ہجوم کا انصاف یاناانصافی

سری لنکن شہری کے بہیمانہ قتل کو پاکستان کے اجتماعی ضمیر نے سختی سے مسترد کیا ہے ۔عام آدمی سے لے کر بااثر طبقات تک ہر شخص نے اس واقعے کی مذمت کی یہاں تک کہ تحریک لبیک نے بھی ایک وضاحتی بیان میں اس واقعے کی مذمت کی ۔جو کہانی سامنے آرہی ہے اس کے مطابق تنازعہ کی ابتدا تحریک لبیک کے سٹکر اتارنے سے ہوئی اور ہجوم نے قتل کرنے کے بعد لبیک کے نعرے لگا کر اس واقعے کو تحریک لبیک کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ۔اس کے بعد تمام اُنگلیاں تحریک لبیک کی جانب براہ راست تو نہ اُٹھیں مگر ان کی چلائی جانے والی تحریکوں اور پیدا کردہ مائنڈ سیٹ کو اس طرح کے واقعات کی اہم وجہ ضرور قرار دیا گیا ۔حکومت نے اس واقعے کے خلاف ایکشن لے لیا اور ایک سو سے زیادہ افراد گرفتار کر لئے گئے ہیں جن میں مرکزی ملزم بھی شامل ہیں۔یہ وہ ملزم ہیں جنہوں نے نہایت فاتحانہ انداز میں اپنے اس اقدام کا اعلان کیا ۔اس اعتراف کی ویڈیو پوری طرح سامنے آچکی ہے۔ سری لنکن حکومت نے اس مرحلے پر اہم کام یہ کیا کہ حکومت پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان کی یقین دہانی پر بھرپور اعتماد کا اعلان کیا۔عمران خان نے سری لنکن صدر سے بات کرکے اس واقعے پرافسوس کیا تھا اور اسے پاکستان کے لئے شرمناک دن قرار دیا تھا ۔سری لنکا نے یہ کہہ کر بھی بہت سے منہ بند کردئیے کہ اس واقعے سے دونوں ملکو ں کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔اس طرح سری لنکن حکومت نے گیند پوری طرح پاکستان کی کورٹ میں ڈال دی ہے ۔یہ حکومت پاکستان کے لئے خوش آئند بھی ہے کہ سری لنکا کی حکومت نے اس نفرت انگیز واقعے پر جذبات کو قابو میں رکھا اور اسے کسی غلط سمت میں جانے سے روکا وہیں یہ حکومت پاکستان کے لئے امتحان بھی ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ حکومت پاکستان اب سری لنکا کے اس اعتماد پر پورا اترنے کے لئے کیا ٹھوس اقدامات کرتی ہے ۔پاکستان میں توہین مذہب کے نام پر ہجوم کے انصاف کا چلن عام ہو رہا ہے ۔اس کی زد حقیقت میں توہین مذہب کے قوانین پر پڑتی ہے ۔پھر مغربی ممالک اور تنظیمیں ایسے واقعات کے بعد توہین مذہب کے قوانین کو غیر ضروری قرار دیتے ہیں ۔ہر حکومت پر دبائو بھی بڑھایا جاتا ہے کہ وہ ان قوانین کو واپس لے ۔ہجوم کے انصاف کو روکنے کے لئے ہی یہ قوانین بنائے گئے تھے ۔اب اگر قوانین کی موجودگی میں ہجوم کے انصاف کا چلن عام ہوگا تو لامحالہ مغربی ممالک یہ کہیں گے کہ ایسے میں ان قوانین کا کیا فائدہ ہے؟ اس طرح جذبات سے مغلوب اور جہالت میں ڈوبے ہوئے ہجوم ریاست پر اعتماد کرنے کی بجائے خود ریاست بننے کی راہ پر چل کر توہین مذہب کے قوانین کے جواز کو کمزور کرتے ہیں ۔ہجوم کا انصاف یوں بھی ریاستوں اور معاشروں کے تاروپود بکھیرنے کا باعث بنتا ہے ۔اس رویے کے رواج بننے سے ملکوں میں انارکی پھیلتی ہے ۔ریاست کی طاقت کمزور ہو تی ہے ۔قوانین غیر موثر ہوجاتے ہیں ۔قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کے نفاذ میں دلچسپی نہیں لیتے ۔خوف ان کے دلوں میں گھر کر جاتا ہے یا تقسیم کے اثرات ان کے دلوں پر اپنا نقش قائم کرتے ہیں۔اس واقعے میں یہ بات اچھی ہے علمائے کرام ایک واضح لائن لے رہے ہیں۔مفتی تقی عثمانی ،مولانا طارق جمیل اور مفتی منیب الرحمان سب سے بیک زبان ہجوم کے اس طریقہ کار کی کھلی مذمت کی ہے ۔ تحریک لبیک نے بھی خود کو بطور تنظیم اس معاملے سے الگ کرکے قانون کو راستہ دیا ہے ۔ظلم اس قدر بڑا ہے کہ اگرمگر کی یوں بھی گنجائش نہیں ۔عوام کا اجتماعی ضمیر اپنے گھبرو اور شیر دل جوانوں کی بجائے غیر ملکی کی مسخ شدہ اور سوختہ لاش کے ساتھ ہے۔یہ ہمارے معاشرے میں زندگی کی رمق کا پتا دے رہا ہے ۔ ہجوم کی لاتوں اور گھونسوں کی زد میں آئے ہوئے تنہا غیر ملکی کے آگے ڈھال بننے اور ہاتھ جوڑ کر منت سماجت کرنے والا عدنان ملک بھی معاشرے کی سانس چلنے کا ہلکا سا ثبوت فراہم کر گیا۔اس روح فرسا کے واقعے کے بعد کئی سوالات پیدا ہوئے ہیں ۔معاملات پر ازسر نو غور کرنے کی ضرورت کا احساس بڑھ گیا ہے ۔حکومت علما اور سول سوسائٹی کو ملبے کے ڈھیر پر ایک نئی عمارت کھڑی کرنا ہے۔ سری لنکن شہری نے تو دانستہ ایسا کام بھی نہیں کیا تھا اگر جان بوجھ کر کوئی توہین مذہب بھی کرے تب بھی اس کی سزا کا تعین کرنا ریاست اور قوانین کا کام ہے ۔اس سٹائل کا مطلب تو یہ ہے کہ لوگوں کو اپنے قوانین پر اعتماد نہیں ۔یہ وہی بات ہے کہ جو مغربی این جی اوز اور ممالک کہتے ہیں۔مغرب اپنے زاویہ نظر سے ان قوانین کی مخالفت اور ان کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں تو ہمارے انتہا پسند اپنے طرز عمل سے ان قوانین سے اعلان برأ ت کررہے ہیں ۔یوں ان کی حرکتوں پر ”ہوئے تم دوست ” کا مصرعہ ہی صادق آتا ہے۔توہین کے قوانین کی جوازیت بخشنے اور مغرب کی مہمات کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان قوانین کو اپنا کام کرنے کا موقع دیا جائے۔