پشاور میں ٹی ایم ایز معامل

پشاور میں ٹی ایم ایز کے قیام کا معامل 7 ماہ بعد بھی حل نہ ہوسکا

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پشاور میں نئی ٹی ایم ایز کے قیام کا معاملہ حل نہ کیا جا سکا 7ماہ سے جاری کشمکش میں مزید تاخیر سامنے آگئی جس کے باعث تمام ٹائونز اور سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے امور ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے 17اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کیلئے 19دسمبر کو پولنگ ہو گئی تھی ان اضلاع میں پشاور بھی شامل تھی جس کی تمام 7تحصیلوں کیلئے انتخابات کئے گئے تاہم اب تک ان تحصیلوں کی ٹی ایم ایز کے قیام کا اعلامیہ جاری نہیں کیا جا سکا ہے جس کے بعد پشاور میں نیا بلدیاتی نظام معلق ہو کررہ گیا ہے جون سے شروع کئے گئے اس معاملہ کو دسمبر تک بھی حل نہیں کیا جاسکا ہے جبکہ اس حوالے سے سرکولیشن کی مدد سے کابینہ کی منظوری بھی حاصل کرلی گئی ہے تاہم اب تک پشاور میں کیپیٹل میٹروپولیٹن اور 5نئی ٹی ایم ایزیعنی متھرا، شاہ عالم، پشتخرہ، چمکنی اور بڈھ بیر کے قیام کا اعلامیہ جاری نہیں کیا جا سکا ہے ۔

ذرائع کے مطابق پشاور کی سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور تمام 4ٹائونز کو ختم کرکے نئی ٹی ایم ایز اور کیپیٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ قائم کی جائیگی اور اس معاملہ میں تاخیر کے باعث سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور تمام ٹائونز کے امور ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں تمام ملازمین و افسران ہر نئی صبح اس امید پر کرتے ہیں کہ نئی ٹی ایم ایز کے قیام کے ساتھ ہی انہیں نئی ذمہ داریاں تفویض کردی جائینگی تاہم 7ماہ کا انتظار اب بھی جاری ہے اور مزید بھی جاری رہنے کا امکان ہے غیر یقینی صورتحال کے باعث ٹی ایم ایز اور سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے تمام امور ٹھپ ہو کررہ گئے ہیں۔