جنت کے درختوں کا ذکر

جنت کے درختوں کا ذکر

”حضرت انس بن رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں کوئی سوار سو برس تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو ۔ اگر چاہو تو یہ ارشاد پڑھ لو ، ترجمہ: ”اور لمبا سایہ اور بہتا ہوا پانی ۔” (بخاری، ترمذی)


”حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ آپ نے سدرة المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ سوار اس کی شاخوں کے سایہ میں سو سال تک چلتا رہے گا یا یہ فرمایا کہ سو سوار اس سے سایہ لے سکتے ہیں اس میں سونے کے پروانے ہیں گویا کہ اس کے پھل بڑے بڑے مٹکے کے برابر ہیں۔ ” (ترمذی)


”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں لمبا سایہ (جس کا ذکر قرآن میں ہے اس سے مراد) ایک درخت ہے جنت میں جو ایک تنے پر ہے جو اتنا بڑا ہے کہ جس کے سایہ میں تیز رفتار سوار چاروں طرف سے سو سال چلتا رہے ، جنت والے اور بالا خانوں میں رہنے والے باہر نکل کر اس کے سایہ میں باہم گفتگو کریں گے ، بعض جنتیوں کو کھیل کی خواہش ہو گی اور دنیا کا کھیل یاد آئے گا ، اللہ تعالیٰ جنت سے ایک ہوا کو بھیجے گا وہ اس درخت کو ہلائے گی اور اس درخت سے دنیا کا ہر قسم کا کھیل جو دنیا میں ہوتا تھا نکلے گا۔ ” (ابن ابی الدنیا، ابن خزیمہ، حاکم، ترمذی)

مزید دیکھیں :   قرض سے نجات کیلئے ایک خاص وظیفہ


”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کی ہیں جن کو کسی آنکھ نے دیکھا ، نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی اس کا خطرہ یا خیال ہی گزرا ہے اور اگر تم چاہو تو قرآن کریم کی یہ آیت ترجمہ” اور لمبا سایہ ہو گا” اور جنت میں ایک کوڑے کی جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے اور اگر چاہو تو پڑھو قرآن کی یہ آیت جس کا ترجمہ یہ ہے ” پھر جو کوئی دور ہو گیا دوزخ سے اور داخل کیا گیا جنت میں اس کا کام تو بن گیا۔’

(ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، بخاری، مسلم)