رسول پاک کو ہجرت کا حکم

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم

جب ہجرت کا حکم آ گیا تو اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دعا بھی سکھائی، بہت ہی پیاری اور شیریں دعا
وَقُلْ رَّبّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْک سُلْطَانًا نَّصِیْراً۔ (بنی اسرائیل: ٨٠)
”اور دعا کرو، پروردگار! مجھ کو جہاں بھی تو لے جا ، سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال، اور اپنی طرف سے ایک اقدار کو میرا مددگار بنا۔ ”


مسلمان مظالم سہتے سہتے تنگ آ چکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ اُنہوں نے خفیہ مدینہ کا رُخ کیا۔ لیکن خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو ظالموں کا اصل نشانہ تھے ، اپنے لیے حکم خدا کا انتظار کرتے رہے کہ آقا کی اجازت ہو تو مکہ کو خیرباد کہیں۔ اور ان مخلص ساتھیوں سے جا ملیں جنہوں نے صرف اللہ کے لیے اپنا وطن چھوڑا تھا۔ اور انصار کے شوق ملاقات میں نہ مال کی پروا کی تھی ، نہ اولاد کی۔ انصار کون تھے؟ وہی خوش نصیب جنہوں نے آپۖ کی مدد کی تھی ، آپۖ کو حفاظت کی خدمات پیش کی تھیں۔ اور جنہوں نے دستِ مبارک میں ہاتھ دے کر راہِ خدا میں سرفروشی کا عہد کیا تھا۔اللہ مہاجروں کا بھلا کرے ۔ انہوں نے صرف خدا کے لیے کن کن نعمتوں سے ہاتھ دھویا اور کیسی کیسی چیزوں پر صبر کر لیا ۔ انصار کا بھی بھلا کرے، کہ انہوں نے دینی بھائیوں کو اپنے یہاں بلا کر انہیں اپنے گھروں میں ٹھہرایا۔ صرف اللہ کی خوشی کے لیے!بالآخر ہجرت کا حکم آ گیا اور آپۖ نے مدینہ کا ارادہ کرلیا۔ اس وقت قریش کی بھی سازش مکمل تھی اور سارا خاکہ تیار تھا۔ بات کیا تھی؟ مسلمانوں نے ہجرت کی تو انہیں دعوت کے لیے ایک میدان ہاتھ آ گیا۔ ہر طرف اسلام کا چرچا ہونے لگا۔ اور مسلمانوں کا زور بڑھنے لگا۔ قریشی نے یہ دیکھا تو بہت گھبرائے۔ انہیں محسوس ہوا کہ اب شامت سر پر منڈلا رہی ہے اور طرح طرح کے خطرے سر اٹھا رہے ہیں قریش و انصار میں نہایت زور دار جنگ کے بھی آثار نمایاں تھے۔ اس سے ان کے اور ہوش اُڑ گئے۔ سوچا کہ اس طرح تو ہمارا شام جانا بھی بند ہو جائے گا ، تجارت بالکل ٹھپ ہو جائے گی ۔ اور ہم دانہ دانہ کو ترس جائیں گے ۔ چنانچہ دار الندوة میں جمع ہوئے، کہ یہی ان کا ”مشاورت گھر” تھا۔ یہی سب لوگ سر جوڑ کر بیٹھے اور کوئی تدبیر سوچنے لگے جس سے اسلام کا سیلِ رواں رُک جائے اور چمنستان دین میں خاک اُڑنے لگے۔ لوگوں نے مختلف آراء پیش کیں:

