تھانوں میں صفائی 3 دن الٹی

وزیر اعلیٰ نے تھانوں میں صفائی کیلئے 3 دن کا الٹی میٹم دیدیا

پشاور کے تھانوں میں صفائی کی ابتر صورتحال اور عملہ کی انتہائی خراب حالت میں رہائش پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتےہوئے چیف کیپیٹل سٹی پولیس کو تین روز کے اندر اندر تمام تھانوں کی حالت بہتر کرنے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے ۔

وزیر اعلیٰ محمود خان نے گزشتہ پیر کو پشاور کے مختلف مقامات پر دورے کے دوران تھانہ کابلی کا بھی دورہ کیا تھا اور ان کے دورہ کے موقع پر سٹیشن ہائوس آفیسر ( ایس ایچ او) غیر حاضر تھے تھانے میں صفائی کی ابتر صورتحال اور اہلکاروں کے رہائشی مقام پر گندگی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا،جگہ جگہ نسوار کی ( چونڈیاں) پڑی ہوئی تھی اس حوالے سے اب وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ نے چیف کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر کو ایک مراسلہ ارسال کردیا ہے جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تین روز کے اندر اندر پشاور کے تمام تھانوں میں صفائی کی صورتحال بہتر بنائیں اسی طرح ان تھانوں میں پولیس عملہ کے رہائشی مقام، لاک اپ اور واش رومز کو بہتر بنائیں اور تھانوں کو عملہ کیلئے رہائش کے قابل بناتے ہوئے تین روز کے اندر اندر رپورٹ وزیر اعلیٰ کو جمع کرائیں۔

یہ بھی پڑھیں:پشاور: باچا خان چوک میں 1000 کلو سے زائد مردہ مرغیاں برآمد

واضح رہے کہ پشاور کے تھانوں میں گندگی کا راج ہے، چند تھانوں کی تعمیر نو اور بحالی کر دی گئی ہے تاہم بیشتر تھانے آج بھی انتہائی گندے اور ابتر حالت میں ہیں تھانوں میں بنائے گئے کمروں میں بھی صفائی نہیں کی جاتی اور اکثر پولیس اہلکار اسی گندگی میں رہائش پر مجبور ہیں جس کے باعث پولیس اہلکار مختلف نفسیاتی مسائل سے بھی دوچار ہو گئے ہیں۔

دریں اثناء وزیر اعلی ٰ نے گزشتہ روز سوات کے دورے کے موقع پر یتیم اور بے سہارا بچوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت کے لئے قائم مرکز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یتیم اور بے سہارا بچوں سمیت معاشرے کے کمزورطبقوں کی سرپرستی اور فلاح و بہبود کو ریاست کی اہم ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرے کے کمزور طبقوں کی فلاح و بہبود وزیر اعظم عمران خان کے وژن اور پاکستان تحریک انصاف حکومت کے ایجنڈے کا اہم حصہ ہے اور صوبائی حکومت اس ایجنڈے کی تکمیل کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے۔ پناہ گاہوں اور لنگر خانوں کا قیام اور کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام سمیت دیگر فلاحی منصوبے اس ضمن میں موجودہ حکومت کے اہم اقدامات ہیں جو ریاست مدینہ کے طرز پر ایک اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کی طرف اہم قدم ہیں۔ یہ مرکز صوبائی حکومت کے تعاون سے اخپل کور فائونڈیشن نامی ایک نجی فلاحی تنظیم نے قائم کیا ہے جس میں سوات کے سینکڑوں بے سہارا اور یتیم بچوں کی مفت تعلیم وتربیت کے علاوہ ان کی مفت رہائش کا بہترین انتظام کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری محکمے پیسکو کے 2 ارب روپے کے نادہندہ نکلے

اپنے خطاب میں وزیر اعلی نے کہا یتیم اور بے سہارا بچے حکومت اور ریاست کے بچے ہیں جن کی کفالت اور تعلیم و تربیت حکومت وقت کی ذمہ داری ہے، اس مقصد کے لئے صوبائی حکومت نے پشاور میں زمونگ کور کے نام سے اسٹیٹ آف دی آرٹ مرکز قائم کیا ہے جبکہ بنوں، کوہاٹ اور سوات سمیت بھی اس طرح کے مراکز قائم کئے جارہے ہیں جہاں پر بے سہارا اور یتیم بچوں کو مفت رہائش کی سہولت کے علاوہ ان کی تعلیم و تربیت کا بھی انتظام موجود ہوگا تاکہ ان بچوں کو معاشرے کا کارآمد شہری بنایا جاسکے۔ علاقے میں یتیم اور بے سہارا بچوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت کے سلسلے میں اخپل کور فاونڈیشن کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیر اعلی نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت ایسے فلاحی اداروں کی ہر ممکن معاونت جاری رکھے گی اور ان کی بھر پور حوصلہ افزائی کرے گی جو معاشرے کے بے آسرا اور کمزور طبقوں کی فلاح و بہبود کے لئے مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں۔

اس موقع پر وزیر اعلی کو اخپل کور مرکز کے تحت یتیم اور بے سہارا بچوں کو مفت فراہم کی جانے والی رہائش، تعلیم و تربیت اور دیگر سہولیات اور فا ئونڈیشن کی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعلی نے مرکز کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا، وہاں پر زیر تعلیم بچوں سے ملے اور ان میں تحفے تحائف تقسیم کئے۔ وفاقی وزیر مراد سعید، صوبائی وزیر محب اللہ اور دیگر بھی وزیر اعلی کے ہمراہ تھے۔