اور اب منی بجٹ کی نوید

ملک میں جاری بے لگام مہنگائی کی وجوہات پر قابو پانے کے بجائے تین برس سے تبدیلی کے فضائل اور درپیش مصائب بیان کیے جا رہے ہیں۔یہ ماننے کیلئے کوئی تیار نہیں کہ ہماری معاشی پالیسیاں مطلوبہ نتائج نہیںفراہم کر سکیں۔ وجوہات صاف ظاہر ہے کہ جب وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک کی تعیناتی آئی ایم ایف کے احکام کی روشنی میں عمل میں لائی جائے گی تو کیا ایسا ممکن ہے کہ معاشی پالیسیاں عالمی اداروں کے مفادات کے تحفظ کی بجائے ملکی مفاد میں بنیں۔ حفیظ شیخ کی طرح جناب شوکت ترین بھی آئی ایم ایف کا تحفہ ہیں، دونوں ماضی کی حکومتوں کو بھی یہ تحفے میں دیئے جاتے رہے، اسی طرح باقر رضا کہاں سے آئے ؟ مصر میں آئی ایم ایف مفادات کو واچ کررہے تھے پاکستان بھجوادیا ہم نے قبول کیا اور وہ سب کیا جو عالمی ادارہ کہتا ہے سو اب رونے دھونے کی بجائے صرف احکامات بجالائیں ۔ نئے معاشی ٹیلر منی بجٹ کے حوالے سے مشیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ منی بجٹ آنے میں ہفتہ 10دن لگ سکتے ہیں۔ اس لئے عوام صبر سے کام لیں، گھبرانے کی ضرورت نہیں، معیشت ترقی کررہی ہے جلد ہی مہنگائی کم ہوگی۔ پراپرٹی ویلیویشن میں نظرثانی کا عندیہ دیتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگلے ماہ سے افراط زر میں کمی آئے گی جس سے تجارتی خسارہ کم ہوگا۔ مشیر خزانہ کا کہنا تھاکہ ڈالر کی حقیقی قیمت 161روپے ہونی چاہیے۔ انہوں نے ترقیاتی فنڈ سے200ارب روپے کی کٹوتی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا آئی ایم ایف سے معاہدہ کی شرائط پر عمل کرنا ہی پڑے گا۔
ہماری دانست میں تو اصولی طور پر انہیں یہ بتانا چاہیے تھا کہ انکی وزارت سے رخصت کئے جانے والے سیکرٹری نے مالیاتی امور کے حوالے سے غلط اعدادوشمار حکومت بالخصوص وزیراعظم کو بھجواکر ان کے لئے ”سبکی” کا جو سامان کیااس کی وجہ کیا تھی؟ ڈالر 161روپے کا ہونا چاہیے تو قیمت زیادہ کیسے ہوئی انہوں نے سٹے بازوں کے خلاف کیا کارروائی کرائی اور کیا وزارت داخلہ کے تعاون سے ڈالر کی افغانستان سمگلنگ کو رکوانے کے لئے کوئی قدم اٹھایا۔ زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ مشیر خزانہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ساتھی وزراء سے یہ کہیں کہ وہ مالیاتی امور کے حوالے سے ایسے بیانات نہ دیا کریں جن سے جگ ہنسائی ہو۔ بعض معاملات میں وزراء کے غیرذمہ دارانہ بیانات اور بلندبانگ دعوئوں سے حکومت کے لئے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جیسا کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا ایک حالیہ بیان جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ”کورونا کے باوجود گیارہ لاکھ افراد کو بیرون ملک ملازمتیں ملیں”۔ فواد چودھری نے اس عرصہ میں بیرون ملک جانے والے تمام افراد کو روزگار مہیا ہونے پر ملک سے رخصت ہونے والوں میں شمار کیا حالانکہ ان میں سے70فیصد سے زائد لوگ رخصت پر وطن آئے ہوئے تھے یا کورونا کی وجہ سے ان کی ملازمت والی جگہوں پر کام بند تھا۔ باقی کے تیس فیصد میں 7 فیصد طلباء ہیں اور بیرون ملک مقیم خاندانوں کے افراد۔ چند سو یا چند ہزار افراد ممکن ہے بیرون ملک روزگار ملنے پر روانہ ہوئے ہوں مگر یہ کہنا کہ گیارہ لاکھ افراد کو بیرون ملک روزگار مل گیا سوائے سیاسی نمبر بنانے کے کچھ نہیں۔
