مزدور کی مدد، عزت نفس کے احترام کیساتھ

ساری دنیا اس وقت کرونا کے وائرس کیساتھ نبردآزما ہے، اس کا کوئی علاج دریافت ہوسکا اور نہ حفاظتی تدابیر کیلئے کوئی ویکسین، اب واحد حل پرہیز ہی ہے اور پرہیز بہت موثر ہتھیار کے طور پر استعمال رہی ہے۔ کرونا وائرس رنگ نسل، امیر غریب اور مشرقی ومغربی دنیا کا تفریق کئے بغیر یکساں اثر کر رہا ہے اور مرنے والوں میں سب کے سب شامل ہیں، صرف اور صرف وہی شخص یا قوم اس موذی مرض سے بچ سکی ہے کہ جو احتیاط بلکہ بہت زیادہ احتیاط اختیار کئے ہوئے ہے اور کاروبار ومزدوری چھوڑ چھاڑ کر گھر میں بیٹھا ہوا ہے۔ یہ کاروبار اور مزدوری تو زندگی کیساتھ ہے اگر زندگی رہی تو نیا کاروبار اور نئی نوکری یا مزدوری مل ہی جائے گی لیکن خدا ناخواستہ زندگی اس موذی کرونا وائرس کی وجہ سے ختم ہوگئی تو پھر یہ سب کچھ یہیں رہ جائے گا۔
گھروں پر رہنے سے سب سے زیادہ نقصان مزدور طبقے کا ہوا ہے کیونکہ جس کا کاروبار ہے وہ اس وباء کے بعد پھر سے شروع کرسکتا ہے جس کی نوکری لگی ہوئی ہے اس کا زیادہ سے زیادہ یہ خطرہ ہے کہ ان دنوں کی تنخواہ کاٹ لی جائے گی تاہم نوکری برقرار رہے گی لیکن یہ مزدور طبقہ جو دیہاڑی دار طبقہ ہے اس کو تو ہر طرح سے نقصان ہے کیونکہ اس کے پاس تو کسی قسم کی جمع پونجی بھی نہیں لہٰذہ وہ بہت زیادہ متاثر ہورہا ہے۔
اب صاحب ثروت لوگوں کی زمہ داری ہے کہ ان لوگوں کی دل کھول کر مدد کریں۔ زکواة، خیرات سے اور صدقہ کی رقم سے ان کی مدد بہت ضروری ہے۔ اس دنیا میں مخیر حضرات کی کمی نہیں اور نہ ہی ان کے خرچ کرنے میں کچھ کمی ہے، اس سے پہلے بھی دنیا میں کہیں بھی مصیبت آئی ہے صاحب ثروت لوگوں نے تن من دھن کی دل کھول کر غریبوں کی مدد کی ہے۔ اس بات کا میں ذاتی طور پر چشم دید گواہ ہوں کہ جب 2005ء میں پاکستان میں زلزلہ آیا تھا تو ساری دنیا کے مخیر حضرات نے دل کھول کر امداد کی اور کھانے کی اشیائ، ٹینٹ اور ادویات اتنی بھجوائیں کہ ٹرکوں کے ٹرک کشمیر اور بالاکوٹ کی طرف رواں دواں تھے۔ میں ایک امدادی گروپ کیساتھ بالاکوٹ گیا وہاں پر میری ذمہ داری طبی ٹیم کو لاجسٹک سپورٹ بہم پہنچانا تھا میں اپنے ساتھ سارا ساز وسامان پشاور سے لیکر گیا تھا میرے ساتھ ڈاکٹروں کی ٹیم، پیرا میڈیکل سٹاف کیساتھ ساتھ معاون سٹاف بھی تھا ان افراد کیلئے تین گاڑیاں بھی تھیں اور ساتھ ساتھ ان کے رہنے کیلئے ٹینٹ، کھانے کا سامان بلکہ کھانا پکانے کا سامان بھی موجود تھا۔