ایک نے کہا:
”محمد کے ہاتھ پائوں میں زنجیریں ڈال دیں، پھر کسی مکان میں بند کر دیں۔”
دوسرا بولا:
”خدا کی قسم! اگر قید کیا، تو ہر طرف چرچا ہو جائے گا۔ پھر تو بہت بُرا ہو گا۔ مسلمان فوراً چڑھائی کر دیں گے۔ اور جب تک ہم سے اسے چھین نہیں لیں گے، دم نہیں لیں گے۔”
تیسرا بولا:
”محمد کا یہاں رہنا اچھا نہیں۔ کہیں دور دراز علاقہ میں چھوڑ آیا جائے۔ پھر وہ جہاں چاہے جائے، اور جس جگہ چاہے، رہے۔”
چوتھا بولا:
”یہ رائے تو بڑی بودی ہے۔ دیکھتے نہیں، وہ کیسی میٹھی میٹھی باتیں کرتا ہے۔ کتنے سلیقہ کی گفتگو کرتا ہے۔ منٹوں میں دل موہ لیتا ہے ۔ ایسا کرنے میں تو خطرہ ہی خطرہ ہے۔ یا تو وہ کسی دوسرے قبیلہ میں پہنچ جائے گا ۔ اور اپنی جادو بیانی سے انہیں ہمنوا بنا لے گا ۔ ورنہ مدینہ پہنچ جائے گا۔ اور وہاں پہنچا تو اور زیادہ خطرناک ہو گا۔ جاتے ہی وہ ساتھیوں کو ساتھ لے گا اور ہم کو پیس کر رکھ دے گا۔ ”
پھر آخر ہم کیا کریں؟ سب ایک ساتھ بول اٹھے۔ آوازوں سے گھبراہٹ اور مایوسی ٹپک رہی تھی ۔ ابوجہل بولا ایک شکل ہے،جو اب تک کسی نے نہیں سوچی۔
سب نے (بڑی بیتابی سے ) پوچھا:
”ارے، وہ کیا ابوالحکم؟”
اس نے کہا:
”میری رائے یہ ہے کہ پہلے ہم ہر قبیلہ سے ایک پہلوان اور شیر دل جوان چنیں۔ پھر ہر ایک کے ہاتھ میں تلوار دیں۔ اور سب ایک ساتھ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) پر ٹوٹ پڑیں۔ اس طرح اس کا کام تمام ہوجائے گا ۔ اور ہم کو ہمیشہ کے لیے آرام مل جائے۔ کیونکہ اس طرح خون تمام قبیلوں میں بٹ جائے گا اور ظاہر ہے کہ بنی ہاشم تمام قبیلوں کا مقابلہ تو نہ کر سکیں گے، مجبوراً خون بہا (یعنی سو اونٹ) پر ہی راضی ہو جائیں گے۔”
یہ رائے سب کو پسند آئی ۔ سب خوشی سے اچھل پڑے اور سب نے ابوجہل کو مبارک باد دی۔ ابوالحکم! سچ مچ رائے تو اسے کہتے ہیں۔
پھر مجلس برخاست ہو گئی ۔ اور اب ہر ایک خوشی سے ناچ رہا تھا، گویا محمدۖ دنیا سے چلے گئے۔ آپ ۖ کی دعوت کا نام و نشان مٹ گیا۔ آپۖ کی یاد بھی ذہنوں سے محو ہو گئی۔ آپۖ کی دعوت سے دنیا ناآشنا ہو گئی۔ اور اس پر گردش زمانہ کی تہیں پڑ گئیں۔ لوگ گئے۔ اور ان جوانوں کا انتخاب کرنے لگے ، جو محمد کا کام تمام کریں گے۔ اور ان تلواروں کا انتظام کرنے لگے ، جنہیں وہ جسم اطہر پر چلائیں گے۔
ترجمہ: ”اور وہ وقت یاد کرو جب کافر تمہارے بارے میں چالیں چل رہے تھے کہ تمہیں قتل کر دیں یا تمہیں جلاوطن کر دیں ۔ وہ اپنی چالیں چل رہے تھے۔ اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے عمدہ چال چلنے والا ہے۔ ” (انفال: ٣٠)
مشرکوں نے قتل کی اسکیم بنا لی اور اس کے لیے ہر ایک نے کمرکس لی ۔ کیونکہ اب تو خون سارے قبیلوں میں بٹ رہا تھا۔ اور چونکہ سارے قبیلے اس میں شریک ہو رہے تھے، آل ہاشم بدلہ بھی نہیں لے سکتے تھے۔ ادھرخدا کا نور خندہ زن تھا باطل کی لیاقت پراللہ کا فیصلہ تھا کہ آپۖ پر ذرا بھی آنچ نہ آئے۔ چنانچہ قریش کی تدبیر الٹی ہو گئی اور وہ خود اپنی سازش کا نشانہ بن گئے۔ اللہ نے آپۖ کی رہنمائی فرمائی اور وہ اپنا سا منہ لیے رہ گئے۔

مزید دیکھیں :   بیٹے کے انتظار میں بھٹکتی ماں

( محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم)