افغانستان میں استحکام کیلئے او آئی سی کانفرنس

افغانستان میں استحکام اور انسانی بحران کے خاتمے کیلئے پاکستان کی میزبانی میں اہم ترین دو روزہ کانفرنس جاری ہے، جس میں 22 ممالک کے وزرائے خارجہ ،10 نائب وزرائے خارجہ سمیت 70 وفود شامل ہیں، پاکستان نے او آئی سی کے پلیٹ فارم سے شرکاء کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ افغانستان میں اس وقت جنگ نہیں ہو رہی ہے بلکہ ان کا اصل مسئلہ بھوک ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کی حکومت کو ابھی تسلیم کرنے کا وقت نہیں آیا، تاہم جنگ کے متاثرین اور بے گھر ہونے والے افراد کو مشکل کی اس گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ عالمی برادری کا رابطہ قائم رہنا ناگزیر ہے، وزرائے کونسل کی میزبانی بھی افغان عوام کیلئے عالمی براداری کی حمایت حاصل کرنے کی فعال کوشش ہے ۔ پاکستان کی ان کوششوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو افغان عوام کی ضروریات کا کس حد تک خیال ہے۔
پاکستان اور افغانستان او آئی سی کے بانی ارکان ہیں ، گزشتہ برسوں کے دوران او آئی سی نے پاکستان اور افغانستان کے عوام کو مسلسل مدد فراہم کی ہے۔ آج سے اکتالیس برس قبل 1980ء میں پاکستان کی میزبانی میں او آئی سی کے اجلاس میں بھی افغانستان کی صورتحال کو سامنے رکھ کر غور کیا گیا تھا، حالیہ کانفرنس کے ذریعے بھی پاکستان نے افغانستان کی موجودہ صورتحال سے دنیا کو آگاہ کیا ہے کہ وہاں پر سردی کے موسم میں غذائی کمی ہے، گرم کپڑوں ، ادویات ، بچوں کے دودھ اور روزمرہ کی دیگر ضروریات پوری کی جانی چاہیے، کیونکہ افغانستان میں برفباری والے مہینوں میں سخت سردی پڑتی ہے جس سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے، اس تناظر میں دیکھا جائے تو معاشی استحکام اور امن محض ایک ملکی یا علاقائی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اگر اس اہم مسئلے کی طرف بروقت توجہ نہ دی گئی تو یہ مغربی ممالک کے لیے بھی چیلنج ثابت ہو گا، کیونکہ پناہ گزینوں کو جہاں موقع ملے گا وہ وہاں قیام کریں گے، سو انسانی حقوق کا بھی یہی تقاضا ہے کہ بلاتفریق رنگ و نسل افغان عوام کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔
امریکہ اور طالبان کے درمیان مخاصمتی رویہ جلد ختم ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا ہے، کیونکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ براہ راست امداد کے لیے طالبان کو وعدے پورے کرنے ہوں گے، امریکہ سمجھتا ہے کہ جب تک افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت قائم نہیں ہو جاتی تب تک افغانستان سے تعلقات استوار نہیں کئے جا سکتے، اسی طرح عالمی برادری کو افغانستان میں اقلیتوں کے حقوق، خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی پاسداری کے حوالے سے بھی تحفظات ہیں۔ امریکہ مطالبہ کرتا ہے کہ جب تک داعش کو کنٹرول کرنے سمیت تمام وعدے پورے نہیں ہو جاتے طالبان حکومت کو براہ راست امداد نہیں دی جا سکتی ۔ جبکہ طالبان حکومت کا مؤقف ہے کہ انہوں نے مذاکرات میں طے ہونے والی تمام شرائط کو پورا کر دیا ہے، اب افغانستان کے فنڈز روکنے اور افغانستان کے10 ارب ڈالر منجمد کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ طالبان رہنما نے اس کی یوں وضاحت کی ہے کہ ایک طرف تو طالبان حکومت کے پاس سرکاری ملازمین کو دینے کے لیے رقم موجود نہیں ہے، اور اپریل سے دسمبر تک سرکاری ملازمین کو تنخواہیں نہیں دی جا سکی ہیں ، دوسری طرف ہم سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ لڑکیوں کے تعلیمی ادارے کھول دیئے جائیں ، اگر اس مطالبے کو پورا کر دیا جائے تو حکومت پر معاشی بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔
امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری رسہ کشی سے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ طالبان حکومت کے لیے ابھی آزمائش کا دور باقی ہے۔ اگر یہ آزمائش سال دو سال پر محیط ہوتی ہے تو افغا ن عوام کی زندگی اجیرن ہو جائے گی ، اسی کو مدِنظر رکھتے ہوئے پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے پلیٹ فارم سے دنیا کے سامنے افغانستان کی صورتحال پیش کی ہے تاکہ حقیقت سے آشنا ہونے کے بعد افغان عوام کیلئے ضروریات زندگی کا بندوبست کر کے انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ پاکستان کو اس حوالے سے کامیابی ملی ہے، جس کا ثبوت او آئی سی وزرائے خارجہ کا پاکستان میں موجود ہونا اور پاکستان کی آواز میں آواز ملانا ہے۔ امید کی جانی چاہیے جس طرح مسلم ممالک نے او آئی سی کانفرنس میں اپنی شرکت یقینی بنائی ہے ، اسی طرح باہمی تعاون سے ایسا لائحہ عمل طے کیا جائے گا جو افغان عوام کو مشکل صورت حال سے باہر نکالنے میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔
بلدیاتی انتخابات میں بدانتظامی کے واقعات
بلدیاتی انتخابات میں بدانتظامی کی نشاندہی کی گئی ہے، پولنگ عملہ کو بروقت سامان کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جا سکی ہے۔ جنہیں سامان مل گیا تو وہ سیکورٹی اور ٹرانسپورٹ کے لیے پریشان دکھائی دیئے۔ خواتین پولنگ عملہ کو بھی سامان کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ انتخابی عملہ علاقے سے دور ڈیوٹی لگائے جانے پر خفا دکھائی دیا، حالانکہ ڈیوٹی کی جگہ تبدیل کرنا انتخابی عمل کو شفاف بنانے کا حصہ ہوتا ہے، سو انتخابی عملے کی طرف سے اپنی مرضی کی جگہ پر یا گھر کے قریب ڈیوٹی لگوانے کا اصرار درست مطالبہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی صورت اسے پورا کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انتخابی سامان کی تقسیم کو بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ آسان بنایا جا سکتا تھا، سب کو ایک ساتھ بلانے کی بجائے مرحلہ وار بلایا جاتا تو انتخابی سامان کی تقسیم میں کبھی بدانتظامی دیکھنے کو نہ ملتی۔ انتخابی سامان کی ترسیل کے لیے تعینات ناتجربہ کار عملے کی جانب سے غیر منظم انداز اپنائے جانے کے باعث پیدا ہونے والی بدنظمی نے جہاں انتخابی سامان کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا کی وہیں متعلقہ سٹیشنوں کے لیے سامان کی وصولی کے لیے آنے والا پولنگ عملہ جو کہ زیادہ تر محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، محکمہ اعلیٰ تعلیم اور محکمہ صحت کے اہلکاروں پر مشتمل تھا ، اسے بھی سخت پریشانی میں مبتلا کیے رکھا۔ کئی گھنٹے کی اس خوارگی کے بعد بھی پولنگ عملے کی پریشانی کم نہیں ہوئی، بلکہ سامان کو متعلقہ سٹیشن پر پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ کا حصول ایک نئے مسئلے کے طور پر سامنے آیا۔ بدانتظامی کی وجہ سے ہر سٹیشن کے لیے لے جانے والے سامان میں بعض ضروری چیزیں ناپید تھیں تو کہیں پر اضافی رکھی گئی تھیں ، کہیں سٹیشنری کا سامان ادھورا تھا تو کہیں سٹیمپ، انمٹ سیاہی اور لفافے رکھے ہی نہیں گئے تھے۔
دوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے حکومتی جماعت پر پولنگ عملہ کو یرغمال بنائے جانے اور بیلٹ پیپرز پر انتخابی عمل سے پہلے ٹھپے لگائے جانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بعض پولنگ سٹیشنوں پر انتخابی مواد پہنچانے کے دوران انتخابی عملے نے حکومتی جماعت کی ملی بھگت سے بیلٹ پیپرز کی سیل کھول دی۔ اس حوالے سے سیاسی کارکنوں کی جانب سے بعض ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر جاری کی گئیں جن میں بیلٹ پیپرز کی سیل کھلی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور بیلٹ پیپرز پر ٹھپے لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس دوران بعض پولنگ سٹیشنوں پر پُرتشدد واقعات بھی رپورٹ ہوئے، ہنگامہ آرائی کرنے پر پولیس کی جانب سے بعض سیاسی کارکنوں پر تشدد بھی کیا گیا جس سے اُن کے کپڑے پھٹ گئے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے منظم دھاندلی کی پوری منصوبہ بندی کی گئی ہے، اگر اس طرح انتخابات کا انعقاد کیا گیا تو ایسے انتخابات کے نتائج قابل قبول نہیں ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کی ٹیم نے اُن پولنگ سٹیشنوں کا بروقت دورہ کیا جہاں پُرتشدد واقعات سامنے آئے، دھاندلی کے الزامات کے بعد متعلقہ پولنگ سٹیشنوں کے عملے کو فوری طور پر تبدیل کر دیا گیا اور الیکشن کمیشن کی جانب سے صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد کی یقینی دہانی کرائی گئی ہے۔