خیبر پختونخوا میں داعش نیٹ

سی ٹی ڈی کا خیبر پختونخوا میں داعش نیٹ ورک توڑنے کا دعویٰ

کائونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ حکام نے دیگر سکیورٹی اداروں کی مدد سے خیبر پختونخوا میں داعش کا نیٹ ورک توڑنے کا دعویٰ کر دیا، رواں سال 110 ہائی پروفائل دہشتگرد مارے گئے جبکہ 599 دہشتگرودں کو گرفتار کر کے 2397 کلو گرام سے زائد بارودی مواد، 206 ہینڈ گرنیڈ، 5 خودکش جیکٹس اور 31076 ڈیٹونیٹر بھی برآمدکئے گئے

یہ بھی پڑھیں: پشاور: ایک دن میں 6 وارداتیں، لاکھوں کا سامان، 4 گاڑیاں چوری

گزشتہ روز ڈی آئی جی سی ٹی ڈی جاوید اقبال نے سی ٹی ڈی ہیڈ کوارٹر میں صحافیوں کو سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ داعش کی بڑی کارروائیوں کا ارادہ تھا جسے کامیاب نہیں ہونے دیا گیا، ملاکنڈ میں دہشت کی علامت سمجھا جانے والا مکرم جس کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر تھی، سی ٹی ڈی کارروائی میں مارا گیا جبکہ 24 پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ابوبکر ڈی آئی خان میں منطقی انجام کو پہنچا، انہوں نے کہا کہ نئے قبائلی ضلع کو سی ٹی ڈی نے پاک فوج کی مدد سے فعال کیا، رواں سال دہشتگردی کا بڑا واقعہ داسو کا تھا تاہم داسو واقعہ میں انٹیلی جنس کے تعاون سے تمام دہشتگرد گرفتار ہوچکے

یہ بھی پڑھیں: ماں باپ کو گھر سے نکالنے پر ایک سال قید وجرمانہ ہوگا

پولیو اہلکاروں پر حملے کے چھ واقعات ہوئے، پشاور سی ٹی ڈی کے ساتھ پولیس مقابلوں میں آئی ایس کے تین بڑے گروپ مارے گئے اور دو درجن دہشتگرد گرفتارکئے گئے، رواں سال بھتہ خوری کے 44 مقدمات درج ہوئے جبکہ گزشتہ چار ماہ سے بھتہ خوری کا کوئی واقعہ نہیںہوا، سی ٹی ڈی نے رواں سال دہشتگردوں کیخلاف کئی بڑے آپریشن کئے جس سے دہشتگردی واقعات ناکام بنائے گئے۔ قبائل سمیت صوبے میں 237 دہشتگردی واقعات رونما ہوئے۔2021 میں 561 ایف آئی آر بھی درج کی گئیں اور مارے گئے 599 دہشتگردوں کے سر کی قیمت 20 کروڑ تھی، 2018 سوات آرمی ٹرینگ پر حملے میں تین دہشتگرد بونیر آپریشن میں مارے گئے، 105 کیسز میں موبائل چوری نیٹ ورک جو افغانستان دہشتگروں کی معاونت کرنے میں ملوث تھا پکڑا گیا، داعش کا بڑا ٹارگٹ پولیس اور پولیو پر تعینات سکیورٹی اہلکار رہے، دہشتگرد پولیو ورکرز اور پولیس کو ٹارگٹ کر کے سرمایہ کاروں کو خوف زدہ کرنا چاہتے ہیں تاہم دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے ان کی بھرپورکوششیں جاری ہیں۔

مزید دیکھیں :   صوبائی حکومت نے نیو پشاور ویلی کے ماسٹر پلان کوحتمی شکل دیدی