جھوٹا خواب بیان کرنے کی وعید

جھوٹا خواب بیان کرنے کی وعید

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے جھوٹا خواب بیان کیا اس سے کہا جائے گا کہ جو کے دو دانوں کے درمیان گرہ لگائے اور وہ ایسا ہرگز نہیں کر سکے گا ۔(جامع الترمذی، حدیث 2385)۔

اس حدیث میں جھوٹا خواب بیان کرنے والے کی مذمت اور سخت وعید بیان کی گئی ہے۔ جب ایک آدمی جھوٹے خواب بیان کرتا ہے تو بیداری کی حالت میں وہ کتنا جھوٹ بولتا ہوگا۔ نیز حدیث میں سچی خواب کونبوت کا جزو قرار دیا گیا ہے۔ جھوٹا آدمی اپنے جھوٹ کے ذریعے درحقیقت یہ دعوی کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے اسے ایسا خواب دکھایا ہے۔ حالانکہ اس نے یہ خواب دیکھا ہی نہیں ہے گویا وہ آدمی نبوت اور وحی کا انکار کرتا ہے اور اللہ تعالی پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (تحفتہ الاحوذی464,463/6)

علامہ نابلسی رحمتہ اللہ علیہ نے تعطیر الانام میں کہا ہے کہ جھوٹا خواب بیان کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے نبوت کا دعوی کیا ہو، کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ خواب نبوت کا جزو ہے۔ جوشخص کسی چیز کے ایک جُز کا دعوی کرتا ہے، وہ گویا گل کا دعوی کرنیوالے کی طرح ہے۔ :(تعطیر الانام نابلسی :17) (سچے خوابوں کے سنہری واقعات)

مزید دیکھیں :   کامیابی کیلئے اپنے اندر پہلے استحقاق پیدا کیجئے