کاما نہ کاجا منڈل باجا

پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ (پی ڈی ایم) نے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لئے ایک بار پھر مہنگائی مارچ کا اعلان کر دیا۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت پی ڈی ایم کا اجلاس ہوا جس میں لانگ مارچ کا فیصلہ کیا گیا اور اپوزیشن اتحاد نے اسے مہنگائی مارچ کا نام دیا۔ پی ڈی ایم کے شرکاء اسلام آباد میں ہی جمعہ کی نماز ادا کریں گے۔ مہنگائی مارچ 23 مارچ کو اسلام آباد پہنچے گا ۔ جب پی ڈی ایم کے سربراہ مو لا نا فضل الرّحما ن سے استفسار کیا گیا کہ کتنے روز کا اسلا م آباد میں قیا م رہے گا تو انھو ں نے کہ آنے کی تاریخ دے دی ہے واپس جانے کی تاریخ بعد میں دیں گے۔گویا اسلا م آبا د کا دھر نا یا قیا م طویل بھی ہو سکتا ہے حتیٰ کہ عمر ان خان کے دھر نے کا ریکا رڈ بھی تو ڑ ا جا سکتا ہے ۔اس سے قبل اجلاس میں میں مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں کی اسلام آباد میں دھرنے کے بجائے ایک روزہ شو کرنے اور کارکنان کو جلسہ کے لیے فوری متحرک کرنے کی تجویز دے دی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلا س میں سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان اسمبلیوں سے فوری استعفوں پر بضد رہے اور کہا کہ اسمبلیوں سے استعفے دے کر عوام کے ساتھ کھڑے ہونا چاہے۔ اگر آج کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تو پی ڈی ایم کی تحریک کا کیا فائدہ ہو گا۔ مہنگائی ما رچ کے اعلا ن سے ایک روز قبل لا ہو ر کے حلقہ این اے 133 میں ضمنی انتخاب کا معرکہ مسلم لیگ ن نے سر کر لیا ۔ یہ حلقہ مسلم لیگ ن کا گڑھ تسلیم کیا جا تا ہے چنا نچہ مسلم لیگ ن کی یہا ں کامیا بی کوئی اچنبے کی بات نہیں ہے ، باعث حیر ت کچھ ہے تو وہ پی پی کے ووٹر وں میں اضافہ ہے ، جانے پی پی نے اس حلقے میں ایسی کیا سحر انگیزی کی، کیونکہ پی پی وہ جماعت تھی جو عام انتخابات میں بھی تقریباًپانچ ہزار ووٹ حاصل کر سکی تھی، مبصرین سیا ست کا تو یہاں تک کہنا تھا کہ اس مرتبہ پی پی اپنے امید وار کا زر ضما نت ہی بچالے تو کا فی ہو گا ، عموماًعام انتخابات میں سب سے پیچھے نمبر پر آنے والی جما عتیں ضمنی انتخابات کا حصہ نہیں بنا کر تیں، چنا نچہ جب پی پی نے اپنا امید وار نا مز د کیا تو یہ امر باعث حیر ت ٹھہرا کہ اس حلقے سے پی پی کا کیا لینا دینا ، لیکن ضمنی انتخاب میں جس شرح سے پی پی نے ووٹ حاصل کیے اس نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے لیکن بات اس وقت ہی کھل گئی تھی جب پی ٹی آئی کے نا مزد امیدوار جمشید چیمہ اور متبادل امید وار بیگم چیمہ کے کا غذات نا مزدگی تکنیکی بنیا د پر مستر ہو گئے ۔