوئے۔ اس اسمبلی کو عام قانون اور دستور سازی کا اختیاربھی حاصل تھا۔
نئی دستور سازی کے حوالے سے اسمبلی کے متعدد اجلاس ہو چکے تھے۔نیا دستور مکمل کر لیا گیا اور25دسمبر1954ء کوپہلے دستور کا اعلان ہونے والا تھا کہ گورنر جنرل ملک غلام محمد نے اکتوبرکے مہینہ میں دستور ساز اسمبلی منسوخ کر کے ایمر جنسی نافذ کر دی۔ مولوی تمیز الدین نے سندھ چیف کورٹ میں اس اقدام کے خلاف ایک آئینی درخواست(رٹ) پیش کی۔ سندھ کورٹ نے گورنر جنرل کے تمام اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا ۔ اس فیصلہ کے خلاف فیڈرل کورٹ میں اپیل ہوئی تو اپریل1955ء میںگورنر جنرل کے حکم کو درست تسلیم کیا گیااور حکومت کے حق میں فیصلہ صادر ہوا۔ یہی وہ مقدمہ تھا جس نے پاکستان کی آئینی تاریخ میں ”نظریہ ضرورت” کی اصطلاح پیدا کر کے مستقبل میں سیاسی تاریخ کی ایک خاص سمت مقرر کر دی۔ یہ پاکستان میںپہلا آئینی بحران تھا جس سے عدلیہ کی آزادی کے بارے ایک مستقل تشریح اور بحث کا آغاز ہوا۔
فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس محمد منیر کے علاوہ پانچ دیگر جج بھی بینچ میں شامل تھے جن میںجسٹس اے آر کارنیلس نے اپنے اختلافی نوٹ میںسندھ کورٹ کے فیصلے کودرست قرار دیا اور لکھا کہ ” مَیں دستور ساز اسمبلی کو گورنر جنرل سے بالاتر سمجھتا ہوں ۔اول تو یہی ہے کہ پارلیمنٹ بالاتر ہے۔دوم یہ کہ گورنر جنرل کو اسمبلی کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق کا کرنا ہے”۔ جب پاکستان میں عام بالغ حق رائے دہی متعارف ہوا تو ایک سال بعد 1956ء میں پنجاب اور سرحد کی صوبائی اسمبلیوں نے قراردادیں پیش کیں کہ پانچ سال ہو گئے ہیں اور اب تک دستور ساز اسمبلی مُلک کا دستور نہیں بنا سکی۔ لہٰذا یہ اسمبلی غیر نمائندہ ہو چکی ہے ۔ اپنے اپنے صوبہ سے متعلق دستور ساز اسمبلی کے ارکان سے مطالبہ بھی کیا کہ وہ مستعفی ہو ں اور نئے انتخابات کر ائے جائیں۔ اس وقت مغربی پاکستان میں مسلم لیگ برسراقتدار تھی جبکہ مشرقی بنگال میں نئی سیاسی جماعتو ں کے اتحاد”یونا ئٹیڈ فرنٹ” نے صوبائی الیکشن میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی تھی۔ یونائٹیڈ فرنٹ نے بھی دستورساز اسمبلی سے مستعفی ہونے کی قرارداد منظور کی۔ حکومت کے ایڈووکیٹ جنرل نے انہی قراردادوں کے پیش نظر کورٹ میں اسمبلی کی منسوخی کے حق میں دلائل دئیے تھے۔ قانونی ماہرین نے یہی رائے دی کہ جاری اسمبلی جو دستور ساز اسمبلی کے طور پر کام کر رہی ہو ،اس کے منظور کردہ بل کو گورنر جنرل کی رضا مندی کی ضرورت نہیں ۔ پس سندھ چیف کورٹ کا فیصلہ صحیح ہے۔ مُلک میں جب دوسرا مارشل لا نافذ کیا گیا تو جنرل یحییٰ خان نے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن کر 1962ء کا آئین منسوخ کر دیا۔قومی و صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دیںاور تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی سرگرمیوں سے روک دیا۔ ایک دفعہ پھر عدلیہ متاثر ہوئی ۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس دراب پٹیل اس وقت ہا ئی کورٹ کے جج تھے۔ اُنہوں نے ایک اخباری انٹرویو میں کہا تھا کہ جسٹس قدیر الدین نے تمام ججوں کو بلا کر بتایا کہ ہم نے 1962ء کے آئین کی وفاداری کا حلف لیا ہے اور وہ اب منسوخ ہو چکا ہے ، ایسے میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ جسٹس پٹیل نے جواب دیا کہ میرے خیال میں تو اتنی سوچ و بچار کی ضرورت نہیں ۔آپ کو اتنا سوچنا ہے کہ مارشل لا اچھی چیز ہے یا بّری چیز ہے۔ اگر بّری ہے تو پھر کوئی وجہ یا دلیل تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ، بس قلم اُٹھائیے اور استفعیٰ لکھ دیجیے۔ چونکہ ہم نے استفعیٰ نہیں دیا ،اس کا مطلب ہے کہ مارشل لا اچھی چیز ہے اور یوں ہم تین سال تک جنرل یحییٰ خان کی ماتحتی میں کام کرتے رہے۔ جب بنگال کی کی شکست کا سارا ملبہ اس پر ڈالا گیا تو جسٹس یعقوب علی خان نے اپنے فیصلہ میں یحییٰ خان کو غدار و غاصب قرار دیا۔ اس تناظر میں اگر جج صاحبان مستعفی ہوتے ہیں تو اس کا مطلب ہے اب جو عدالتی تبدیلی آئی ہے ، وہ غیر قانونی ہے لیکن ہوا یہ کہ عبوری آئینی آرڈر جاری ہو گیا۔ ہم میں سے جن چند ججوں نے پی سی او کے تحت نیا حلف اُٹھانے سے انکار کر دیا۔ اُنہوں نے ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا کہ ہماری رائے میں مارشل لا غیر قانونی ہو چکا ہے۔ عوام از خود سمجھ چکی تھی مگر یہ بحث جسٹس یعقوب کے فیصلہ سے چل نکلی۔ اب سوال یہ ہے کہ جب اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان مارشل لا کی ماتحتی میں کا م کرتے رہے تو پھر اُس غدار و غاصب کے کیس کی سماعت کون کرے گا؟ جسٹس دراب پٹیل 1966ء میں مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے جج بنے اور 1976ء میں سپریم کورٹ چلے گئے۔ اُنہوں نے بھٹو کے مقدمہ میں اختلافی نوٹ لکھا۔ جب ضیاء الحق نے 1981ء میں عبوری آئین کا حکم جاری کیا تو اُنہوں نے نیا حلف نہیں اُٹھایا اور سپریم کورٹ سے مستعفی ہو کر ضمیر داری کے حق میں فیصلہ دے دیا۔