نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت

سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کا فیصلہ اور تمام مجرموں کو سخت سزائیں دلوانے کا عزم حوصلہ افزاء قدم ہے ،قبل ازیں آرمی پبلک سکول پر دہشت گردانہ حملے کے موقع پر اس سے بھی جامع فورم پر اہم معاملات پر کامل اتفاق اور اقدامات تجویز کیے گئے تھے لیکن ان کے کئی نکات پر ہنوز عملدر آمد کا انتظار ہے، اگر حکومتی و عسکری قیادت بشمول حزب اختلاف بلکہ کل سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں کے مکمل اتفاق رائے کے بعد جس قومی ایکشن پلان کا اعلان کیا گیا تھا اس کی جامعیت پر کوئی معترض نہیں اس کے اہم نکات پر عمل درآمد کا مطالبہ عالمی مالیاتی فورم اور دیگر عالمی اداروں کا بھی مطالبہ تھا اس ساری صورت حال میں تازہ نشست اگر ایک مرتبہ پھر عزم کے اعادے اور ناقابل برداشت ہونے کے روایتی بیان کی بجائے اگر ماضی کے فیصلوں اور اقدامات کا جائزہ لیا جاتا اور ان کے نکات پر عملدرآمد کے لیے عملی سوچ اپنائی جاتی تو زیادہ موزوں ہوتا ،سیالکوٹ کے واقعے کے بعد ایک مرتبہ اس بات کا شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ بعض غلط فیصلوں ، طرز عمل اور مصلحت و سیاسی تقاضوں و مفادات جیسے معاملات کو اولیت دینے سے ایک نیا طبقہ وجود میں آ رہا ہے اور عدم برداشت کا ایک خطرناک کلچر پروان چڑھ رہا ہے جس کی نشاندہی کی بھی ضرورت نہیں ، اس لیے کہ اب یہ جادو سر چڑھ کر بولنے لگا ہے چونکہ اس سارے عمل میں حسب سابق مذہب کا تڑکا لگا کر اسے دو آتشہ کرنے کی کوششیں ہوتی ہیں اس لیے لامحالہ دین اور مذہب کو موضوع بحث بنا لیا جاتا ہے جس کے باعث اس کی حساسیت ، جواز اور انسداد کا سارا عمل مشکل ، پیچیدہ اور جذباتی بن جاتا ہے، ہمارے تئیں قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لیا جائے اور اس کے طے شدہ نکات کی فہرست باقی و نامکمل معاملات کو نمٹانے کی سعی ہو تو حالات پر قابو رکھنے میں آسانی ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی برادری اور اداروں کے تحفظات کو بھی ممکنہ طور پر کم کیا جا سکے گا۔ گزشتہ روز کے اجلاس کے بعد مندرجات میں ایسی کوئی بات شامل نہیں اور نہ ہی کسی ایسی ٹھوس منصوبہ بندی اور لائحہ عمل کا تذکرہ ملتا ہے جو فوری درپیش حالات کے تناظر میں اطمینان بخش ہوں ، سوائے اس کے کہ سانحہ سیالکوٹ کے ملزمان کو جس قدر جلد سزا دے کر لواحقین کو تیز تر انصاف کی ڈھارس بندھائی جا سکے۔ اطمینان امر یہ ہے کہ دوست ملک سری لنکا کی حکومت کی جانب سے صبر و تحمل برداشت اور رواداری کے ساتھ پاکستان کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے ، اس ضمن میں وزیر اعظم کی دلچسپی اور عسکری قیادت کا عزم سبھی کا نتیجہ خیز ہونا ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے سے عبارت ہونا چاہیے۔ ملکی معاشرے میں تشدد کے رجحانات کو صرف مذہبی جذبات سے عبارت اور نتھی کرنا درست امر نہ ہو گا ، مذہبی انتہا پسندی کا رجحان یقیناً موجود ہے اور اس کا نادانستہ و غلط استعمال افسوسناک ہے جو مسائل اور تنقید کا باعث ہے ماضی میں اس طرح کے واقعات میں ملوث افراد کو سزا دینے میں حکومت اور قانون کی کارکردگی پر بھی سوالات ہیں لیکن بہرحال ان کو کسی پرتشدد واقعے بلکہ وحشت و بربریت کیلئے جواز نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی دینی اور مذہبی طور پر نہ ہی قانون میں اس کا کوئی جواز ہے بلکہ یہ سراسر قابل مذمت اقدام تھا جس کی جید علمائے کرام نے کھل کر مذمت کی ہے جس سے قطع نظر اسی طرح کے واقعات کے پس پردہ معاشی حالات مہنگائی اور اعصاب شکن عوام سمیت کئی دیگر وجوہات کار فرما ہو سکتی ہیں جن کا جائزہ لینے اور معاشرے کو ان سے بچانے اور نکالنے پر ملکی سطح پر غور اور فیصلہ ہونا چاہیے تاکہ ایک نارمل معاشرہ قائم ہو جس میں اس طرح کی انتہا پسندی کی نہ تو گنجائش ہو سکتی ہے اور نہ ہی اس طرح کے واقعات کا امکان اور خطرہ رہے گا ، نیشنل ایکشن پلان کی صورت میں ہمارے پاس جو متفقہ لائحہ عمل موجود ہے، محولہ حالات کا بہتر حل اسی سے نکل سکتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سانحہ سیالکوٹ پر بڑا ہی مناسب تبصرہ کیا تھا کہ ایسے واقعات صرف اڑتالیس گھنٹے ہمیں تکلیف دیتے ہیں۔ پھر سب نارمل ہو جاتا ہے اور تب تک احساس دفن رہتا ہے جب تک اگلا واقعہ نہ ہو، ریاستی ڈھیلے پن اور اجتماعی رویے اور قیادت کے کردار و عمل سبھی پر وفاقی وزیر کا بیان منضبط اور واضح ہے ، اجلاسوں کے انعقاد سے ایک قدم اب آگے بڑھنے کا وقت ہے اور آئندہ کسی ایسے واقعے کی روک تھام کے لیے اسی وقت کمربستہ ہونے اور تسلسل کے ساتھ معاشرتی تطہیر اور تشدد کے خاتمے کیلئے کام کی ضرورت ہے ، ایک مرتبہ ، دو مرتبہ اگر عبرتناک سزائیں دے کر مثال قائم کی جائے اور تشدد کے قائل عناصر کو کسی بھی سطح پر سرپرستی نہ ملے ، قانون اپنا کام بخوبی ادا کرے تبھی جا کر جتھوں کی تشکیل اور پرتشدد واقعات کا تدارک یقینی بن پائے گا۔