گورا قبرستان سے تہکال تک ٹریفک جام

گورا قبرستان سے تہکال تک کا چند منٹ کا سفر گھنٹوں پرمحیط

پشاور کے مصروف ترین یونیورسٹی روڈ پر شمع چوک سے تہکال تمبوانو موڑ تک ٹریفک روانی کا برقرار رہنا ایک خواب بن گیا ہے۔ ٹریفک پولیس کی ناکام اور غیر سنجیدہ حکمت عملی کی وجہ سے ٹریفک جام روز کا معمول بن چکا ہے اور مسئلہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے ۔

بی آر ٹی روٹ کی وجہ سے مصروف سڑک تنگ ہو چکی ہے اور سروس روڈ بھی اسی زد میں آچکا ہے ۔ بی آر ٹی روڈ کے بعد گورا قبرستان میں شمع چوک سے تمبوانو موڑ تک کا روڈ چھوٹی بڑی گاڑیوں کیلئے تنگ ہو چکا ہے ۔ بی آر ٹی روٹ کی تعمیر کے طویل ترین عذاب سے گزرنے کے باوجود ابھی تک گورا قبرستان سے تہکال میں تمبوانو موڑ تک ٹریفک جام کا دیرینہ مسلہ حل نہیں کیا جا سکا، ٹریفک پولیس بھی روزانہ کی بنیادوں پر تجربات کر رہی ہے جس سے شہری دہر ے عذاب میں مبتلا ہیں۔ سڑک کے دونوں جانب گاڑیوں اور رکشوں کے رک جانے سے ٹریفک جام ہو جاتاہے ۔ اس وجہ سے یونیورسٹی روڈ سے گزرنے والوں کو نہ صرف دن کے اوقات میں بلکہ رات کو بھی دیر تک بھی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مزید دیکھیں :   سیلاب متاثرین کورقوم کی ادائیگی بائیومیٹرک تصدیق کے بعدہوگی

ایک منٹ کا فاصلہ طے کرنے میں انہیں 20سے 25منٹ لگ جاتے ہیں۔ سڑکیں تنگ ہونے سے گورا قبرستان سے تہکال تمبوانوموڑ تک کے علاقوں سے نکلنے اور داخل ہونے والی ٹریفک کو بھی مین روڈ پر بغیر کسی منصوبہ بندی کے مین روڈ پر منتقل کرنے کی وجہ سے ان مقامات پر گھنٹوں ٹریفک جام رہتی ہے اور ان سڑکوں پر ہر قسم کی گاڑیاں اور رکشے منتقل کرنے سے سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی رہتی ہے۔ شہریوں کے مطابق بی آر ٹی کی تعمیر کے دوران ٹریفک نظام بہتر بنانے کیلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے ان مقامات پر ٹریفک کا بوجھ مزید بڑھنے لگا ۔ اس وقت ضرورت تھی کہ ٹریفک نظام کی روانی برقرار رکھنے کیلئے منصوبہ بندی کی جاتی ۔ جبکہ رہی سہی کسر اس مصروف ترین روڈ پر ٹریفک حکام کی جانب سے کیٹ آئیز کی بہتات نے پوری کردی او تازہ ترین یہ کہ سڑک کنارے شجرکاری کیلئے سڑکیں اکھاڑ کر کھڈے بنا دئیے گئے ہیں ۔

پشاور کے رہائشی ایک شہری نے گذشتہ روز مشرق کو بتایا کہ وہ بدترین ٹریفک جام کی وجہ سے گاڑی ڈرائیور کے پاس چھوڑ کر اتر آئے اور پیدل ہی سفر شروع کردیا لیکن گاڑیوں کی قطار گورا قبرستان کے قریب سیکورٹی چیک پوسٹ تک تھی تمام گاڑیاں بمپرٹو بمپر ایک دوسرے سے جڑی اور پھنسی کھڑی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالہ سے انہوں نے چیک پوسٹ پر مقرر عملہ سے پوچھا کہ ٹریفک جام کیوں ہے ؟ تو سیکورٹی اہلکار نے بتایا کہ مشکوک گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی ہے تاہم وہ ہر ایک گاڑی کو روکتے اور اس کی جانچ پڑتال کرتے رہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گورا قبرستان سے تہکال تمبوانو موڑ تک ٹریفک جام کا دیرینہ مسلہ حل کیا جائے اور شہریوں کو اس دہر ے عذاب سے بچایا جائے۔

مزید دیکھیں :   غیر قانونی چنگ چی سٹاپ سے اندرون شہر رش معمول بن گیا