مشیر خزانہ کی خدمت میں یہ بھی عرض کیا جانا چاہئے کہ عوام کے پاس سوائے صبر کے کرنے کے اور راستہ ہے ہی کیا ہے۔ اس وقت مجموعی طور پر 18.35 فیصد مہنگائی ہے اور یہ17ہزار روپے ماہوار کمانے والوں کے لئے تقریباً 20فیصد ہے اس سے کم آمدنی والے طبقات پر کیا بیت رہی ہے اس کا اندازہ حکمران اشرافیہ کو ہرگز نہیں۔ گزشتہ روز دو ذمہ دار وفاقی وزراء یہ دعویٰ کرتے دکھائی دیئے کہ مہنگائی صرف شہروں کا مسئلہ ہے، دیہاتوں میں تو ہر طرف خوشحالی ہے۔ ایک وزیر کا کہنا تھا کہ رواں سال کے دوران کسانوں کو گیارہ سو ارب روپے کی اضافی آمدنی حاصل ہوئی جو خوشحالی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دیہی پس منظر رکھنے والے وزیر موصوف کو بھی اگر یہ علم نہیں کہ ایک سال کے دوران کھادوں اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوا ہے اور امسال کاشت ہونے والی گندم کے کل رقبے میں سے کتنا رقبہ کھاد کے بغیر کاشت ہوا اور اس کے نتائج کیا نکلیں گے تو عوام کسی اور سے کیا شکوہ کریں۔ اچھا ویسے دیہی علاقے کیسے مہنگائی سے محفوظ ہیں کیا زندگی گزارنے کے لئے فقط اجناس کی ہی ضرورت پڑتی ہے یا گھی، کوکنگ آئل، مصالحہ جات، کپڑے اور چمڑے کی مصنوعات شہروں کے مقابلہ میں دیہی علاقوں میں کم داموں پر فروخت ہوتی ہیں؟
محض نمبرٹنگ پروگرام کے تحت دیئے جانے والے بیانات سے حکومت کی ساکھ مزید متاثر ہوتی ہے۔ وزراء کو احتیاط کرنی چاہیے۔ خلاف واقعہ بیانات دیتے رہنے کی بجائے اپنی اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دینی چاہئے ، معیشت ترقی کررہی ہے یقیناً ایسا ہی ہوگا مگر مشیر خزانہ نے آئی ایم ایف سے معاملات طے کرتے وقت یہ حساب مدنظر کیوں نہیں رکھا۔ ترقی کرتی معیشت والے ملک کے مشیر خزانہ کو کم از کم ایسی سخت شرائط کا طوق اپنے ملک اور لوگوں کے گلوں میں نہیں ڈلوانا چاہیے تھا۔ ترقی کرتی معیشت تو روپے کی قدر میں استحکام کا ذریعہ بنتی ہے جبکہ ان کے اپنے دور (وزارت خزانہ کے امور سنبھالنے سے) میں روپے کی قدر میں مجموعی طور پر 15فیصد کمی ہوئی۔ اب وہ یہ نوید دے رہے ہیں کہ منی بجٹ سے عام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کے وقت بھی انہوں نے یہی کہا تھا۔ ثانیاً یہ کہ ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور 350ارب کے نئے ٹیکس لگانے سے کیسے عام آدمی متاثر نہیں ہوگا؟ اسی طرح دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی میں کمی لانے کے لئے انہوں نے چند ماہ کے دوران جتنے وعدے اور اعلانات کئے وہ عمل سے محروم رہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہمارے پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ سبز باغ دیکھانے کی بجائے عوام کو حقیقت حال کے حوالے سے اعتماد میں لیں اور پھر اصلاح احوال کے لئے معاشرے کے ہر طبقے سے اس کی بساط کے مطابق تعاون طلب کریں تاکہ لوگوں کا زندگی پر ٹوٹتا یقین بحال ہوسکے۔ بدقسمی یہ ہے کہ یہاں قربانی ہمیشہ عوام معاف کیجے گا رعایا سے طلب کی جاتی ہے بڑے طبقات کیلئے تو ریبیٹ کی سہولت ہوتی ہے عرض فقط یہی کرنا ہے کہ سب اچھا بالکل نہیں ہے لوگ مہنگائی کے بوجھ تلے سسک رہے ہیں اس کا مداوا کیجے گر ممکن ہو۔