ایڈہاک ڈاکٹرز تنخواہوں سے محروم

ایڈہاک ڈاکٹرز 4 ماہ سے تنخواہوں سے محروم، مزاحمت کی دھمکی

ایڈہاک میڈیکل آفیسرز4ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ میڈیکل آفیسرز نے مستقل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی تحریک چلانے کی دھمکی دے دی ہے ۔ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ایڈہاک میڈیکل آفیسرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا ڈاکٹر جاوید ستار اور صوبائی ترجمان ڈاکٹر نوید فاروق وزیر نے کہا کہ دوسرے ممالک میں کورونا وباء کے دوران خدمات سرانجام دینے والے ہیلتھ ورکرز کو انعامات سے نوازا جا رہا ہے ۔ دوسری طرف ہماری حکومت ڈیڑھ سال سے ہمیں ذلیل و خوار کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ پچھلے 4 ماہ سے ہمیں تنخواہ سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے جو انتہائی افسوسناک اور باعث شرم ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: صوبائی محتسب آفس پر کروڑوں کا خرچ ، کارکردگی برائے نام

سب مسائل کی بڑی وجہ ریگولرائزیشن کا نہ ہونا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنوری 2020 کے دوران انٹرویوز کرتے ہوئے تقریبا 1500 سے زائد امیدواروں میں 1198 ڈاکٹرز کو انٹرویو اور اکیڈیمک ریکارڈ کی بنیاد پر کامیاب قرار دے کر کام شروع کرنے کی ہدایت کی گئی جن میں 1122 ڈاکٹرز نے پیشکش منظور کرتے ہوئے کام کا آغاز کر دیا۔ پہلے 6ماہ کیلئے کام کرنے کا کہا گیا جس میں 3ماہ تنخواہ بند رہی 956 ڈاکٹرز کو بہترین کارکردگی کی بنیاد پر توسیع دی گئی اور باقی کو غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنیاد پر ڈراپ کیا گیا۔ پھر دوسری توسیع آئندہ مہینوں کے لئے 809 ڈاکٹرز کو دی گئی۔ اور اس طرح سے 956 میں سے 809 کو تسلی بخش کارکردگی کی بنیاد دوسری توسیع دی گئی اور اس دوسری توسیع میں بھی ہم 4 ماہ تک بغیر تنخواہ کے کام کرتے رہے جو کہ 4 ماہ بعد ادا کی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فورا تنخواہیں جاری کی جائیں اور ملازمت کی مستقلی پر فوری عملی کام شروع کیا جائے اگر ہماری ریگولرائزیشن پر توجہ نہ دی گئی تو س بار مکمل ڈیوٹیوں کا بائیکاٹ کر کے کسی کو بھی اس اسمبلی میں آرام سے بیٹھنے نہیں دیں گے اور تب تک احتجاجی تحریک چلائیں گے جب تک ریگولرائزیشن نہیں کی جاتی۔