انتخابی مہم ختم

انتخابی مہم ختم، ووٹرز کل فیصلہ سنائیں گے، پشاور میں کانٹے کا مقابلہ متوقع

خیبر پختونخوا کے 17اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کیلئے انتخابی مہم کا وقت جمعہ17دسمبر کی رات ختم ہوگیا ہے، آج الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ عملہ میں مواد تقسیم کیا جائیگا جبکہ کل19دسمبرکو بلدیاتی انتخابات کیلئے66تحصیلوں میں پولنگ ہو گی.

بلدیاتی انتخابات میں سب سے کانٹے کامقابلہ پشاورمیں میئرکی نشست پرہونے کاامکان ہے ، بلدیاتی انتخابات میں صوبائی دارالحکومت پشاور کے سٹی میئرکیلئے غیر متوقع نتائج سامنے آسکتے ہیں جبکہ تمام امیدواروں کے درمیان سخت متوقع ہے پشاور میئر کیلئے16امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا جس میں سب سے زیادہ متحرک تحریک انصاف کے رضوان خان بنگش، پیپلز پارٹی کے ارباب زرک، جمعیت علماء اسلام کے زبیر علی، عوامی نیشنل پارٹی کے شیر رحمان مومند اور جماعت اسلامی کے بحر اللہ رہے ہیں ان امیدواروں کو کئی اہم فائدے حاصل ہیں تو کئی نقصانات بھی انکی شکست کی وجہ بن سکتے ہیں، تحریک انصاف کے امیدوار رضوان خان بنگش نے اپنی مہم کے دوران اپنی بہترین پروفائلنگ کرنے میں کامیاب رہے ہیں اورانہیں نوجوان طبقے میں پذیرائی حاصل ہے ،اسی طرح پارٹی کی تنظیم نے بھی رضوان بنگش کی مہم کو کامیاب بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جبکہ پارٹی کے اندرسے میئر کے دیگرامیدواروں نے بھی پارٹی کو تقسیم سے بچاتے ہوئے رضوان خان بنگش کی کامیابی کیلئے ہر در کھٹکھٹا دیا ہے تاہم رضوان بنگش کو موجودہ حکومت کے دور میں آنے والی مہنگائی کا ایک کڑا چیلنج درپیش ہے، رضوان بنگش حکومت کے اس چیلنج کے باوجود جیت کیلئے پرامید ہیں جبکہ پارٹی کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کی درپردہ حمایت بھی انکے لئے سود مند ثابت ہو سکتی ہے ۔

مزید دیکھیں :   پشاور سمیت10اضلاع میں ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام میں تاخیر

پشاور میئر کیلئے پیپلز پارٹی نے ٹکٹ کے اجراء کے تنازعہ کے بعد سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ارباب جہانگیر کے پوتے کو میدان میں اتارا ہے ارباب زرک کیلئے سب سے بڑا فائدہ انکی قوم ارباب خلیل ہیں جو اس معاملہ پر کسی بھی تفریق کو پس پشت ڈالتے ہوئے ارباب زرک کی کامیابی کیلئے کوشش کر رہے ہیں جبکہ نسل در نسل پشاور میں پیدا ہونے کا بھی ایک بڑا اثر انکے حق میں ہے، سابق وفاقی وزیر ارباب عالمگیر اور سابق مشیر وزیراعظم عاصمہ عالمگیر کے صاحبزادے ارباب زرک کے پاس سابق این اے ٹو یعنی ریگی، تہکال اور یونیورسٹی ٹائون کے علاقوں کی حمایت موجود ہے تاہم انکی سب سے بڑی کمزوری اندرون شہر پشاور سے حمایت نہ ملنا ہے اندرون شہر سے ارباب زرک کو ووٹ ملنا انتہائی مشکل ہے جو انکی کامیابی میں رکاوٹ بن سکتی ہے ۔ عوامی نیشنل پارٹی نے شیر رحمن کیلئے جس منظم طریقے سے مہم چلائی ہے وہ کسی دوسرے امیدوار کیلئے کسی بھی پارٹی نے نہیں چلائی ،پشاور میں ماضی قریب کا سب سے بڑا جلسہ بھی عوامی نیشنل پارٹی نے کیا۔ پشاور سے صوبائی اسمبلی کے دو بڑے حلقے پی کے 78اور76سے شیر رحمن کو بھاری تعداد میں ووٹ ملنے کی توقع ہے جبکہ پی کے 74اور 75سے بھی انہیں خاطر خواہ ووٹ ملنے کی امید ہے تاہم شیر رحمن مہمند قوم اور پارٹی ووٹرز تک ہی محدود ہیں غیر جانبدار ووٹرز کو اب تک عوامی نیشنل پارٹی اپنے منشور کے تحت قائل نہیں کرسکی ہے جس کافائدہ دیگر پارٹیوں کو ہوگا۔

مزید دیکھیں :   دہشتگردوں کونشان عبرت بنانے کاوعدہ ،افغانستان سے دوٹوک بات کرینگے،ایپکس کمیٹی اجلاس میں فیصلہ

جمعیت علماء اسلام ف کے امیدوار زبیر علی کے والد غلام علی سابق ضلع ناظم رہ چکے ہیں اسی طرح غلام علی سابق سینیٹر بھی رہے ہیں لیکن پشاور کیلئے کوئی خاطر خواہ کارکردگی انکے دور میں سامنے نہیں آسکی،ان کے خلاف پشاوری نہ ہونے اور دیگر علاقوں سے آکر یہاں آباد ہونے کا کارڈ بھی دیگر جماعتوں کی جانب سے کھیلا گیا ہے۔ زبیر علی کو جہاں والد کے دور میں بڑے منصوبے نہ ہونے کا نقصان ہے تو وہیں زبیر علی کی سب سے بڑی طاقت انکا عوامی رابطہ ہے۔ زبیر علی واحد امیدوار ہیں جو گلی کوچوں محلوں اور دکانوں میں اپنے ورکروں کو نام سے جانتے ہیں تاہم انکی مہم صرف غلام علی اور زبیر علی کی مہم ثابت ہو رہی ہے ۔ جمعیت علماء اسلام ف کی جانب سے پارٹی سطح پر اس مہم کو تیز کرنے یا اس میں اپنا کردار ادا کرنے میں کوئی قابل ذکر کوشش نہیں کی گئی ۔ جماعت اسلامی کا اپنا ثابت قدم ووٹرہے جو ہمیشہ ترازو کے نشان پر ہی ووٹ ڈالے گا بحراللہ کو پارٹی کی جانب سے مکمل حمایت حاصل ہے جبکہ پارٹی امیر نے پشاور میں جلسہ کرکے انکی مہم میں تیزی بھی پیدا کی ہے تاہم وہ بڑی سطح پر ووٹرز کو راغب نہیں کرسکے جس کی وجہ سے انہیں اتوار کے روز نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے ۔

مزید دیکھیں :   تانڈہ ڈیم میں ڈوبنے والے آخری بچے کی لاش بھی نکال لی گئی

پاکستان تحریک انصاف کے رضوان بنگش کو ان تمام سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے مقابلہ میں یہ برتری حاصل ہے کہ حکومت مخالف ووٹ تقسیم ہوگا اور حکومتی حق میں پڑنے والا ووٹ اس پر بھاری ثابت ہوسکتا ہے، موجودہ بلدیاتی انتخابات دراصل امیر کا انتخاب ہے کسی بھی غریب کیلئے اس انتخاب میں تحصیل چیئرمین یا میئر بننے کی کوئی گنجائش نہیں دیکھی گئی ہے جبکہ پارٹیوں نے بھی ٹکٹ یہ بنیاد بنا کر جاری کئے ہیں کہ اتنے بڑے حلقے میں انتخابی مہم کیلئے کروڑوں روپے درکار ہونگے لہٰذا پیسے والے امیدواروں کو میدان میں اتارا جائے ۔ ان امیدواروں نے پشاور کیلئے بڑے بڑے نعرے لگائے اور کئی مسائل حل کرنے کا وعدہ کیا اب فیصلہ عوام کا ہے کہ وہ کل کس امیدوار کے حق میں ووٹ استعمال کر کے اسے 4سال کیلئے میئر کے سنگھاسن پر بٹھاتے ہیں ۔ پشاورمیں قبضہ مافیا، مہاجرین کی آمد، سڑکوں کی تعمیر، نکاسی نظام جیسے بڑے مسائل کے حل کیلئے ایسے امیدوارکی ضرورت ہے جو ان مسائل سے نبردآزماہوسکے اس بڑے فیصلے کیلئے ووٹرزکاامتحان ہے کہ وہ کس امیدوارکاانتخاب کرتے ہیں۔