یہ سبھی کو معلو م ہے کہ پی ٹی آئی کے امید وار جمشید چیمہ اور ان کی اہلیہ کے کا غذات مستر د ہو نے کی بنیا د یہ ٹھہر ی تھی کہ دونو ں کے کا غذات نامزدگی پر تائید کنندہ اور تجویز کنندہ کا تعلق اس حلقے سے نہ تھا ، پی ٹی آئی ملک کی دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری ہے اور اس کو بیس بائیس سال سے انتخابات میں حصہ لینے کا تجر بہ بھی ہے ، کیا ان کا کوئی لیڈر اس امر سے نابلد تھا کہ تجو یز کنندہ اور تائید کنندہ کا تعلق اسی حلقے سے ہونا چاہیے جس حلقے سے انتخاب میں حصہ لینا مقصود ہے، یہ سوچی سمجھی چال تھی تاکہ اس مجبوری کی ڈگڈگی بجائی جا سکے کہ کا غذات میں غلطی کی بنا ء پر انتخاب لڑ نے رہ گئے ، یو ں پی پی کے لیے راہ ہمو ار چھو ڑ دی گئی ، ویسے سچ یہ ہے کہ 2018کے عام انتخابات سے لے اب تک ایک ہی بات مشاہد ے میں آئی ہے کہ پی پی اس دورانیہ میں پی ٹی آئی کی بیساکھی بنتی رہی ہے اور ضرورت پر پی ٹی آئی نے بھی پی پی کے لیے بیساکھیو ں کا کا م دیا ہے، چاہے وہ سینٹ کے انتخابات ہو ں یا چیئر مین سینٹ اور ڈپٹی چیئر مین سینٹ کا الیکشن ہو یا پھر یو سف رضا گیلا نی کا قائد حزب اختلا ف کے طورپر تقرر ہو ، جب پی ڈی ایم بنی تھی اس وقت سیا ست کا جو موڈ بنا تھا اس نے حکمر ان جما عت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی ، حکمر ان جماعت کے لیے پی ڈی ایم کا قیا م بوجھل صورت اختیا رکر گیا تھا تاہم خطرہ و پر یشانی کے بادل اس وقت ڈھل گئے جب پی پی نے لا نگ ما رچ اور اسمبلیوں سے مستعفی ہو نے کے اعلا ن سے اپناپاؤں کھینچ لیا اور درون خانہ عدم اعتما د کا چر چا کر ڈالا ، یو ں پی ڈی ایم کا جو بن بالا ڈھل گیا جو صرف اور صرف حکمر ان جما عت کیلئے ہی منفعت بخش رہا ،بہر حال دیکھنے میںتو یہی آیا ہے کہ جب بھی حکمر ان جماعت پر کوئی آزمائش پڑی ہے اس وقت پی پی کی طرف سے ایسا بگل بجایا گیا کہ وہ سنگ کا بھو نپو ہی ثابت ہو ا ہے ، چنا نچہ لاہور کے ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کی غرض وغایت نہیں رہی تھی مگر پی پی کو ڈھیر وں ووٹوں کے ڈھیر پربٹھا نے میں پی ٹی آئی کا کما ل ہے کیو ں کہ حلقے کے عوام کو یہ پیغام پہنچایا جا تا رہا کہ پی ٹی آئی انتخاب کا حصہ نہیں ہے ،اس لیے عوام سردی میں گھروں کے بستر چھوڑ کر ووٹرو ں کی قطاروں میں کھڑے ہو کر سردی سے نہ ٹھٹھریں ،بیما ر ہو جا ئیں گے کچھ ایسا نظر بھی آیا ، لوگ سورج چڑھنے کے بعد ہی گرم گرم بستر وں سے باہر آئے تبھی جا کر پی پی کے الیکشن کیمپو ں کی رونق بڑھی، بصورت دیگر یہ کیمپ ٹھٹھر تی سردی کی طرح ٹھنڈے ٹھا ر ہی تھے ،پی پی کی طرح پی ٹی آئی بھی سیا سی بلو غت کے مقام پرپہنچ گئی ہے ، کہ وہ ضمنی انتخاب کی ہزیمت سے تکنیکی حوالے سے اپنے آپ کو عزت سے بچا لے گی ، لیکن اب ان کے سامنے خانیو ا ل کا ضمنی انتخاب کھڑ ا ہے ، اب اس آزما ئش سے کیسے بچا جا سکتاہے ، سیاست کا مستقبل کیا ہو گا ،اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ،مگر یہ ثابت ہو چلا ہے کہ کوئی صفحہ میلا نہیں ہو ا ہے نہ دھندلا یا ہے سب کچھ اپنی جگہ قائم ہے ، پی پی کی طر ف سے درون خانہ عدم اعتما د کی صدا بھی صدا بصحرا ہی رہ گئی کیو ں کہ یہ سب جانتے ہیں کہ جب تک قرطا س ابیض نہ ہو جا ئے تب تک کوئی عدم اعتما د قبولیت کا شر ف نہ پاسکے ہے ، سبھی جانتے ہیںکہ جن کے قلم رشحات سے صفحہ رنگین ہو تا ہے اور جنہو ں نے صفحہ تھا ما یا ہے ان سب کی ضرورت کو ن ہے اور کو ن ضرورت پو ری کر سکتا ہے، باقی سب ڈھکوسلے کی باتیں ہیں بچپن سے کانو ں پڑی ایک ہی آواز ہے کہ یہ دنیا اس کی ہے جس کے ہا تھ میں پیسا ہے ،اور بس ۔