میں اپنے ساتھ ٹرک بھر کر ادویات بھی لیکر گیا تھا لیکن بدقسمتی سے بالاکوٹ شہر میں کوئی زی روح زندہ نہیں بچا تھا اسلئے میں ہم ایک ہفتہ گزارنے کے باوجود کسی ایک شخص کی بھی مرہم پٹی نہ کرسکے بلکہ کسی ایک کو کوئی ایک سر درد کی گولی تک نہ دے سکے۔ ہماری طبی ٹیم نے پہاڑوں پر چڑھ کر لوگوں کو بتایا کہ نیچے شہر میں آپ کیلئے بہت سے لوگ ڈھیروں ادویات اور راشن لائے ہیں، آپ جاکر لے لیں لیکن ان غیرت مند لوگوں نے ہماری بات نہ مانی۔ اس سے لگ رہا تھا کہ وہ بھوکوں مرجائیں گے لیکن عزت نفس کا سودا نہیں کریں گے۔
اگلی صبح ہم نے واپسی کا پروگرام بنایا جب ہم جانے کیلئے تیار ہوئے تو بیس پچیس لوگوں کا ایک ٹولہ ہمارے پاس آیا اور مختلف بیماریوں کا ذکر کیا، میری ٹیم تو جذبۂ حب الوطنی سے سرشار جیسے انہی کے انتظار میں تھی سب نے تیاری پکڑی لیکن جلد ہی ہمارے سپیشلسٹ ڈاکٹروں کو حیرت ہوئی کہ ان میں سے تو کوئی بھی زخمی نہیں جس کا صاف اور واضح مطلب تھا کہ یہ لوگ زلزلہ زدگان میں سے نہیں ہیں بلکہ آس پاس کے گاؤں سے چالاک پیشہ ور گداگر تھے۔ ڈاکٹروں نے پھر بھی انسانی ہمدردی کے تحت انہیں مختلف ادویات دیں۔ میری ٹیم میں سے کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ یہ ادویات انہیں دیکر خالی ہاتھ پشاور جاتے ہیں۔ تاہم اکثریت کی رائے یہ تھی کہ یہ چیزیں پشاور کے لوگوں نے ہمیں حقیقی ضرورت مندوں کو دینے کیلئے ہماری ذمہ داری میں سونپی ہیں وگرنہ پشاور شہر تو ان پیشہ ور گداگروں سے بھرا پڑا ہے۔
یہاں اتنی لمبی تمہید کا مقصد یہ تھا کہ آپ میں سے کئی اس مشکل وقت میں اپنے غریب طبقہ کی مدد کرنے کے جذبہ سے سرشار لاکھوں روپے اور راشن وغیرہ دینے کیلئے تیار ہیں لیکن یاد رہے کہ یہ پیسے اور راشن صرف اور صرف حقداروں تک پہنچنا چاہئے ناکہ پیشہ ور گداگروں یا چالاک ومکار لوگ انا کا حق مار لیں اور ضرورت مند مزدور اپنی عزت نفس کو سنبھالتے ہوئے گھر میں ہی بیٹھا رہے۔ ہمیں کوشش کرکے محنت کرکے ان لوگوں کے محلے داروں کی مدد سے ان کے گھروں تک یہ امداد پہنچانی ہے اور اتنے عزت واحترام سے پہنچانی ہے کہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ اس کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہمارے ساتھ دفتروں اور کارخانوں میں کئی لوگ گاؤں سے آتے ہیں اور کئی شہر کے گنجان آباد اور غریب علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں ایسے وقت میں ہمیں ان لوگوں کی خدمات لینی ہیں اور ان کی ڈیوٹی لگانی ہے کہ وہ حقیقی مزدوروں اور ضرورت مندوں کی نشان دہی کریں کیونکہ یہ لوگ ان مزدوروں، چھابڑی فروشوں کو اچھی طرح جانتے ہیں ان کے گھر کے حالات سے واقف ہیں، یوں ہماری زکواة وخیرات حقیقی ضرورت مندوں تک پہنچے گی اور اللہ پاک ہم سے راضی ہوجائے گا۔